قاتلین عثمان میں سبائی گروہ کا براہ راست ملوث ہونا اور ابن…

قاتلین عثمان میں سبائی گروہ کا براہ راست ملوث ہونا اور ابن سبا کا خفیہ کردار!

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4

فائل کا صفحہ نمبر 9 ، صحیح السند روایت کے اصول کی گردان جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں *صحابہ کے ناموں کے متعلق آپ ایک بھی صحیح روایت پیش کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ، مجھ سے صحیح روایت کا مطالبہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے پاس ککھ بھی نہیں ہے* 

⬅️ خود ہی اصول بنایا کہ قاتل کیلئے روایت صحیح السند ہو 

(حقیقت: قاتل کے لئے نہیں صحابہ کے لئے صحیح روایت کا کہا تھا)

جب وہی مطالبہ فریق مخالف نے کیا تو فرمانے لگے کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے پاس ککھ بھی نہیں ہے ۔ *گویا صحیح السند کا اصول صرف اور صرف اپنے حق میں ہے ،مخالف کو یہ حق نہیں کہ صحیح السند کا مطالبہ کرے* ۔  

(حقیقت:اسی پی ڈی ایف میں تین قاتلین کے نام صحیح روایات سے ثابت کئے گئے تھے!)

رانا سعید شیعہ کی طرف سے دو مختلف باتوں کو ایک کرنے کی کوشش!

1:قاتلین عثمان۔۔ہزاروں میں تھے، کسی ایک کا تعین ممکن نہیں۔

2:قاتلین عثمان۔۔ ایک بھی صحیح روایت سے کوئی صحابی قاتل ثابت نہیں ہوتا۔

دیکھتے رہیں آگے ابھی بہت کچھ ہے    

فائل کا صفحہ نمبر 13 ، صحیح روایت کے اصول کو دہراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ *ایسی کوئی صحیح روایت ہے ہی نہیں جس میں کسی خاص کو قاتل عثمان کہا گیا ہو* 

(پہلے یہی مؤقف بتایا گیا تھا لیکن  دوران گفتگو مزید تحقیق کی گئی توتین قاتلین کے نام صحیح روایات سے سامنے آگئے)

جبکہ خود انہوں نے *اصول طے کیا کہ قاتل ثابت کرنے کیلئے صحیح السند روایت لازم ہے اور ساتھ میں یہ دعوی بھی یاد رکھیں کہ قاتل سبائی بدمعاش گروہ تھا*  مزید صحیح السند روایت کے اصول کی گردان مسلسل جاری ہے کمنٹس کو غور سے پڑھ لیں ۔

 *بار بار کہہ رہے کہ کسی صحیح السند سے ثابت نہیں کہ قاتل صحابی تھے حالانکہ میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ سوال یہ نہیں کہ کون نہیں تھا سوال یہ ہے کہ کون تھا اور یہ قریشی صاحب نے اپنے صحیح السند کے اصول پر رہتے ہوئے بتانا تھا یہی میرا مطالبہ تھا* 

⬅️ کیونکہ اصول ہے صحیح السند روایت۔

فائل کا صفحہ نمبر 14 موصوف فرمانے لگے کہ ہمارے درمیان اختلافی نقطہ ہے کیا ، میں عرض گزار تھا کہ سادہ سا سوال ہے کہ *حضرت عثمان کے قاتلین کے نام بتا دیں (اصول انہی کا چلے گا روایت صحیح السند ہو) جبکہ موصوف فرما رہے ہیں کہ کسی صحابی کے متعلق قاتل ہونے کی صحیح السند روایت موجود نہیں ۔ جبکہ میرا سوال یہ نہیں کہ صحابی ہے یا نہیں میرا مطالبہ ہے کہ صحیح السند روایت جو کہ آپ نے خود اصول طے کیا اسی کے مطابق قاتل پیش کر دیں*۔ 

⬅️ یاد رہے ان کا دعوی ہے کہ قاتل سبائی تھے اور اصول ہے صحیح السند روایت ➡️

(نوٹ: اگر کسی قاتل کا تعین صحیح روایات سے نہ ہو تو کیا یہ دلیل ہے کہ  کسی بھی صحابی  کو  حضرت عثمان کا قاتل مان لیا جائے؟جبکہ صحابہ کے متعلق ایک بھی صحیح روایت موجود نہیں!)

