شیعہ کا رجعت کے متعلق عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کا رجعت کے متعلق عقیدہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 2

شیعی عالم نعمانی نے اپنی کتاب الغیبۃ میں لکھا ہے:

كيف بكم او قد قطعت ايديكم وارجلكم وعلقت فی الكعبة ثم يقال لكم: نادوا نحن سراق الكعبة۔

کیا ہوگی تمہاری حالت! اگر تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور انہیں کعبہ میں لٹکا دیا جائے، پھر تم سے کہا جائے کہ اپنے متعلق بلند آواز میں یوں کہو کہ ہم کعبہ کے چور ہیں۔

اسی طرح ان کے عالم شیخ مفید نے اپنی کتاب الارشاد میں اور طوسی نے اپنی کتاب الغیبۃ میں یہ روایت نقل کی ہے۔

اذا قام المهدى هدم المسجد الحرام وقطع ايدى بنی شيبة وعلقها بالكعبة وكتب عليها هؤلاء سراق الكعبة۔

جب مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ مسجد الحرام کو گرا دے گا، بنو شیبہ کے لوگوں کے ہاتھ کاٹ کر کعبہ کے ساتھ لٹکائے گا اور ان پر لکھ دے گا کہ یہ لوگ کعبہ کے چور ہیں۔

ایک تیسری روایت میں یوں لکھا ہے:

انه يجرد السيف على عاتقه ثمانيه اشهر يقتل هرجا فاول ما يبدأ ببنی شيبة، فيقطع ايديهم ويعلقها فی الكعبة وينادی مناديه هولاء سراق الله ثم يتناول قريشا فلا ياخذ منها الا السيف ولا يعطيها الا السيف۔

شیعوں کا مہدی منتظر آٹھ ماہ تک اپنے کندھے پر نگی تلوار اٹھائے بے دریغ قتل کرے گا، سب سے پہلے وہ بنو شیبہ کی خبر لے گا ان کے ہاتھوں کو کاٹ کر کعبہ پر لٹکائے گا، اس کے منادی اعلان کریں گے کہ یہ لوگ اللہ کے چور ہیں، پھر قریش کی گرفت کرے گا ان سے تو وہ سارا معاملہ تلوار کے ساتھ ہی کرے گا۔

5 اہلِ سنت کے اموال کی چوری اور لوٹ مار:

شیعہ امامیہ اہلِ سنت جنہیں وہ ناصبی کہتے ہیں کی املاک و ثروت کو اپنے لیے حلال قرار دیتے ہیں شیعی ائمہ اور ان کے علماء اپنے پیروکاروں کے لیے اہلِ سنت کے اموال پر قبضہ کر لینے کو مباح قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں جب بھی اس کا موقعہ ملے یا جس وقت ان کے ایسا کر گزرنے کے لیے سازگار حالات میسر ہوں کسی قسم کی جھجک یا تردد کے بغیر ناصبیوں (یعنی سنیوں) کے مال و جائداد کو ہتھیا سکتے ہیں ان کے امام طوسی نے اپنی کتاب تہذیب الاحکام میں لکھا ہے:

خذ مال الناصبی حيثما وجدته وادفع الينا الخمس۔

(تهذيب الاحكام: جلد 1 صفحہ 384)۔

تجھے ناصبی (یعنی سنی) کا مال جہاں سے بھی ملے قبضہ کرلے اور اس کا خمس ہمارے سپرد کر دے۔

یہ بھی لکھا ہے:

مال الناصب وكل شئى يملكه حلال۔

 (تہذيب الاحكام: جلد 1 صفحہ 384)۔

(بالکل یہی عقیدہ یہودیوں کا ہے کہ وہ غیر یہودیوں کی املاک کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہیں) ناصبی کا مال اور اس کی ہر مملوکہ شیء حلال ہے۔

 6 بیت اللہ کے حجاج کرام پر زانی اور اولادِ زنا ہونے کا شیعی بہتان:

بیت اللہ کے حجاج کرام اور زائرین سے نفرت و کراہت بھی عقائد شیعہ میں داخل ہے، یہاں تک کہ شیعہ عرفہ کے دن وقوف کرنے والے حاجیوں کو زانی قرار دیتے ہیں، ان کے چوٹی کے امام اور عالم کاشانی نے اپنی کتاب الوافی میں یوں لکھا ہے:

ان الله يبدأ بالنظر الى زوار الحسين بن على عشية عرفة قبل نظره الى اهل الموقف لان اولئك اولاد زنی وليس فی هؤلاء زناة۔ 

عرفہ کی شام کو اللہ تعالیٰ سب سے پہلے سیدنا حسین بن علیؓ کی زیارت کرنے والوں پر نظر کرتا ہے، پھر عرفات میں وقوف کر نے والوں پر (یعنی بیت اللہ کے حاجیوں پر) نظر کرتا ہے، اس لیے کہ زائرین سیدنا حسینؓ میں کوئی زانی نہیں ہوتا، جبکہ وقوف کرنے والے سب زنا کی اولاد ہوتے ہیں۔

اسی طرح ان کے عالم مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار میں اس عقیدہ کے بیان میں ایک باب اس عنوان کے ساتھ قائم کیا ہے۔

باب انه يدعى الناس باسماء امهاتهم الا الشيعة۔

(قیامت کے دن شیعوں کے علاؤہ باقی سب لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا) اس باب کے تحت صاحب کتاب نے بارہ روایات نقل کی ہیں ایسے ہی ان کے ممتاز عالم کلینی نے اپنی کتاب الکافی میں اس عقیدہ کو ثابت کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے:

ان الناس كلهم اولاد بغايا ما خلا شيعتنا۔

ہمارے شیعوں کے علاؤہ سب لوگ بدکارہ عورتوں کی اولاد ہیں۔ 

ان کے امام عیاشی اپنی تفسیر میں یوں لکھتا ہے:

ما من مولود يولد الا وابليس من الأبالسة بحضرته فان علم انالمولود من شيعتنا حجبه من ذلك الشيطان وان لم يكن المولود من شيعتنا اثبت الشيطان اصبعه فی دبر الغلام فكان مأبونا، وفی فرج الجارية فكانت فاجرة۔

(تفسر العياش: جلد 2 صفحہ 337)۔

جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے ابلیسوں میں سے ایک ابلیس اس کے پاس موجود ہوتا ہے سو اگر معلوم ہوجائے کہ نومولود ہمارے شیعہ میں سے ہے تو وہ شیطان سے محفوظ رہتا ہے اور اگر نو مولود کا تعلق ہمارے شیعوں سے نہ ہو تو شیطان اپنی انگلی لڑکے کی دبر پر رکھ دیتا ہے، پس وہ (بڑا ہو کر) لواطت کا عادی ہو جاتا ہے اور لڑکی کی شرم گاہ پر انگلی رکھتا ہے تو وہ بدکارہ ہو جاتی ہے۔


صفحہ 2 از 2