دوسرا مبحث رفاقت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گزرے سنہری…

دوسرا مبحث رفاقت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گزرے سنہری ایام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس حدیث کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 113‘‘ میں کہا: ’’یہ مرسل ہے۔‘‘جب کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ’’البدایۃ والنہایۃ: جلد 3 صفحہ 129‘‘ میں کہا: ’’سیاق حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرسل ہے حالانکہ یہ متصل ہے۔‘‘اور ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 228‘‘ میں کہا: اس (مذکورہ) راوی کی اکثر احادیث مرسل ہوتی ہیں اور اس کی سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ راوی کو متعدد ائمہ نے ثقہ کہا ہے اور اس حدیث کے دیگر رواۃ صحیح مسلم کے ہیں۔ ‘‘شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ نے ’’مسند احمد‘‘ کی تحقیق کے دوران جلد 6 صفحہ 210 پر اسے حسن کہا ہے۔ 

5۔ اس واقعہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود بھی بیان کیا ہے۔ دیگر راویوں نے بھی ان سے روایت کیا ہے۔ جن مصادر و مراجع میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالات درج ہیں ان سب کا متفقہ فیصلہ یہی ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی اس حقیقت میں اختلاف نہیں کیا اور یہ کوئی اجتہادی مسئلہ بھی نہیں۔ جب کوئی اپنی ذات کے بارے میں خو د بات کرے تو پھر کسی اور کو اس سے اختلاف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

6۔ تمام تاریخی مصادر کا اتفاق ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت اسلام میں ہوئی جو بعثت نبوی کے چار یا پانچ سال کے بعد کا واقعہ ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تصریح کی ہے اور اس بنیاد پر ہجرت کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر آٹھ یا نو سال بنتی ہے۔ یہ حقیقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنے متعلق بیان کردہ حکایت کے موافق ہے، جو تحریر کی جا چکی ہے۔

7۔ مصادر اس بات پر بھی متفق ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ اس طرح ہجرت کے وقت ان کی عمر نو سال ہی بنتی ہے۔ یہ حقیقت اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت عمر کے متعلق بیان کردہ دیگر حقائق میں مکمل موافقت ہے۔

8۔ سیرت، تاریخ اور سوانح و تراجم کے تمام مصادر میں مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات تریسٹھ سال کی عمر میں ہوئی، اور یہ 57ھ تھا۔ اس طرح (نکاح کے وقت) ان کی عمر چھ سال اور ہجرت کے سال ان کی عمر آٹھ سال بنتی ہے اور جب نامکمل سال مکمل شمار کیے جائیں، جیسا کہ عربوں کی حساب کے دوران عادت ہے تو ہجرت کے سال ان کی عمر آٹھ سال بنتی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے بعد ازدواجی تعلقات قائم ہوتے وقت ان کی عمر آٹھ سال اور آٹھ ماہ یعنی نو سال بنتی ہے۔

9۔ جو کچھ تحریر کر دیا گیا ہے وہ علماء کی اس تحقیق کے بھی موافق ہے جو انھوں نے سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق اور سیدہ عائشہ کی عمروں کے درمیان فرق تحریر کیا ہے۔

علامہ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عمر میں دس سال سے زیادہ بڑی تھیں۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 188)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی کے چار یا پانچ سال بعد پیدا ہوئیں۔ ابو نعیم رحمہ اللہ ’’معرفۃ الصحابۃ: جلد 6 صفحہ 3253 پر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے متعلق تحریر کرتے ہیں وہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس سال پہلے پیدا ہوئیں۔

گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی عمروں میں چودہ یا پندرہ سال کا فرق ہے اور یہ رائے علامہ ذہبی رحمہ اللہ کی گزشتہ رائے کے موافق ہے۔ ان تمام دلائل سے پہلی دلیل ہی کافی ہے۔ اس کے علاوہ جومزید دلائل تحریر کیے گئے ہیں وہ پہلی دلیل کی تاکید اور توثیق کے طور پر تحریر کیے گئے ہیں۔ نیز صحیح دلیل ایک ہی ہو تو وہ دعویٰ کے ثبوت کے لیے کافی ہوتی ہے جب کہ اس مسئلہ میں تو اہل علم کا اجماع بھی ہے۔ واللہ اعلم


صفحہ 2 از 2