سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عقیق یمانی سے بنا ہوا ایک قیمتی ہار بھی تھا جسے وہ موقع کی مناسبت سے پہن لیتی تھیں۔
(جزع ظِفار: سیپ، گھونگے وغیرہ جو یمن کے ساحلوں پر ملتے تھے۔ ظفار:ںیمن کا ایک ساحلی شہر۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 1 صفحہ 269۔ فتح الباری: جلد 1 صفحہ 151)
جس کا ذکر قصۂ افک میں مفصل بیان ہوا ہے۔
(دیکھیے واقعۂ افک)
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے:
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میں نے پیتل کی بالیاں اور سونے کی انگوٹھیاں پہنے ہوئے دیکھا۔‘‘
(صحیح بخاری میں دوسرا جزو حدیث: 5880 سے پہلے معلق مذکور ہے اور الطبقات الکبریٰ: جلد 8 صفحہ 70 میں ابن سعد نے موصول ذکر کیا ہے۔)