ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2
سیدنا حارثہ بن نعمانؓ ایک صحابی ہیں، ان کے مسجدِ نبوی کے قریب کئی مکانات تھے، نبی کریمﷺ کسی سے نکاح فرماتے تو سیدنا حارثہؓ اپنا ایک مکان نبی کریمﷺ کی خدمت میں پیش فرما دیتے۔ آپﷺ کا نکاح جب سیدہ حفصہؓ سے ہوا تو سیدنا حارثہؓ نے ایک مکان آپﷺ کے سپرد فرمایا۔ شادی کے بعد آپؓ کو جو مکان ملا وہ مسجدِ نبویﷺ کے مشرقی جانب تھا۔
نبوی گھرانے کی تربیت:
سیدہ حفصہؓ کو اپنے والد سیدنا عمر فاروقؓ کے گھرانے سے جو اعلیٰ اوصاف وراثتاً ملے ان میں جرات، حق گوئی، معاملہ فہمی، دور اندیشی، نکتہ آفرینی، زورِ خطابت اور فصاحت و بلاغت تھے۔ نبی کریمﷺ کی نگاہ میں چونکہ خواتین کی تعلیم و تربیت بھی ضروری ہے اس لیے آپﷺ نے سیدہ حفصہؓ کی تعلیمی صلاحیتوں میں مزید نکھار لانے کے لیے خصوصی اہتمام فرمایا۔ نبی کریمﷺ نے ایک پڑھی لکھی خاتون سیدہ شفا بنتِ عبداللہ عدویہؓ کو مقرر فرمایا کہ وہ سیدہ حفصہؓ کی تعلیمی حالت میں مزید بہتری لائیں۔ چنانچہ انہوں نے آپؓ کو مزید پڑھایا لکھایا اور زہریلے کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے کا دم بھی سکھلایا۔
خواتین کے حقوق:
زمانہ جاہلیت میں عرب کی معاشرتی اقدار اس قدر گر چکی تھیں کہ انسانیت اچھائی و بھلائی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی۔ بالخصوص اُس دور میں مردوں اور خواتین کے درمیان جن امتیازی رویوں نے جنم لیا اس سے صنِف نازک اپنی حیثیت کھو بیٹھی تھی۔ ایسے میں نبی کریمﷺ نے اپنی تعلیمات اور عملی رویوں کے ذریعے عرب کے امتیازی رویوں کو شکست دی۔ آپ کے گھرانے سے ازواجِ مطہراتؓ کی عملی زندگیاں اس راستے میں مشعلِ راہ ہیں۔ آپﷺ نے ان کے بنیادی حقوق کی خاطر بے شمار اصلاحات فرمائیں، ازواجِ مطہراتؓ سے حُسنِ سلوک کا ایک منفرد اور مثالی معیار قائم فرمایا، جو اس سے پہلے نہیں تھا۔ انہیں اپنی رائے کے اظہار کا پورا پورا حق دیا۔ ان کے نسوانی مزاج سے پیش آنے والے امور کو خندہ پیشانی سے سنبھالا۔ یہی وجہ تھی کہ امہاتُ المؤمنینؓ اپنے مطالبات پوری بے باکی اور بے تکلفی سے آپﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیا کرتی تھیں اور معاشرتی معاملات میں اپنی رائے کا اظہار بلا تکلف کر دیا کرتی تھیں۔ چنانچہ اُم المؤمنین سیدہ حفصہؓ کے بارے میں بعض روایات میں ملتا ہے کہ وہ آپﷺ سے حدِ ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی بات کو بے جھجک پیش کر دیا کرتی تھیں۔
امتیازی فضیلت:
سیدنا انسؓ سیدہ حفصہ بنت عمرؓ کی منقبت نبی کریمﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں: اے حفصہؓ! ابھی ابھی جبرائیل امین علیہ السلام میرے پاس آئے ہیں اور مجھ سے کہا: بے شک وہ (سیدہ حفصہؓ) بہت زیادہ روزے دار اور کثرت سے راتوں کو اللہ کے حضور قیام کرنے والی ہیں اور وہ جنت میں بھی آپ کی اہلیہ ہیں۔
جمع قرآن اور سیدہ حفصہؓ:
سیدنا انس بن مالکؓ سے بیان کرتے ہیں سیدنا عثمانِ غنیؓ کے پاس سیدنا حذیفہ بن یمانؓ تشریف لائے،جو کہ آرمینیہ اور آذربائیجان کو فتح کرنے کے لیے اہلِ عراق کے ساتھ مل کر شامیوں سے جہاد کر رہے تھے۔ سیدنا حذیفہؓ کو لوگوں کے قرآنِ کریم میں اختلاف کرنے کے رویے نے گھبراہٹ میں ڈال رکھا تھا۔
