شیعہ کے توحید فی الربوبیۃ کے متعلق معتقدات - ردِ رافضیت |…

شیعہ کے توحید فی الربوبیۃ کے متعلق معتقدات

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

شیعہ امامیہ کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد ان کے ائمہ پر جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے وحی الہٰی نازل ہوتی ہے بلکہ ان کے پاس جبرائیل علیہ السلام سے بھی بڑھ کر صاحبِ فضیلت و عظمت فرشتہ بھی وحی لا کر اترتا ہے ائمہ اسی وحی کی بنیاد پر قانون سازی کرتے اور غیبی امور تک رسائی حاصل کرتے ہیں یہاں تک کہ انہیں قیامت تک نمودار ہونے والے تمام احوال و واقعات کا علم ہو جاتا ہے یہ عقیدہ متعدد روایات کے ساتھ شیعی کتب احادیث و تفاسیر میں جگہ جگہ لکھا ہوا موجود ہے محمد بن الحسن الصفار متوفی 290ھ شیعی امام ہے جسے شیعوں کے نزدیک اپنے گیارہویں امام معصوم کے ہم نشین ہونے اور قدیم ترین محدث ہونے کا اعزاز حاصل ہے مزید بریں یہ ان کے حجۃ الاسلام امام کلینی کا بھی معلم اور مرشد ہے اسی امام صفّار نے اپنی دس اجزاء پر مشتمل ضخیم کتاب بصائر الدرجات الکبریٰ میں ایسی بے شمار و لاتعداد روایات نقل کی ہیں جن سے وہ اپنے ائمہ پر ملائکہ کرام کے ذریعہ سے نزول وحی کی حقیقت کو ثابت کرتا ہے اس کتاب کی آٹھویں جلد میں سولہواں باب اس عنوان کے ساتھ موجود ہے:

باب فی امير المؤمنين ان الله ناجاه بالطائف وغيرها ونزل بينہما جبريل۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المومنین (سیدنا علیؓ) سے طائف اور دیگر مقامات پر سرگوشی فرمائی تھی اس وقت جبرائیل علیہ السلام بھی ان دونوں کے درمیان موجود تھے۔

اس باب کے ذیل میں تقریباً دس روایات کو نقل کیا گیا ہے ان میں ایک روایت ذیل میں درج کی جاتی ہے:

عن حمران بن اعین قال: قلت لابی عبدالله عليه السلام: جعلت فداك بلغنی ان الله تبارك وتعالىٰ قد ناجى عليا عليه السلام؟ قال: أجل قد كان بينهما مناجاة بالطائف نزل بينهما جبريل انتهى۔

(بصائر الدرجات الكبرى جلد 8 باب 16 صفحہ 430 مطبوعه ایران

حمران بن اعین کا بیان ہے کہتا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ (سیدنا جعفر صادقؒ) سے عرض کیا: میری روح و بدن آپ پر نثار ہو جائے کیا مجھ تک پہنچنے والی یہ بات درست ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدنا علیؓ سے سرگوشی فرمائی تھی؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! واقعتاً ان دونوں کے درمیان میں طائف میں سرگوشی ہوئی تھی ان کے درمیان جبریل علیہ السلام موجود تھے۔

پھر وحی کا یہ معاملہ صرف سیدنا علیؓ بن ابنِ طالب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ شیعہ اثناء عشریہ کے تمام ائمہ اس امتیاز میں ان کے ساتھ شریک ہیں جیسا کہ صفار نے اپنی کتاب بصائر الدرجات کی نویں جلد میں ایک عنوان قائم کیا ہے:

الباب الخامس عشر فی الأئمة عليہم السلام ان روح القدس يتلقاهم اذا احتاجوا اليه بصائر الدرجات الكبرى۔(جلد: 9 باب: 15)۔

پندرہواں باب اس حقیقت کے بیان میں کہ ائمہ کو جب بھی ضرورت لاحق ہوتی ہے تو روح القدس ان کے پاس تشریف لاتے ہیں۔

اس باب کے تحت اندازاً تیرہ روایات مذکور ہوتی ہیں ان میں سے چند ایک روایات پیشِ خدمت ہیں:

