سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شفقت پدری - دفاعِ اہلِ…

سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شفقت پدری

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت چاہی تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ ملی۔ بقول راوی: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آپ نے اجازت دے دی وہ اندر تشریف لے گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے، انھوں نے بھی اجازت طلب کی، انھیں بھی آپﷺ نے اجازت دے دی، وہ بھی اندر تشریف لے گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ان کی سب بیویاں بیٹھی ہیں اور آپﷺ ان کے درمیان بالکل خاموش نظریں جما کر بیٹھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں رفقائے خاص سے فرمایا: تم دونوں دیکھ رہے ہو؟ انھوں نے مجھے گھیرا ڈال رکھا ہے۔ یہ مجھ سے خرچ مانگتی ہیں۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گردن سے پکڑ لیا۔

(عُنُقَہَا: یعنی جب گردن سے پکڑا جائے۔ (شرح مسلم للنووی: جلد 10 صفحہ 82)

اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو گردن سے پکڑ لیا۔ وہ دونوں کہہ رہے تھے کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چیزیں مانگتی ہو جو آپﷺ کے پاس نہیں؟ ان سب نے بیک زبان عہد کیا کہ اللہ کی قسم! ہم کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چیز نہیں مانگیں گی جو آپﷺ کے پاس نہ ہو گی۔‘‘ 

(اسے مسلم نے روایت کیا ہے، حدیث: 1478)

گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے مبارک خاندان اور صدق و ایمان سے لبریز لمحات میں آنکھ کھولی اور دین اسلام کی تعلیمات سے جھلمل جھلمل کرتے ماحول میں پرورش پائی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے بچپن میں ہی ان ہولناک مراحل کا مشاہدہ کیا جن کا سامنا دعوت اسلام کو کرنا پڑا اور جو دکھ درد اور ظلم و ستم مسلمانوں نے سہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان واقعات سے ہمیں کچھ بتائے ہیں جو ان کے والد محترم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دین و ایمان کی راہ میں پیش آئے۔ وہ بیان کرتی ہیں :

’’یہاں تک کہ وہ سر زمین مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کے لیے مجبور ہو گئے۔ ان کی چاہت تھی کہ وہ وہاں رکنے والے اپنے مسلمان بھائیوں سے جا ملیں ۔جب وہ’’برک الغماد‘‘(برک الغماد: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے اور ایک قول کے مطابق مکہ سے جنوب کی جانب پانچ راتوں کی مسافت پر ایک جگہ کا نام ہے۔ النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 1 صفحہ 121۔) نامی مقام پر پہنچے تو انھیں ابن دغنہ ملا جو قارہ نامی قبیلہ کا سردار تھا۔ اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مکہ واپس آنے پر آمادہ کر لیا۔ قریش کی تکالیف سے سیدنا ابوبکرؓ کو پناہ مہیا کی۔ اس نے جو الفاظ سیدنا ابوبکرؓ کی شان میں کہے ان میں سے کچھ یہاں نقل کیے جاتے ہیں ۔ اس نے کہا: 

اے ابوبکر! تجھ سا کوئی آدمی نہ اپنی سرزمین سے ازخود نکلتا ہے اور نہ نکالا جاتا ہے۔ بلاشبہ سیدنا ابوبکرؓ بدحال کے لیے کماتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، مصیبت زدہ کا سہارا بنتے ہیں، مہمان نواز ہیں، حق کے رستے میں آنے والی مشکلات میں مدد کرتے ہیں، پس میں آپ کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ آپ واپس آجائیں اور اپنی سر زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہیں ۔‘‘ 

(عائشہ معلمۃ الرجال والاجیال: لمحمد علی قطب: صفحہ 15 بخاری: 2297)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہجرت مدینہ تک اپنے والد محترم کے گھر پرورش پاتی رہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے یار غار صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ہجرت مدینہ کی اور سیدنا ابوبکرؓ اپنے اہل و عیال مکہ مکرمہ میں ہی چھوڑ آئے تھے۔ جب مدینہ طیبہ کے شب و روز معمول کے مطابق ہو گئے اور حالات پرسکون ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اہل وعیال کو مدینہ منورہ بلا لیا۔ انھوں نے مکہ مکرمہ میں یہ دن نہایت عسرت کے ساتھ گزارے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال و متاع جو پانچ یا چھ ہزار درہم کی مالیت کے برابر تھا، اپنے ساتھ لے لیا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :

’’ہمارے پاس میرے دادا جان ابو قحافہ آئے، جب کہ ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرے گمان کے مطابق ابوبکر نے اپنی ذات سمیت اپنے مال کو بھی تم سے چھین لیا ہے۔ میں نے کہا: اے ابا جان! ہر گز ایسا نہیں۔ وہ ہمارے لیے بھی بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔ چنانچہ میں نے کچھ پتھر لیے اور اپنے گھر یا دیوار کے اس ’’طاق ‘‘( الکوۃ: دیوار میں بنایا گیا خانہ اور گھر میں مال رکھنے کے لیے کھودا گیا گڑھا یا سوراخ وغیرہ۔ لسان العرب لابن منظور: جلد 15 صفحہ 235) میں رکھ دیے جہاں میرے والد محترم اپنا مال و دولت رکھتے تھے۔ پھر میں نے اس پر کپڑا ڈال دیا، پھر دادا کا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے آئی اور کہا: اے ابا جان! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھیں، انھوں نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ دیا اور کہا کہ مال تمہاری گزران کے لیے کافی ہے، اگر وہ تمہارے لیے اتنا کچھ چھوڑ گئے ہیں تو یہ بہت ہی اچھا ہے۔ اس سے تمہاری گزر بسر بخوبی ہو جائے گی۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میرے والد محترم نے ہمارے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا لیکن میں نے چاہا کہ میں اپنے بوڑھے دادا جان کو کسی طریقے سے مطمئن کر دوں۔‘‘ 

(مسند احمد: 27002۔ معجم طبرانی: جلد 17 صفحہ 334۔ مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 6۔ امام حاکم رحمہ اللہ کے بقول یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن امام بخاری و امام مسلم رحمہ اللہ دونوں نے اسے روایت نہیں کیا اور امام ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد‘‘ جلد 6 صفحہ 62 پر اسے روایت کیا۔ ابن اسحاق کے علاوہ اس سند کے تمام راوی صحیحین کے راوی ہیں۔ تاہم ابن اسحاق نے سماع کی تصریح کی ہے۔ امام وادعی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔ (الصحیح المسند: 1545 )


صفحہ 2 از 2