رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کے نمونے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

سیدہ عائشہ فرماتی ہیں: جب لوگوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو ان کے پاس اس (قبیلے) کے جتنے قیدی مرد و خواتین تھے انھوں نے سب کو آزاد کر دیا اور وہ کہنے لگے یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار ہیں۔ تو ہم نے اپنی قوم کے لیے اس خاتون سے زیادہ کوئی بابرکت خاتون نہیں دیکھی، جس کے سبب بنو مصطلق کے سینکڑوں گھرانوں میں رہنے والوں کو آزادی ملی۔‘‘

(أبو داود: 3933۔ مسند احمد: 26408۔ سنن الکبری للبیہقی: جلد 9 صفحہ 74۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ابی داؤد میں صحیح کہا ہے۔ ابن القطان نے (احکام النظر: صفحہ 153) پر اسے حسن کہا ہے۔)

10۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت طلب کرتے وقت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انداز یاد آ گیا۔ آپکے چہرے پر خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات سے نمایاں ہوئے اور فرمایا: ’’’’اے اللہ! یہ تو ہالہ ہے۔‘‘سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رقابت کی آگ میں جل اٹھی۔ چنانچہ میں نے کہہ دیا: آپﷺ قریش کی ایک سرخ باچھوں والی بوڑھی کو ہر وقت کیوں یاد کرتے ہیں جبکہ اسے فوت ہوئے ایک زمانہ بیت گیا ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بدلے میں اچھی عورتیں عطا کر دی ہیں۔

(صحیح بخاری: 3821۔ صحیح مسلم: 2437)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں:

’’مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے اتنی رقابت یا غیرت محسوس نہیں ہوئی جتنی غیرت و رقابت مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے محسوس ہوتی تھی۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ساتھ شادی سے پہلے وہ فوت ہو چکی تھیں۔ لیکن میں کثرت سے آپﷺ کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر کہ اس نے سیدہ خدیجہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی تھی کہ جنت میں اس کا گھر ایک موتی سے بنا ہوا ہے (قَصَبًا: کھوکھلا موتی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 67) اور اگر آپﷺ بکری ذبح کرتے تو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں (خلائلہا: خلیلۃ کی جمع بمعنی ’’سہیلی"۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 2 صفحہ 72۔ کو ان کی ضرورت کے مطابق گوشت کا تحفہ بھیجتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 3816۔ صحیح مسلم: 2435)

چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غیرت کا بنیادی سبب جانتے تھے اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اکثر معاملات میں درگزر سے کام لیتے۔ لیکن جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے شرعی حدود سے تجاوز کا امکان ظاہر کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً انھیں مناسب و احسن انداز میں تنبیہ بھی کر دیتے۔ اس بات کی عمدہ مثال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی صحیح حدیث ہے آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’میں نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اتنا ہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفیہ کا پست قد ہونا نہیں کھلتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَقَدْ قُلْتِ کَلِمَۃً لَوْ مُزِجَتْ بِمَائِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْہُ۔

(سنن ابی داؤد: 4875۔ ترمذی: 2502۔ ابن دقیق العید نے اسے (الاقتراح: صفحہ 118) پر صحیح کہا اور علامہ شوکانی نے (الفتح الربانی: جلد 11 صفحہ 5593) پر صحیح کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ’’صحیح سنن ابی داؤد‘‘ میں اسے صحیح کہا ہے۔

’’بے شک تم نے تو اتنی کڑوی بات کہی ہے کہ اگر یہ بات سمندر کے پانی میں مل جائے تو اس کی کڑواہٹ سمندر کے پانی پر غلبہ پا لے۔‘‘


صفحہ 5 از 5