چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ…

چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا: ’’تو سیر ہو چکی ہے؟‘‘ تو میں کہتی: اے اللہ کے رسول ! آپﷺ جلدی نہ کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے ان کے کھیل میں ذرا دلچسپی نہ تھی لیکن میں عورتوں کو دکھانا چاہتی تھی کہ میرے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مرتبہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری کیا قدر و منزلت ہے۔‘‘

(السنن الکبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 307، حدیث: 8951۔ مسند أبی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 248، حدیث: 4830۔ شرح مشکل الآثار للطحاوی: جلد 1 صفحہ 268۔ اسے ابن قطان رحمہ اللہ نے (احکام النظر: حدیث: 360) کے ضمن میں صحیح کہا اور البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 7 صفحہ 818) پر اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی خواہش کی تکمیل تک کھڑے رہنا آپﷺ کے دل میں ان کی بلند قدر و منزلت کی دلیل ہے اور یہ کہ آپﷺ ان سے کس قدر والہانہ محبت کرتے تھے۔ یہ ممکن تھا کہ آپﷺ انھیں ان کے کھیل کا مشاہدہ کرنے کی مہلت دیتے اور خود تبلیغ رسالت کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے وہاں سے چلے جاتے۔ انھیں کسی مناسب جگہ پر کھڑا کر دیتے تاکہ وہ حبشیوں کے کھیل سے لطف اندوز ہوتیں اور یہ بھی ممکن تھا کہ آپﷺ اس کے قریب کھڑے ہو جاتے۔ بجائے ان کے آپﷺ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اپنا مبارک کندھا رکھے رہتے اور وہ آپﷺ کے کندھے پر سر ٹیک کر اپنے قیام کو طویل کرتی رہتیں اور یہ بھی ممکن تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے چلے جاتے اور ان کے اختتام کھیل کا انتظار نہ کرتے۔ بلکہ زیادہ مناسب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہی تھا کہ آپﷺ آغاز میں کچھ دیر وہاں رہتے پھر امت کی حاجات کے لیے آپﷺ وہاں سے چلے جاتے۔

لیکن یہ سارے امکانات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حق کے سامنے معدوم تھے، چونکہ:

1۔ یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے لیے محبت کی عظیم گواہی ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔

2۔ وہاں تا دیر قیام دوسری گواہی ہے۔

3۔ حالت قیام تیسری گواہی ہے۔

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے کندھے کا سہارا فراہم کر کے تادیر وہاں جمے رہنا چوتھی گواہی ہے۔

5۔ ان کی نوعمری کی رعایت اور آپﷺ کا محبت بھرا صبر اور آپﷺ کا شفقت بھرا انداز جیسے متعدد گواہ ہیں ۔

یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلتوں سے لبریز ہے جن کی کوئی انتہا نہیں کہ تمام مخلوقات سے افضل ہستی کے دل میں ہماری امی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی کیا قدر و منزلت تھی۔ اللّٰہم صلی علی محمد و آل محمد۔

اسی طرح عید کی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کھیل کود کے لیے فرصت مہیا فرماتے۔ اس میں خود بھی شامل ہو جاتے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میرے پاس دو لڑکیاں جنگ بُعاث ( جنگ بُعاث: اسلام سے پہلے انصار کے درمیان جو جنگ ہوئی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 392) کے اشعار گا رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی بستر پر دراز ہو گئے اور اپنی کروٹ بدل لی۔ اسی اثنا میں میرے والد محترم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹنے لگے اور کہنے لگے: شیطان کی بانسریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیوں؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’تم انھیں کچھ نہ کہو۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہٹ گئی تو میں نے ان دونوں لڑکیوں کو ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا۔ وہ دونوں جلدی سے نکل گئیں۔‘‘

(بخاری: 949۔ مسلم: 892)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ شدت محبت کی وجہ سے ان کی دلچسپیوں کا ہمیشہ خیال رکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کھیل میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھی، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقابلہ میں دوڑنے کے لیے کہا اور چند قدموں میں ہی آپﷺ سے آگے بڑھ گئی پھر جب میں زیادہ گوشت کی وجہ سے بھاری ہو گئی تو آپﷺ کے ساتھ پھر دوڑ کا مقابلہ کیا چنانچہ آپﷺ مجھ سے آگے نکل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ اس دن کا بدلہ ہے۔‘‘

(سنن ابی داود: 2578۔ سنن ابن ماجہ: 1623۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 39، حدیث: 24164۔ السنن الکبری للنسائی: جلد 5 صفحہ 304، حدیث: 8943۔ صحیح ابن حبان: جلد 10 صفحہ 545۔ ح:  4691۔ المعجم للطبرانی: جلد 23 صفحہ 47، حدیث: 125۔ البیہقی: جلد 10 صفحہ 17، حدیث: 20252۔ اس حدیث کو ابن الملقن نے (البدر المنیر: جلد 9 صفحہ 42) میں، العراقی نے (تخریج الاحیاء: صفحہ 482)، البانی رحمہ اللہ نے (صحیح سنن ابی داود) وادعی نے (الصحیح المسند: 1631) میں صحیح کہا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوشی کے متمنی رہتے اور ان کی محسوسات کی ہمیشہ رعایت کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں :

صفحہ 2 از 4