شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 4 از 4

باب أن النبی الاعظم (يعنى محمدﷺ) والعترة الطاهرة يزورون الحسين عليه السلام۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ نبی اعظم (محمدﷺ) اور آپ کی آلِ پاک سیدنا حسینؓ کی زیارت کرتے ہیں۔

باب ان ابراهيم الخليل عليه السلام يزور الحسين عليه السلام۔ 

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ابراہیم خلیل علیہ السلام سیدنا حسینؓ کی زیارت کرتے ہیں۔

باب أن موسیٰ بن عمران سأل الله جل وعلا ان يأذن له فی زيارة قبر الحسين عليه السلام۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے سیدنا حسینؓ نام کی قبر کی زیارت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تھی۔

باب الملائكة يسألون الله عزوجل ان يأذن لهم فی زيارة قبر الحسين عليه السلام۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ فرشتے سیدنا حسینؓ کی قبر کی زیارت کے لیے اللہ تعالیٰ سے منظوری طلب کرتے ہیں۔

باب ما من ليلة الا و جبرائيل و ميكائيل يزور انه صلوات الله عليه۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ جبرائیل علیہ السلام اور میکائیلؑ علیہ السلام ہر رات کو سیدنا حسینؓ کی زیارت کرتے ہیں۔

باب أن زيارة الحسين عليه السلام تعدل ثلاثين حجة مبرورة، متقبلة زاكية مع رسول اللهﷺ‎۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت رسول اللہﷺ کی معیت میں کیے گئے تیس مقبول مبرور اور پاکیزہ حجوں کے برابر ہے۔

باب من زار قبر الحسين عليه السلام كان كمن زار الله فوق عرشه۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ جو شخص سیدنا حسینؓ کی قبر کی زیارت کرتا ہے اس نے گویا کہ عرشِ معلیٰ پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ہے

باب من زار الحسين عليه السلام كتبه الله فی اعلى عليين۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کے زائر کو اللہ تعالیٰ اعلیٰ علیین میں لکھ لیتا ہے:

شیعہ عالم حسین الفہید نے سیدنا علیؓ کا ایک خطبہ نقل کیا ہے جو معاذ الله کفریہ اور شرکیہ کلمات سے بھرا ہوا ہے اس خطبہ میں سیدنا علیؓ اپنا تعارف کرواتے ہیں ہم سیدنا علیؓ کو ان خرافات سے بری الذمہ یقین کرتے ہیں

شیعی عالم بیان کرتا ہے:

 سیدنا علیؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: غیب کی کنجیاں میرے پاس ہیں رسول اللہﷺ کے بعد ان کا علم صرف مجھے ہے صحفِ اولیٰ میں مذکور ذوالقرنین میں ہوں سیلمان کو انگوٹھی عطاء کرنے والا میں ہوں حساب کا نگران و منتظم میں ہوں صراط اور میدانِ حشر کا متولی میں ہوں، اپنے رب کے حکم سے جنت اور جہنم کی تقسیم کا اختیار میرے ہاتھ میں ہے میں پہلا آدم اور نوح ہوں میں جبار کا عظیم نشان ہوں اور پوشیدہ رازوں کی حقیقت ہوں درختوں کو گل و برگ سے آراستہ کرنے اور پھلوں کو پکانے کی قدرت میرے پاس ہے چشموں کو نکالنے اور نہروں کو جاری کرنے والا میں ہوں میں علم کا خازن اور حوصلہ و بردباری کا عطیہ کرنے والا ہوں میں امیر المومنین ہوں میں عین الیقین ہوں میں آسمانوں اور زمین میں اللہ کی حجت اور برھان ہوں راجفہ اور صاعقہ میرا نام ہے میں حق کی زور دار آواز ہوں میں مکذبین کے لئے قیامت ہوں ذالک الکتاب لاریب سے میں ہی مقصود ہوں میں ہی وہ اسماء الحسنٰی ہوں جن کے وسیلہ سے دعا مانگنے کا حکم دیا گیا ہے میں ہی وہ نور ہوں جس سے ہدایت کے چشمے پھوٹتے ہیں صور کا نگران میں ہوں قبروں سے اٹھانے والا میں ہوں زندہ اٹھائے جانے کے دن کا مالک میں ہوں نوح کو نجات دینے اور بیمار ایوب کو شفاء دینے والا میں ہوں اپنے رب کے حکم سے آسمانوں کو قائم کرنے والا میں ہوں میں ابراہیم کا آقا اور کلیم کا راز ہوں کائنات کا مدبر و منتظم میں ہوں میں ہی زندہ اور جاوید ہستی کا امر ہوں میں حق تعالیٰ کی مخلوقات پر اس کا حکمران ہوں میں ہی وہ ہستی ہوں جس کا فیصلہ اٹل اور جس کا فرمان نا قابلِ تغیر ہوتا ہے میں اللہ کا راز اور اس کی حجت ہوں میں ہی اللہ تعالیٰ کے فرمان وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ الخ۔ (سورۃ الاسراء/بنی اسرائیل آیت 85) (یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں آپ جواب دے دیجیئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے) میں مذکور امر اور روح کا مصداق ہوں بلند و بالا پہاڑوں کو میں نے استوار کیا ہے رواں چشموں کو جاری کرنے والا میں ہوں درختوں کو اگانے اور ان پر مختلف انواع و الوان کے پھلوں کو پیدا کرنے والا میں ہوں اقوال کا حاکم میں ہوں مردوں کو جلانے والا میں ہوں قبر کا پڑاؤ میں ہوں سورج چاند اور ستاروں کو روشنی عطا کرنے والا میں ہوں میں ہی قیامت کا نگران اور اسے قائم کرنے والا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری ہی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم کیا گیا ہے میں اللہ کا مخفی و سر بستہ راز ہوں میں ہی بدر و حنین کا تاجدار ہوں میں طور ہوں میں ہی کتابِ مسطور ہوں میں بحرِ مسجور ہوں میں ہی بیت المعمور ہوں اللہ تعالیٰ نے مخلوقات سے میری اطاعت کا تقاضا کیا کچھ نے کفر کیا اور اس پر جمے رہے لہٰذا ان کی شکلوں کو مسخ کر دیا گیا اور کچھ نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہا تو وہ نجات اور قرب کے حق دار قرار پائے میں ہی وہ صاحبِ عظمت و کرامت ہستی ہوں جس کے ہاتھ میں جنت کے تمام درجات کی اور جہنم کے تمام طبقات کی کنجیاں ہیں میں ہی آسمان اور زمین میں رسول اللہﷺ کا ساتھی ہوں میں ہی مسیح ہوں کہ میرے اذن کے بغیر کسی ذی روح کو حرکت کرنے اور سانس لینے کی ہمت نہیں ہے میں ہی قرونِ گذشتہ کا مالک ہوں میں صامت ہوں اور محمد ناطق ہیں میں نے ہی موسیٰ علیہ السلام کو سمندر عبور کرایا اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت غرقاب کیا میں ہی جانوروں کے تقاضوں کو اور پرندوں کی بولیوں کو جانتا ہوں میں ہی پلک جھپکنے کی دیر میں ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے فاصلے طے کر سکتا ہوں جھولے میں عیسیٰ کی زبان سے گفتگو کرنے والا میں ہوں اور میرے ہی پیچھے عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے میں ہی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق صور میں تصرف کا مختار ہوں تا آخر 

یقیناً یہ خطبہ سیدنا علیؓ کی طرف منسوب کیا گیا باطل بے اصل اور بے اصل بدترین جھوٹ ہے جو اول تا آخر شرک و کفر سے لبریز ہے۔


صفحہ 4 از 4