رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کے نمونے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

غیرت آنا عورت کی طبیعت میں راسخ ہوتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے اس کے خاوند کے ساتھ دلی محبت کی دلیل ہے۔ خصوصاً جب کسی خاوند کی متعدد بیویاں ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی غیرت والی طبیعت کی مالکہ تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں فوراً غیرت میں آجاتیں بالفاظ دیگر رقابت میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا۔

ایک دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو غیرت (یعنی رقابت) محسوس ہوتی ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فی البدیہہ کہا: مجھے کیا ہے کہ مجھ جیسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے پر غیرت نہ کھائے۔‘‘

(اسے مسلم نے روایت کیا ہے، حدیث: 2815)

ذیل میں ہم کچھ احادیث جمع کرتے ہیں جن کا لب لباب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیرت کی وضاحت ہے:

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک بار قرعہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا (یہ سیدہ حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہا ہیں۔ قبیلہ بنو عدی سے تھیں۔ یہ بھی ام المؤمنینؓ ہیں اور مہاجرہ ہیں، یہ کثرت صوم و قیام کی وجہ سے مشہور تھیں۔ 45ھ میں وفات پائی۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 84۔ الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 581) کے نام نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے برابر اپنا اونٹ چلاتے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوران سفر باتیں کرتے جاتے۔ تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج رات تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ی کرتی ہوں تاکہ تم بھی نئے مناظر دیکھ سکو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رضا مندی ظاہر کر دی اور وہ ان کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ان کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ چنانچہ حسب معمول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس تشریف لائے، جب کہ اس پر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سوار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سلام کیا۔ پھر قافلہ چلتا رہا، بالآخر پڑاؤ کے مقام پر پہنچ گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کو تلاش کرنے لگیں، لوگوں کے پڑاؤ کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دونوں پاؤں اذخر (جنگلی گھاس) میں رکھ لیے اور یوں دعا کرنے لگی: اے میرے رب! تو مجھ پر بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے میری طاقت نہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق کچھ کہہ سکوں۔"

(صحیح بخاری: 5211۔ صحیح مسلم: 2445)

2۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے تو کسی ام المؤمنینؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک برتن میں کھانا بھیجا۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خادمہ کے اس ہاتھ پر ہاتھ مارا جس میں کھانے والا برتن تھا۔ تو وہ پیالہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کے ٹکڑے جمع کیے، پھر جو کھانا اس پیالے میں تھا، آپﷺ نے وہ اس پیالے میں ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خادمہ کو روک لیا اور آپﷺ کے گھر میں جو پیالہ تھا وہ اسے دے دیا اور صحیح پیالہ اس کی طرف بھیج دیا جس نے کھانا بھیجا تھا اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس کے گھر رکھ دیا جس نے اسے توڑا تھا۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 5225)

3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنینؓ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر شہد پیتے تو میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے باہمی مشاورت کی کہ ہم دونوں میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ مجھے آپﷺ سے مغافیر ( مغافیر: ایک درخت سے بہنے والی گوند جس کا ذائقہ تو شیریں ہوتا ہے لیکن بو بہت تیز ہوتی ہے۔ (غریب الحدیث لابن قتیبہ: جلد 1 صفحہ 314۔ لسان العرب: جلد 7 صفحہ 350)کی بُو آتی ہے۔‘‘ کیا آپﷺ نے مغافیر کھایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سے کسی ایک کے پاس گئے تو اس نے یہی بات آپﷺ سے کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے تو زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب کبھی نہ پیوں گا۔ تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَـكَ‌ تَبۡتَغِىۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ۞ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ۞ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا‌ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ ۞ (سورہ التحريم آیت 1 تا 4)

صفحہ 1 از 5