رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ڈھلتی رات سرگوشیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تو نہ سوچا تھا کہ جو تکلیف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہنچنے والی ہے وہ پہنچے گی۔ چونکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور سیدہ عائشہ کو ایک تھپڑ جڑ دیا اور ان کے سینے پر ہاتھ مارا۔ اس وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابوبکر! آج کے بعد میں کبھی بھی اس کے بارے میں تم سے معذرت نہیں کروں گا۔‘‘

(صحیح ابن حبان: 4185۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے (السلسلۃ الصحیحۃ: 2900) میں صحیح کہا ہے۔ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی بیویوں کے متعلق اختیار دیا کہ آپﷺ انھیں کہیں کہ جو آپﷺ کو اختیار کرنا چاہے تو اس کی مرضی ہے اور جو آپﷺ سے علیحدہ ہونا چاہے تو بھی ٹھیک ہے۔ اس ضمن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جو بات چیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوئی اس میں بھی آپ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شدید محبت کا اظہار نظر آتا ہے۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ابتداء کی اور فرمایا: ’’میں تمھیں ایک بات کہنا چاہتا ہوں تو تم اس معاملے میں اپنے والدین کے ساتھ مشورہ کرنے سے پہلے جلد بازی مت کرنا۔‘‘

(بخاری: 2468۔ مسلم: 1479)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپﷺ سے جدا ہونے کا مشورہ ہرگز نہیں دیں گے۔‘‘

(احکام القرآن للقرطبی: جلد 14 صفحہ 163)

علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ علماء کہتے ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے والدین سے مشورے کا حکم اس لیے دیا کیونکہ آپﷺ کو اندیشہ تھا کہ کہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرط جذبات میں آ کر مجھ سے جدائی کا فیصلہ نہ کر لے۔ جہاں تک ان کے والدین کا تعلق تھا تو وہ دونوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپﷺ سے علیحدگی کا مشورہ کسی صورت میں نہ دیتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1389۔ صحیح مسلم: 2443)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت کو تھامے رکھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں اپنی تمام بیویوں سے مشورہ کر کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کو اپنا مستقر بنا لیا اور آپﷺ نے اپنے آخری سانس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود مبارک میں پورے کیے۔ انھی کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا۔

چنانچہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ام المومنینؓ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محبت کی شعاعیں کائنات کے اطراف و اکناف تک پھیل گئیں۔ بلکہ آفاق کو اس محبت کی کرنوں نے عبور کر لیا۔ جس کے نتیجے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حصے میں حمد و ثنا اور اذکار جمیلہ کی کثیر تعداد آئی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس قدر جلال و تکریم کا سلوک ہوا جو ان کی شایانِ شان تھا اور تاریخ اسلامی میں ان کو وہی مقام ملا جس کی وہ مستحق تھیں۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپﷺ کی اس محبت سے بخوبی آگاہ تھے جو آپﷺ کو اپنی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی۔ اسی لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایا اور تحائف دینے کے لیے اس دن کا انتظار کرتے جس دن آپﷺ کی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوتی۔

1۔ صحیح حدیث جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:

’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے دو گروپ تھے۔ ایک گروپ میں سیدہ عائشہ، حفصہ اور سودہ رضی اللہ عنہن تھیں تو دوسرے گروپ کی قائد ام سلمہ (یہ ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ ام سلمہ قرشی مخزومی رضی اللہ عنہا ہیں۔ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل ہے۔ یہ حبشہ کی طرف ہجرت میں شامل تھیں۔ پھر مدینہ منورہ کی ہجرت بھی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت احادیث روایت کی ہیں۔ یہ تمام امہات المؤمنینؓ میں سے آخر میں 62 ہجری کے لگ بھگ فوت ہوئیں۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 2 صفحہ 129۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 8 صفحہ 150) رضی اللہ عنہا تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر تمام بیویاں ان کے گروپ میں تھیں۔ 

جبکہ تمام صحابہ کرامؓ کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بے پناہ محبت تھی۔ جیسا کہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تحفہ لانا چاہتا تو وہ اسے اس دن تک مؤخر کر دیتا جس دن آپﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوتے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گروپ میں شامل ازواج مطہرات نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس سلسلے میں گفت و شنید کی اور انھیں اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں کہ آپﷺ لوگوں کو حکم دیں کہ تم میں سے جو کوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تحفہ دینا چاہے وہ وہیں آپﷺ کے لیے بھیج دے جہاں آپﷺ ہوں اور صرف مخصوص دن کا انتظار نہ کرے۔

صفحہ 2 از 4