قاتلین عثمان میں سبائی گروہ کا براہ راست ملوث ہونا اور ابن…

قاتلین عثمان میں سبائی گروہ کا براہ راست ملوث ہونا اور ابن سبا کا خفیہ کردار!

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 4

فائل کا صفحہ نمبر 22 ، کمال کی بات لکھی جناب نے ، لکھتے ہیں *جب تک کسی صحیح السند روایت سے تصریح نا ہو ، کوئی کیسے کسی کو قاتل ٹھہرا سکتا ھے؟ یہ منصف مزاجی تو نہیں ہے ۔*  بہترین بات یہی میرا مطالبہ تھا کہ محترم آپ نے صحیح السند روایت کا اصول بھی سختی سے اپنایا ہوا ہے اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ صحیح روایت کی تصریح کے بغیر کسی کو قاتل کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔  لیکن *ساتھ یہ بھی دعویٰ ہے کہ حضرت عثمان کے قاتل سبائی بدمعاش تھے جن کا پشت پناہ ابن سباء تھا تو آپ اپنے ہی اصول اور معیار انصاف پر رہتے ہوئے یہ موقف صحیح السند روایات سے ثابت کر دیں جس کا آپ نے شروع میں دعوی بھی کیا کہ آپ کے دعوے اور موقف پر آپ کے پاس صحیح السند روایات موجود ہیں ، اوپر پیش کیا جا چکا ہے*

 جعفر صادق: آپ کو مزید کچھ کہنا ہے؟ یا میں جوابات شروع کروں؟

    رانا محمد سعید شیعہ : ثبوت مکمل کرنے دیں ابھی اور بھی ہیں، صبر و تحمل رکھیں۔

  جعفر صادق:  ثابت یہ دعویٰ کرنا ہے، اگر میں نے واقعی  کیا تھا! خود کو سچا ثابت کریں۔

 رانا محمد سعید شیعہ : آپ دس بجے ہی حاضر ہوئیے گا۔

   صبر رکھیں ہر چیز کا تسلسل ہے مکالمے میں اور اسی تسلسل سے چیزیں سامنے آئیں گی محترم۔

 صفحہ نمبر 23 ، موصوف کو پتا ہے کہ جب یہ ھینکی پھینکی کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہا کا غصہ آتا ہے اور پھر میں ان کو کچھ تحفے بھیجتا ہوں ان کی ھینکی پھینکی کے وزن کے مطابق ۔ یہاں موصوف نے موضوع کو ڈی ریل کرنے کیلئے پینترا بدلا اور کہنے لگے آپ بضد ھو کہ قاتلین کا نام و نسب ولدیت اور فلاں فلاں چیز صحیح السند سے دکھائی جائے *(حالانکہ خود انہوں نے یہ اصول رکھا کہ صحیح السند روایت ہو قاتلین کو ثابت کرنے کیلئے  اور یہ بھی کہا  کہ صحیح روایت کی تصریح کے بغیر کیسے کسی کو قاتل کہا جا سکتا ہے یہ انصاف کے خلاف ہے)* جبکہ شیعہ کلینی کے مکمل احوال دکھانے سے بھی قاصر ہیں (فرار کی کوشش تاکہ اصل موضوع سے کسی طرح نکلا جا سکے) اور رانا سعید اس کو تلخ کر کے دوسری طرف پھیرا جا سکے ۔

 

 فائل کا صفحہ 24 میرا دعویٰ قریشی صاحب پر صاف اور شفاف ثابت ہو رہا ہے حالانکہ میں نے پورا بیک گراؤنڈ بھی بطور ثبوت پیش کر دیا ہے۔ 

 انہوں نے شیخ کلینی پر بات کی جس پر میں نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ موضوع پر رہو اور دو چیزوں پر بات کرو ،

⬅️ *اول ۔ حضرت عثمان کے قتل کا الزام لگاتے ہو صحیح السند سے ثابت کرو ،

 دوم ۔ ڈھائی ہزار (سبائی) بدمعاشوں والی کہانی صحیح روایات سے ثابت کرو*۔ موصوف نے جواب میں کہا 

⬅️ *میں سبائی گروہ اور ملعون ابن سباء پر بھی روایات دوں گا*

 

 

یہاں تک کی گفتگو کا خلاصہ

⬅️ *1 ۔ حضرت عثمان کے قاتل سبائی گروہ اور ابن سباء تھا۔* صفحہ نمبر 2,5,18,22,24

⬅️ *2 ۔ قریشی صاحب اور ان کا مسلک ضعیف روایات پر ایمان نہیں رکھتا, کسی بھی ثبوت کیلئے صحیح السند روایت ھو۔* صفحہ نمبر 2,3,4,5,8,9,13,14,20,22,24

⬅️ *3 ۔ جب تک صحیح السند روایت میں تصریح نا ملے کسی کو قاتل نہیں ٹھہرایا جا سکتا، یہ منصف مزاجی نہیں ھے۔* صفحہ 22

*سب گفتگو کی روشنی میں قریشی صاحب پر لازم ہوا کہ وہ صحیح السند روایات کی روشنی میں ابن سباء اور سبائی گروہ کو حضرت عثمان کا قاتل ثابت کریں گے جس کو انہوں نے گفتگو کے دوران کئی مقامات پر اصول بنایا اور دعوی کیا ، اور صفحہ 24 پر واضح طور پر میرے مطالبے پر حسب دعوی صحیح روایات پیش کرنے کا کہا ۔*

    میں یہاں پر فی الحال اینڈ کر رہا ہوں ، میرے حق میں یہ کافی و شافی ہے ۔ البتہ مزید ضرورت پڑی تو پیش کروں گا ۔

(پی ڈی ایف کے 17 پیجز رکھنے کے بعد آخر میں رانا سعید شیعہ خود کہہ رہا ہے کہ سنی مناظر پر لازم ہوا کہ وہ صحیح السند روایات کی روشنی میں ابن سبا اور سبائی گروہ کو قاتلین عثمان ثابت  کرے! اورگروپ میں آتے ہی ،  جھوٹ بول کر ایک  دعویٰ  منسوب کیا تھا ، اس دعویٰ  کو کسی  ایک پیج سے دکھانے میں ناکام رہا!)

 جعفر صادق: ممبرز دیکھ سکتے ہیں کہ شیعہ رانا صاحب کو صرف وہ دعویٰ میری طرف سے ثابت کرنا تھا جہاں *ابن سبا کو صحیح روایات سے قاتل عثمان یا معاون قاتل* ثابت کرنے کی بات بیان کی گئی ہو۔ وہ سبائی گروہ دکھاتے رہے اور اس سے مراد ابن سبا سمجھاتے رہے!!

کیا وہ اپنے قول میں سچے ثابت ہوئے؟

  دنیا جہاں ایک کر لی لیکن میرا یہ دعویٰ کسی ایک جواب سے دکھانے میں ناکام رہے۔ جھوٹے آدمی کی یہی پہنچان  ہوتی ہے کہ ہزار باتیں کہہ کر سچا ہونے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔


صفحہ 4 از 4