سیدنا حذیفہؓ نے سیدنا عثمانؓ سے عرض کی کہ اے امیرُ المؤمنین اس سے پہلے یہ امت بھی کتابُ اللہ کے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح آپس میں اختلافات کا شکار ہو جائے آپ اختلافات کا سِد باب کریں۔ چنانچہ سیدنا عثمانؓ نے اُم المؤمنین سیدہ حفصہؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہمیں وہ مصحف جو سیدنا ابوبکرؓ نے لکھوایا اور سیدنا عمرؓ کے پاس ساری زندگی محفوظ رہا اور سیدنا عمرؓ کے بعد اب آپ کے پاس ہے عنایت فرمائیں تاکہ ہم اس کے مطابق نسخے تیار کریں اس کے بعد آپ کو یہ مصحف واپس کر دیں گے۔ سیدہ حفصہؓ نے وہ مصحف سیدنا عثمانِ غنیؓ کو دے دیا۔ سیدنا عثمانؓ نے سیدنا زید بن ثابتؓ، سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ، سیدنا سعید بن عاصؓ اور سیدنا عبدالرحمٰن بن حارثؓ کے حوالے کیا تاکہ اسی کے مطابق دیگر قرآنِ کریم کے نسخے تیار کیے جا سکیں۔ جب نسخے تیار ہو چکے تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے وہ مصحف اُمُ المؤمنین سیدہ حفصہؓ کو واپس کر دیا۔
اب تا قیامت اُمّ المومنین سیدہ حفصہؓ کا بارِ احسان ایسا ہے جس پر مسلمانوں کی گردنیں جھکیں ہوئی ہیں۔ روئے زمین پر جب بھی کوئی شخص قرآنِ کریم کی تلاوت کرے گا تو سیدہ حفصہؓ کا احسان بھی یاد آئے گا۔
سیدہ حفصہؓ کی وصیت:
آپؓ کی عمر مبارک جب 60 کے قریب ہوئی، آپؓ نے زندگی کے دروازے پر موت کی دستک کو محسوس کیا تو اپنے بھائی سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کو بلا بھیجا، وہ آئے تو فرمانے لگیں: عبداللہؓ! تمہیں یاد ہوگا والدِ محترم نے وفات سے قبل چوتھائی حصہ مال کی میرے لئے وصیت کی تھی۔ آپ کو یاد ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا۔جی بالکل یاد ہے۔ سیدہ حفصہؓ نے فرمایا پھر یہ بھی آپ کے علم میں ہوگا کہ والدِ محترم نے فرمایا تھا کہ جب میں وفات پا جاؤں تو اس مال کو آلِ عمر میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ بھی آپ کو یاد ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ ہاں یہ بھی یاد ہے۔ تب آپؓ نے فرمایا: غابہ میں جو مال اور جائیداد ہے اس کو فی سبیل اللہ صدقہ کر دینا۔
وفات:
اُمُ المؤمنین سیدہ حفصہؓ نے شعبانُ المعظم 45 ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ اس وقت سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت کا زمانہ تھا اور مروان بن حکم مدینے کا حاکم تھا۔ مروان ہی نے آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور کچھ دور تک ان کے جنازے کو بھی اٹھایا، سیدنا ابوہریرہؓ نے قبر تک جنازہ کو کاندھا دیئے چلتے رہے۔
سیدہ حفصہؓ کے دونوں بھائی سیدنا عبداللہ بن عمرؓ و سیدنا عاصم بن عمرؓ اور ان کے تین بھتیجے سیدنا سالم بن عبداللہ و سیدنا عبداللہ بن عبداللہ اور سیدنا حمزہ بن عبداللہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپؓ کو قبر میں اتارا۔ جنتُ البقیع میں دیگر ازواجِ مطہراتؓ کے پہلو میں آپؓ کو دفن کیا گیا۔
نوٹ: مخالفین (شیعہ) ان پر بھی کافی الزامات لگاتے ہیں ان کے جواب بھی دیے جائیں گے ان شاء اللہ۔


صفحہ 2 از 2