رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کے نمونے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

’’ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا، میں نے سوچا کہ شاید آپﷺ اپنی کسی اور بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ میں نے آپﷺ کو تلاش کیا۔ پھر اپنے حجرے کی طرف لوٹ کر آئی تو آپﷺ(مسجد میں ) رکوع یا سجدے میں یوں دُعا کر رہے تھے: (اے اللہ !)میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ تو میں نے اپنے دل میں کہا: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان۔ میں کیا سوچ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو شان ہی نرالی ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: 485)

6۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے کہا

’’کیا میں تمھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے بارے میں ایک حدیث نہ سناؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں! انھوں نے بتایا: جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے پاس تھی، آپﷺ مسجد سے واپس آئے تو اپنے جوتے اُتار کر آپﷺ نے اپنے پاؤں کے درمیان رکھ دیے اور اپنی اوڑھنی لی، پھر آہستہ سے دروازہ کھولا اور آپﷺ باہر نکل گئے، پھر اسے آہستہ سے بند کیا۔ میں نے اپنی قمیص پہنی، سر پر چادر لی اور اپنا تہہ بند باندھا اور آپﷺ کے پیچھے چل پڑی۔ بالآخر آپ بقیع الغرقد (قبرستان اہل مدینہ) میں آئے۔ آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار بلند کیے اور طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے۔ میں بھی واپس پلٹ آئی۔آپ تیز تیز چلنے لگے، میں بھی مزید تیز چلنے لگی۔آپﷺ دوڑنے لگے، میں بھی دوڑنے لگی۔ بہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حجرے میں داخل ہو گئی۔ میں ابھی بستر پر لیٹی تھی کہ آپﷺ بھی حجرہ میں داخل ہوئے اور فرمانے لگے: اے عائش! کیا بات ہے، سانس کیوں پھولا ہوا ہے۔

راوی حدیث: سلیمان کہتا ہے:میرا خیال ہے، آپ نے حَشْیًا کہا۔ (اس کو کہتے ہیں جو دمہ کا مریض ہو اور اس کا سانس آجا رہا ہو)ساتھ ہی آپﷺ نے فرمایا: تم مجھے بتادو، یا مجھے وہ لطیف و خبیر ضرور بتائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان۔ میں نے آپﷺ کو پوری بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے آگے جو سایہ تھا وہ تم تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، (اللَّہَد: سینے میں زور سے دھپا لگانا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر: جلد 4 صفحہ 434) جس سے مجھے درد کا احساس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ گمان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہہ دیا: لوگ چاہے جتنا بھی چھپائیں بے شک اللہ تعالیٰ اسے ضرور بتلا دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ایسا ہی ہے۔‘‘

(امام نووی رحمہ اللہ نے اس ’’ہاں‘‘ کا قائل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قرار دیا ہے کہ جب انھو ں نے اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی گو اہی دی، ساتھ ہی خود کہا: ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ اسی طرح مصادر حدیث میں ہے اور یہی مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 7 صفحہ 44) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس جملے کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے استفہامیہ انداز قرار دیا ہے کہ وہ ایسے مسئلے کے بارے میں دریافت کر رہی ہیں جو وہ نہیں جانتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی لاعلمی کا عذر قبول کیا۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جی ہاں (نعم) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان قرار دیا۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ رحمہ اللہ: جلد 11 صفحہ 412) 

بے شک جب تم نے مجھے دیکھا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور تم نے چونکہ اپنے کپڑے رکھ دیے تھے اس لیے وہ تمہارے سامنے نہ آئے، انھوں نے مجھے پکارا۔ میں نے ان کی پکار پر لبیک کہا اور اپنی پکار کو تم سے مخفی رکھا۔ میں نے سوچا کہ تم سو چکی ہو گی اور تمھیں جگانا مناسب نہ سمجھا۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم ڈر جاؤ گی، جبریل علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ میں اہل بقیع کے پاس آؤں اور ان کے لیے استغفار کروں۔"

(صحیح مسلم: 974)

7۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک جنازہ پڑھا کر میری طرف تشریف لائے۔ اس وقت مجھے سر درد ہو رہا تھا اور میں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلکہ ہائے میں میرا سر۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمھیں کیا نقصان ہے اگر تم مجھ سے پہلے مر گئی تو میں تمھیں غسل دوں گا اور تمھیں کفن پہناؤں گا۔ پھر تمہاری نماز جنازہ پڑھوں گا اور تمھیں دفن کر دوں گا؟ ‘‘میں بول اٹھی: لیکن میں یا میرے ساتھ (راوی کو شک ہے) اللہ کی قسم! اگر آپ ایسا کچھ کریں گے تو جب آپ میرے گھر میں لوٹ کر آئیں گے تو اپنی کسی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بیماری نے آ لیا جس میں آپﷺ فوت ہوئے۔

(سنن ابن ماجہ: 1206۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 228، حدیث: 25950۔ سنن دارمی: جلد 1 صفحہ 51، حدیث: 80۔ اس کا اصل صحیح بخاری میں ہے۔ حدیث: 5666)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم الہٰی اپنی بیویوں کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ رہیں اور چاہیں تو دنیاوی زیب و زینت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ہو جائیں ۔ چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

’’جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلکہ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں تو ساتھ ہی کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے یہ بھی درخواست کروں گی کہ میرا جواب آپ اپنی کسی بیوی کو نہ بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان میں سے جو بیوی بھی پوچھے گی میں اسے ضرور بتاؤں گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بنا کر مبعوث نہیں کیا۔ بلکہ اس نے مجھے سہولتیں بہم پہنچانے والا معلم بنا کر مبعوث کیا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: 1474)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فوائد حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

صفحہ 3 از 5