عن اسباط عن ابی عبدالله جعفر انه قال: قلت تسألون عن الشیء فلا يكون عندكم علمه؟ قال: ربما كان ذلك قلت: كيف تصنعون؟ قال: يلقانا به روح القدس۔

اسباط کا بیان ہے کہ میں نے ابو عبدالله جعفر صادقؒ سے دریافت کیا کہ کبھی یہ بھی ہو جاتا ہے کہ آپ سے کوئی سوال پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کا جواب موجود نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: بعض اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے میں نے عرض کیا: تو اس وقت آپ کیا کرتے ہیں؟ فرمایا: روح القدس ہمارے پاس اس سوال کا جواب لے آتے ہیں۔

عن ابی عبدالله انه قال: انا لنزاد فى الليل والنهار ولولم نزد لنفد ما عندنا قال ابوبصير: جعلت فداك من يأتيكم به؟ قال: ان منا من يعاين وان منا من ينقر فی قلبه كيت وكيت وان منا لمن يسمع بأذنه وقعا كوقع السلسلة فی الطست قال: فقلت له من الذی ياتيكم بذلك قال: خلق اعظم من جبريل و ميكائيل۔ 

(بصائر الدرجات الكبرىٰ جلد: 5 باب: 7 صفحہ 252)۔

ابوبصیر کا بیان ہے کہ ابو عبداللہ (جعفر صادقؒ) نے فرمایا ہے کہ ہمیں دن رات توشہ ملتا رہتا ہے نہ ملے تو ہمارے پاس موجود سب کچھ ختم ہو جائے ابوبصیر کہتا ہے میں نے عرض کیا: میں قربان جاؤں آپ کے پاس یہ توشہ کون لاتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہم میں سے کچھ تو اس کا آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں بعض کے دلوں میں ان باتوں کو نقش کر دیا جاتا ہے اور ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں تھالی میں گرنے والی زنجیر کی آواز کی طرح آواز سنائی دیتی ہے۔ ابوبصیر کہتا ہے میں نے عرض کیا: آپ کے پاس یہ توشہ کون لاتا ہے؟ فرمایا: جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام سے بھی بڑی مخلوق۔ 

شیعوں کے مسلمہ حجۃ الاسلام کلینی نے بھی اپنی کتاب الکافی میں بھی درج ذیل عنوان کے تحت اس عقیدے کا اثبات کیا ہے:

باب الروح التی يسدد الله بها الآئمة عليہم السلام

یعنی اس روح کا بیان جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ائمہ کی راہنمائی فرماتا ہے۔

اس کے بعد یہ روایت نقل کی گئی ہے:

فعن اسباط بن سالم قال: سال رجل من اہل بيت ابی عبدالله عليه السلام عن قول الله عزوجل (وكذلك أوحينا اليك روحا من امرنا فقال: منذ ان انزل الله عزوجل ذلك الروح على محمدﷺ‎ ما صعد الى السماء وانه لفينا (وفی رواية) كان مع رسول اللهﷺ‎ يخبره ويسدده وهو مع الآئمة من بعدم انتهى۔

(کتاب اصول الکافی مؤلفه محمد بن يعقوب الكلينی كتاب الحجة: جلد 1 صفحہ 273 طبع طہران

اسباط بن سالم کا بیان ہے کہ ابو عبداللہ کے خانوادہ میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کے فرمان اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف روح کو اتارا ہے کہ متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: جب سے اللہ تعالیٰ نے اس روح کو محمدﷺ کی طرف نازل کیا ہے وہ بدستور ہمارے اندر موجود ہے آسمان کی طرف منتقل نہیں ہوا (ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں) یہ روح رسول اللہﷺ کے ہمراہ رہا آپ کو خبریں دیتا آپﷺ کی رہنمائی کرتا رہا آپﷺ کے بعد یہ روح ائمہ کے ساتھ موجود ہے۔

اسی طرح کلینی نے ہی اپنی اصول الکافی میں یہ روایت بھی وارد کی ہے:

عن ابی عبدالله قال: انى اعلم ما فی السماوات وما فی الارض واعلم ما فی الجنة والنار واعلم ما كان وما يكون۔

(الکافی جلد 1 صفحہ 261 مطبوعه ایران

صفحہ 2 از 3