چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ…

چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

’’ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کی نیت سے روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام ’’سرف‘‘ پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا: ’’تم کیوں رو رہی ہو؟‘‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میری تمنا تو یہ ہے کہ میں اس سال حج نہ کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شاید تیرے ایام شروع ہو گئے ہیں؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ آپ فرمانے لگے: ’’یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔ (علامہ زرکشی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: آپ ذرا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایام کے موقعہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر غور تو کریں: یعنی ’’یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی سب بیٹیوں پر لکھ دی ہے اور جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے ایام شروع ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا اس نے ہمیں محبوس کر دیا؟ ‘‘دونوں مواقع پر فرق کتنا واضح ہے۔ (الاجابۃ: صفحہ 52۔ فتح الباری: جلد 3 صفحہ 589) میں دونوں مقامات کی مناسبت تحریر کی گئی ہے۔ 

تم اسی طرح کرو جیسے حجاج کریں گے سوائے اس کے کہ پاک ہونے تک بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔‘‘

(صحیح بخاری: 305۔ صحیح مسلم: 1211)

اور ایک روایت میں ہے کہ:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ’’تجھے کوئی نقصان نہیں تو اپنے حج کو جاری رکھ۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے نصیب میں عمرہ کر دے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1788۔ صحیح مسلم: 1211)

’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایام ختم ہو گئے اور بیت اللہ کا طواف کر لیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سب تو حج اور عمرہ کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے جاؤں گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ مقام ’’تنعیم‘‘ پر جائے تو تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایام حج کے بعد ذوالحجہ میں عمرہ ادا کیا۔‘‘

(صحیح بخاری: 7230)

ایک روایت میں ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خو تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب کسی چیز میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس چیز کے حصول کے لیے ان کی دلچسپی کو پورا کرتے۔ بشرطیکہ وہ دین میں نقص کا باعث نہ ہو۔ (امام نووی فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نرم خو ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جب وہ دین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی دلچسپی کا اظہار کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پورا کرتے۔ جیسا کہ اس موقع پر عمرہ کی خواہش۔ (شرح مسلم: جلد 8 صفحہ 160)

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو ان کے ساتھ بھیجا تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مقام تنعیم پر جا کر عمرہ کا احرام باندھا۔‘‘

(صحیح مسلم: 1213)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’ایک دن مجھے سر درد ہو گیا تو میں نے کہا: ’’ہائے میرا سر۔‘‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلکہ ہائے میرا سر۔‘‘

(سنن ابن ماجہ: 1206۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 228، حدیث: 25950۔ سنن دارمی: جلد 1 صفحہ 51، حدیث: 80۔ اس کا اصل صحیح بخاری میں ہے۔ (حدیث: 5666)

علامہ بدر الدین الزرکشی ( یہ محمد بن بدر بن عبداللہ ابو عبداللہ زرکشی ہیں۔ اصول فقہ کے عالم شافعی المذہب، ہمیشہ علم و عمل سے وابستہ رہے۔ 745 ہجری میں پیدا ہوئے۔ 794 ہجری میں فوت ہوئے۔ (البحر المحیط) اس سے پہلے کسی نے ایسی کتاب نہ لکھی اور (البرہان فی علوم القرآن، وغیرہ) (الطبقات الشافعیہ لابن قاضی شہیر: جلد 5 صفحہ 67۔ شذرات الذہب: لابن العماد: جلد 6 صفحہ 334)رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’اس روایت کے ان الفاظ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہا درجے کی موافقت کا اشارہ پنہاں ہے۔ یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا درد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی محسوس کیا۔ گویا آپﷺ نے اپنی سچی محبت کا اظہار فرمایا اور ان کے درد کو اپنا درد قرار دیا۔‘‘

(الاجابۃ لا یر او ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ: للزرکشی: صفحہ 69)

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ہائے میرا سر‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زبان اقدس سے یہ فرمانا: ’’بلکہ ہائے میرا سر‘‘ یعنی تم سے زیادہ میرے سر میں تکلیف ہے۔ تم تو میری وجہ سے پرسکون ہو جاؤ اور شکوہ مت کرو اور یہاں یہ مسئلہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی تھیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سب بیویوں سے زیادہ محبت انھی کے ساتھ تھی۔ جب انھوں نے اپنے سر کی شکایت آپﷺ کے سامنے رکھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں گویا ہوئے کہ ان کے محبوب کو بھی انھی جیسی تکلیف ہے اور یہ کسی محبوب کی اپنے محبوب کے ساتھ حد درجہ کی موافقت ہے جو ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشی و فرحت میں شریک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب محبوبہ کے جسم کا کوئی حصہ درد محسوس کرتا ہے تو اس کے محبوب کا بھی وہی عضو بیمار پڑ جاتا ہے اور یہ سچی اور پاکیزہ محبت کی لاثانی مثال ہے۔

چونکہ پہلے معنیٰ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ نصیحت فرمائی کہ تم اپنی تکلیف کی شکایت نہ کرو اور صبر کرو کیونکہ جو تکلیف تمھیں ہے وہ مجھے بھی ہے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر اور عدم شکایت کے ذریعے انھیں ہمدردی جتائی۔

دوسرے معنیٰ کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے لیے سچی محبت کا اعلان ہے، یعنی تم اپنے ساتھ میری شدید محبت کا اندازہ کرو۔ میں نے تمہارے سر درد اور تمہاری تکلیف میں تمہارے ساتھ کس طرح ہمدردی کا اظہار کیا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ میں تندرست رہوں اور تم بیمار ہو جاؤ۔ بلکہ جو چیز تمھیں دکھ پہنچائے وہ مجھے دکھ پہنچاتی ہے اور مجھے بھی وہی چیز خوش کرتی ہے جو تمھیں خوش کرے۔ بقول شاعر:

’’مخلوق میں سے جو تیرے دکھ میں شریک ہو تو اس کی خوشی میں بھی شریک بن جا۔‘‘

(کتاب الروح لابن القیم: صفحہ 258)

صفحہ 3 از 4