رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ڈھلتی رات سرگوشیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ سے اس معاملے پر بات کی۔ آپﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ دیگر ازواج نے ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آپﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ سب نے انھیں دوبارہ بات کرنے کا کہا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ان کے پاس گئے تو انھوں نے آپﷺ سے یہی بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی اسے کوئی جواب نہ دیا۔ ازواج مطہراتؓ نے ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ آپﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ انھوں نے پھر اصرار کیا کہ تم اس وقت تک آنحضرت سے بات کرتی رہو جب تک آپﷺ تمھیں کوئی جواب نہیں دیتے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنی باری پر ان کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے پھر آپﷺ سے وہی بات کی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’تم مجھے عائشہ کے معاملے میں اذیت نہ دو۔ کیونکہ جب میں کسی اور بیوی کے بستر میں ہوتا ہوں تو میرے پاس وحی نہیں آتی لیکن جب عائشہ کے پاس ہوتا ہوں تو فرشتہ وہاں بھی وحی لے کر پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ملتجیانہ انداز میں گڑگڑا اٹھیں کہ اے اللہ کے رسول! میں آپﷺ کو تکلیف دینے پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں۔

پھر اس کے گروپ کی ازواج نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی بیٹی سیّدہ فاطمہ زہراء ( یہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کی دادی بنو ہاشم سے تھیں الزہراء ان کا لقب ہے۔ جنت میں تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں، بعثت نبوی سے کچھ عرصہ پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل صرف انھیں سے جاری ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد ان کی وفات ہوئی اور آپﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کے اہل و عیال میں سے سب سے پہلے یہی فوت ہوئیں۔ (فضائل فاطمۃ الزہراء للحاکم۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 53 رضی اللہ عنہا کو اس بات کے لیے تیار کیا۔ چنانچہ انھوں نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ آپﷺ سے کہیں کہ آپﷺ کی بیویاں اللہ کے واسطے آپﷺ سے ابوبکر کی بیٹی (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے معاملہ میں عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ سے یہ بات کہہ دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے بیٹی! جو مجھے پسند ہے کیا تجھے پسند نہیں؟‘‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں، بالکل ایسا ہی ہے۔ وہ ازواج کے پاس واپس گئیں اور انھیں ساری بات بتائی۔ انھوں نے کہا: تم دوبارہ جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرو تو انھوں نے دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔

پھر انھوں نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ وہ آپﷺ کے پاس آئیں اور نہایت درشت لہجہ میں آپﷺ سے مخاطب ہوئیں، وہ کہنے لگیں: آپﷺ کی بیویاں آپﷺ سے ابن ابی قحافہ کی بیٹی کے معاملے میں اللہ کے واسطے عدل و انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں۔ چنانچہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے غصے کا رخ جلد ہی ان کی طرف ہو گیا۔ زینب رضی اللہ عنہا نے انھیں بھی خوب سخت باتیں کہیں۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پرامید نگاہوں سے دیکھنے لگے کہ کیا یہ بولتی ہے کہ نہیں۔ بقول راوی چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی لب کشائی کر لی اور ترکی بہ ترکی زینب رضی اللہ عنہا کو ایسے تسلی بخش جواب دئیے کہ انھوں نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ وہ کہتی ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور فرمایا: ’’آخریہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔‘‘ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا۔

(صحیح بخاری: 2581)

جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ محبت کا یہ انداز صحابہ رضی اللہ عنہم کے علم میں تھا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو بھی بخوبی علم تھا۔ اس کی واضح دلیل روزہ دار کے بوسہ لینے کے مسئلہ میں ابی قیس کی روایت ہے۔

ابو قیس سے روایت ہے:

’’مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے یہ مسئلہ پوچھوں کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے؟ اور اگر وہ نفی میں جواب دے تو ان سے کہنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔

بقول راوی میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے ہوئے بوسہ لیتے تھے؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا۔

راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں کو بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بوسہ لیا ہو کیونکہ آپﷺ کو اس کی محبت پر ضبط نہیں تھا۔ بہرحال میرے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا۔‘‘

(مسند احمد: جلد 44 صفحہ 98، حدیث: 26691۔ شرح معانی الآثار: للطحاوی: جلد 2 صفحہ 93 حدیث: 3395۔ اور قصہ کے بغیر اصل روایت (صحیح مسلم: حدیث: 1106) میں ہے

3۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

’’وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور اسے یوں مخاطب کیا۔ اے بیٹی! تو اس عورت کے معاملہ میں کبھی دھوکا نہ کھانا جس کے حسن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے پسند کر لیا۔ ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے باپ کی اس نصیحت کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپﷺ مسکرا دئیے۔‘‘

(صحیح بخاری: 5218۔ صحیح مسلم: 147)

صحابہ رضی اللہ عنہم کو ان (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید محبت کا اس قدر یقینی علم تھا کہ (ان) عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشنودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک سفارش کا ذریعہ بن گئی۔

صفحہ 3 از 4