تاریخی انحراف کی اصل وجہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تاریخی انحراف کی اصل وجہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

درحقیقت اس تاریخی انحراف کا سبب صرف یہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کے بچپن اور کم عمری میں شادی کر لی تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں عیب شمار ہو گا، حالانکہ ایسا کچھ نہیں، کیونکہ جزیرۃ العرب کی سر زمین گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتی ہے اور عموماً گرم علاقوں میں بلوغت قدرے پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے شادی بھی جلدی ہوتی ہے اور موجودہ زمانے میں بھی جزیرۃ العرب میں یہی کچھ مروج ہے۔ نیز ہر علاقے کی خواتین کا مزاج اس علاقے کی آب و ہوا، قبائل اور خاندانوں کے اعتبار سے اپنی ہم عصر و ہم عمر خواتین سے مختلف ہوتا ہے، بلکہ بعض حالات میں تو یہ فرق زیادہ ہو جاتا ہے۔

قارئین کرام! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ کے حالات کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے شادی نہیں کی۔ آپﷺ کی بقیہ تمام بیویاں آپ کے ساتھ شادی کے بندھن میں آنے سے پہلے شادی کر چکی تھیں، کوئی مطلقہ تھی تو کوئی بیوہ (اور ان میں سے بعض کی اپنے پہلے شوہروں سے اولاد بھی تھی)تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان شادیوں کی وجہ ازدواجی خوشیاں نہیں تھا(بلکہ ان شادیوں کا ایک مخصوص پس منظر تھا۔ متفرق نوعیت کے مصالح تھے جن کا اسلام کی دعوت اور اسلام کے پیغام کی نشر و اشاعت سے تھا) جب کسی کا شادی سے مقصود حصول لذت ہو تو وہ اپنے لیے سب سے پہلے ایسی عورتیں منتخب کرتا ہے جن میں حسن و جمال اور ترغیب کا وافر سامان موجود ہو(یہاں اس بات کو بھی پیش نگاہ رکھئے کہ طاہر و مطہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی شادی پچیس برس کی بھر پور جوانی کی عمر میں چالیس برس کی بیوہ سے کی، جو اولاد والی تھی۔ پھر تقریباً بائیس برس کا طویل عرصہ یعنی اپنی جوانی کا عرصہ اس ایک زوجہ مطہرہ کی رفاقت میں بسر کیا۔ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تو ان کی عمر باسٹھ برس تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینتالیس سال کے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کا یہ پہلو ان لوگوں کے ناروا پروپیگنڈے کے خلاف بہت بڑی دلیل ہے جو حضرت آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں نازیبا اعتراض کرتے ہیں۔

اس مسئلے کی مزید معلومات کے لیے درج ذیل مصادر سے استفادہ کر لیا جائے:

1: مقالہ ’’تحقیق سنّ عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘جو علامہ احمد شاکر کی تالیف’’کلمۃ الحق‘ میں شامل ہے۔ 

2: مقالہ ’’الرد علی من طعن فی سن زواج عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘ محمد عمارہ۔

3: بحث ’’ السہام الرائشۃ للذب عن سنّ زواج السیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ‘‘ ایمن خالد۔ 

4: کتاب ’’السنا الوہاج فی سنّ عائشہ رضی اللہ عنہا عند الزواج ‘‘ فہد غُفَیلی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے انھیں خواب میں دیکھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أُرِیْتُکِ فِی الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَیَالٍ، جَائَ نِیْ بِکَ الْمَلَکُ فِیْ سَرَقَۃٍ مِنْ حَرِیْرٍ فَیَقُوْلُ: ہٰذِہٖ اِمْرَأَتُکَ، فَأَکْشَفَ عَنْ وَجْہِکَ، فَإِذَا أَنْتِ ہِيَ، فَأَقُوْلُ: إِنْ یَکُ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ یُمْضِہٖ

(صحیح بخاری: 3895۔ صحیح مسلم: 2438)

’’تین راتوں میں مجھے خواب میں تمھیں دکھایا گیا۔ فرشتہ ایک ریشمی ٹکڑے میں تمہاری تصویر لایا اور اس نے کہا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو تم وہی تھی۔ چنانچہ میں نے کہا: اگر یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہی اسے نافذ کرے گا۔‘‘

اس مبارک خواب کے بعد منگنی کا مرحلہ طے ہوا جس کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خوب تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔ وہ ایسا کیوں نہ کرتیں کیونکہ ان ایام کی حلاوت نے ہی ان کی زندگی کو یادگار بنا دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

صفحہ 1 از 2