اسلحہ کے میدان میں شیعی اور اسرائیلی تعاون کا ثبوت - ردِ…

اسلحہ کے میدان میں شیعی اور اسرائیلی تعاون کا ثبوت

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 2

ماہِ جنوری 1983ء میں ایران نے لاکھوں کی تعداد میں گولے ہزار سے زائد وائرلیس سیٹ اسرائیل سے خریدے تھے یہ اطلاع پوسٹن اخبار نے دی تھی اسی طرح ماہِ جولائی 1983ء میں ایک تجارت کی خبر منظر عام پر آئی جو 136 ملین ڈالر کی تھی یہ اسلحہ آہستہ آہستہ لوڈ کیا گیا تھا یہ سارے کا سارا امریکی فیکٹریوں میں تیار شدہ تھا اور اسے سوائے اسرائیل کے دوسروں کو سپلائی کرنے پر پابندی تھی یہ پہلے اسرائیل نے حاصل کیا آگے ایران بھیج دیا اور مزید اسرائیل نے اپنی طرف سے طیارہ شکن میزائل اور جنگی جہازوں کا اضافہ کر کے ایران کو دیئے ہیں یہ خبر "الیپورن سیون" نے شائع کی ہے جو کہ فرانس کا دائیں بازو کا اخبار ہے اس کی تائید و اسرائیلی اخبارات "یڈھوٹ احرونوٹ" اور "ہاآرٹس" نے بھی کی ہے جنوری 1983ء میں ایک سالانہ اخبار شائع ہوا ہے اس میں امورِ خارجہ اور دفاع سے متعلقہ معلومات بیان ہوئی ہیں اس میں لکھا ہے کہ وہ میزائل جنہیں فروخت کرنا ممنوع ہے وہ اسرائیل نے ایران کو سپلائی کیے ہیں اور F۔14 آٹو میٹک طیارے ایران میں کم تھے اسرائیل نے پورے انتظامات کے ساتھ خفیہ طیاروں کے ذریعے ایران بھیجے ہیں۔ 

اخبار "اشٹیرم" نے جو کہ المانیہ سے شائع ہوتا ہے مارچ 1984ء میں اس تجارت کی تفصیلات بیان کی تھیں کہ یہ اسلحہ اسرائیلی فضائی طیاروں کے اوپر رکھا گیا اور "سوریہ" کے راستہ سے اسے ایران پہنچایا گیا۔ وہ معاہدہ جو اسرائیلی فوج اور ایرانی فوج کے درمیان طے پایا تھا ان کے انکشاف سے یہ پتہ چلا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان خفیہ تعاون ہے 1977 میں ایرانی وزیرِ دفاع جس طوفانیاں اور اسرائیل کے صباروخ کے درمیان میں معاہدہ طے ہوا تھا اسرائیل کے وزیر خارجہ یہودی ڈیفید لیفی نے واضح کہا تھا جسے " ہاآرٹس" اخبار نے نقل کیا ہے جو کہ یہودی اخبار ہے 1۔6۔1977 میں یہ وزیر کہتا ہے اسرائیل نے ایک دن بھی یہ بات نہیں کہی کہ ایران اس کا دشمن ہے یہودی صحافی اروی شمحونی کہتا ہے:

ایران ایک ایسی سلطنت ہے اس میں ہمارے بہت زیادہ مفادات ہیں اور یہ حادثات کے وقت بہت زیادہ مؤثر ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ ایران کو دھمکیاں ہماری طرف سے نہیں آتیں بلکہ اس کے پڑوسی عرب ممالک اسے دھمکی دیتے ہیں اسرائیل ایران کا قطعاً دشمن نہیں اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ (معاریف 23۔9۔1997)۔