قاتلین عثمان کے تین نام ثابت کئے گئے!رانا سعید شیعہ کا إقرار

 فائل کا صفحہ نمبر 18 ، موصوف نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ *قاتل سبائی بدمعاش تھے* پھر انہوں نے روایات دیں کہ جس میں تھا کئی لوگوں نے حملہ کیا جس میں تین نام سرفہرست تھے (یاد رہے ان کا دعویٰ شروع سے ہی یہ تھا کہ سبائی بدمعاش تھے) جس پر میں نے ان پر دوبارہ سوال دہرایا کہ مکتب دیوبند کے لوگ جو دن رات مالک اشتر اور ابن سباء پر قتل عثمان کا بہتان لگاتے ہیں وہ جھوٹ ہے ؟ 

جس پر موصوف نے ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ *ابن سباء پیٹھ پیچھے چھرا گھونپنے والا تھا باقی سب اسی کے سکھائے ہوئے تھے* جس پر میں نے دوبارہ ان کو انہیں کا بنایا ہوا أصول

 ⬅️ *صحیح السند روایت* ➡️ یاد کرواتے ہوئے کہا کہ قاتل کا نام پتا اسی اصول پر رہتے ہوئے دے دیجئے ۔ جس پر موصوف نے سیخ پا ھو کر محدثین کی طرف گولہ باری شروع کر دی کہ تم کلینی کا نام پتا بتاؤ اس کا بتاؤ اسکا بتاؤ ۔ میں بدستور اپنے مطالبے پر قائم ہوں کہ جس میں اصول ان کا ⬅️ *صحیح السند روایت* ➡️   اور دعوی ان کا ⬅️ *قاتل سبائی گروہ اور پشت پناہ ابن سباء* ➡️ یہ ثابت کرنا تھا۔

 فائل کا صفحہ نمبر 20 ، میں یہاں ان کی کتب سے کچھ صحابہ کے متعلق نقل کر چکا تھا جن کے متعلق انکے جرح و تعدیل اور صحابہ کے حالات لکھنے والے محدثین نے ان کو 

قتل عثمان میں ملوث قرار دیا تھا ، میں نے نقل کیا اور کہا کہ یہ آپ کی کتب کے مطابق مشہور ہے کہ یہ یہ قاتل تھے اور یہ صحابی تھے ۔ موصوف نے کہا *مشہور ہونا سچ کی علامت کب سے ہو گیا* گویا دوبارہ اصول دہرایا کہ صحیح السند روایت سے ثابت کرو *اہل علم بھی اگر کسی چیز کے متعلق ذکر کریں تو جب تک صحیح السند روایت نا ہو قابل قبول نہیں ہے*

 ⬅️ قارئین۔۔ ان کی گفتگو کو ذہن میں رکھیئے گا ۔ اصول صحیح السند کا ، اہل علم چاہے جتنا بھی ذکر کریں بغیر سند کے ھو تو مقبول نہیں ، اور دعوی ہے ان کا *قاتل سبائی گروہ اور پشت پناہ ابن سباء*

 

فائل کا صفحہ نمبر 21 ، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپکے آئمہ نے جو جرح و تعدیل پر کتب لکھیں اور صحابہ کے حالات پر جو کتابیں لکھی ہیں ان میں کسی کے بارے رائے دینا ایک الگ چیز ہے اور صرف روایت نقل کر دینا ایک الگ چیز ہے ۔ وہ اپنی رائے میں کچھ صحابہ کو حضرت عثمان کا قاتل لکھ گئے ہیں ، چلیں کچھ دیر آپ کا موقف ہی مان لیتے ہیں کہ محدثین کا صحابہ کو  حضرت عثمان کا  قاتل لکھنا درست نہیں ۔  قاتل صحیح السند روایت سے ہی ثابت ہوگا تو آپ پیش کریں صحیح السند روایت سے قاتل ، موصوف کہنے لگے کہ بالفرض صحیح السند روایت سے کوئی بھی قاتل ثابت نا ہو تو صحابہ کو قاتل کیسے قرار دے سکتے ہیں؟  (میرا موقف ان کے محدثین کی رائے پر تھا نا کہ ذاتی) *اسی لئے میں کہہ رہا تھا کہ آپ صحیح السند روایت سے قاتل پیش کر دیں آپ کا دعوی ہے قاتل سبائی گروہ تھا پشت پناہ ابن سباء تھا اور اصول ہے صحیح السند روایت سے ثبوت*

 

صفحہ 3 از 4