حکومتِ اسرائیل نے ایک فیصلہ جاری کیا ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان ہر قسم کا فوجی اور تجارتی اور زرعی تعاون بند کرنے کے متعلق ہے یہ پابندی ایک راز کے کھل جانے کی وجہ سے لگائی گئی تھی ایک آدمی جو یہودی نمائندہ تھا کیمیائی سامان ایران بھیجتا تھا یہ اسرائیل کے لیے بڑی رسوائی کا معاملہ تھا اس کے خارجی تعلقات اس سے متأثر ہوئے تھے تل ابیب کی عدالت نے بتایا کہ اس یہودی نمائندہ نے 50 ٹن سے زیادہ کیمیائی مواد ایران بھیجا تھا ایک یہودی وکیل نے جس کا نام امنون زخرونی ہے نے پہلی خلیجی جنگ میں بہت سارا اسلحہ ایران منتقل کیا تھا (اخبار شرق اوسط شمارہ 7359)۔

ایک بہت بڑی کمپنی جو موشیہ ریجیف کے تحت چلتی ہے یہ اسرائیلی فوجی قیادت کو اسلحہ کی ترسیل کا کام کرتا تھا اسکی کمپنی نے 1992 اور 1994ء میں اسلحہ کے پرزے اور فنی معلومات ایران تک پہنچانے کی ذمہ داری لی تھی اس تعاون کا انکشاف "موشے" جو کہ اس کمپنی کا بڑا ہے اور بیالوجی اور اسلحہ کے ایرانی وزیرِ دفاع ڈاکٹر ماجد عباس کے درمیان طے پانے والے معاہدوں سے ہوا ہے جس کی اطلاع "هاآرٹس" یہودی اخبار نے شائع کی اور اخبار "شرق اوسط" نے بھی اپنے (7170) شمارے میں بیان کی تھیں۔

اسی طرح اخبار "الحیاة " شمارہ (13070) میں ذکر کرتا ہے کہ موساد جو کہ اسرائیلی تنظیم ہے یہ کیمیائی مواد ایران کو سپلائی کرتی ہے اور ایک یہودی صحافی "یوسی مان" کہتا ہے کہ یہ بات یقینی ہے کہ ایران نے اسرائیل سے بہت زیادہ اسلحہ لیا ہے اسرائیل اس کے آلاتِ جنگ پر حملہ نہیں کر سکتا حالانکہ ایران اس کے باوجود زبانی طور پر اسرائیل کو اپنا دشمن باور کراتا ہے یہ بات اخبار "الانباء" شمارة (7931) میں کہتا ہے اسی طرح وکیل "رویڑے" نے (1۔7۔1986) میں کہا تھا: جنوبی لبنان میں جب یہودی اور صیہونی طاقتیں اس کے زشہر "النبطیہ" میں داخل ہوئیں تو ان کا مقصد شیعی مقامات اور اسلحہ کی حفاظت کرنا تھا۔

شیعی لیڈر حیدر دایخ خود اعتراف کرتا ہے:

ہم تو اسرائیل سے بس سلام دعا تک ہی تعلق میں رہنا چاہتے تھے لیکن اسرائیل نے ہمارے لیے اپنے دونوں بازو کھول دیئے اور اس نے ہم سے بھر پور تعاون کرنا چاہا اور جنوبی لبنان سے فلسطینی خود دور کرنے میں اسرائیل نے ہماری بھر پور مدد کی ہے۔

اس صحافی رویٹر کی ملاقات اس شیعی لیڈر حیدر سے (1983۔10۔24) میں ہوئی تھی ہفتہ وار اخبار العربی)۔

ایک اسرائیلی وزیر زراعت نے کہا تھا لبنانی شیعوں اور اسرائیل کے درمیان علاقہ میں امن قائم رکھنے کے لیے شیعوں اور اسرائیل کے تعلقات غیر مشروط ہیں اسی لیے فلسطینی لوگ جو تحریک جہاد اور حماس کے حمایتی ہیں ان کا اثر و رسوخ توڑنے کے لیے اسرائیل شیعہ عناصر کی مکمل رُو رعایت کرتا ہے اور ان شیعوں سے اس نے مفاہمت کر رکھی ہے۔ (یہودی اخبار معاریف 1997۔9۔8)۔


صفحہ 2 از 2