شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 3 از 4

اس عقیدہ کے بیان میں کہ جنات ائمہ کے خدمت گار ہیں یہ ائمہ کے سامنے ظاہر ہو کر اپنے دینی مسائل کی بابت استفسار کرتے ہیں۔

باب أنهم يقدرون على احياء الموتى وابرء الاكمه والأبرص وجميع معجزات الانبياء عليہم السلام۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ کو مردوں کے جلانے مادر زاد اندھے اور برص زدہ کو شفاء دینے اور انبیاء علیہم السلام کے جملہ معجزات پر قدرت حاصل ہے۔

باب أن الملائكة تأتيهم وتطأ فرشهم وأنهم يرونهم صلوات الله عليہم اجمعين۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ فرشتے اںٔمہ کے پاس حاضر ہوتے ہیں ان کے بستروں پر بیٹھتے ہیں اور یہ ائمہ اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھتے ہیں۔

باب أنهم عليہم السلام لا يحجب عنهم علم السماء و الارض والجنة والنار وانه عرض عليهم ملكوت السماوات والارض ويعلمون ما كان وما يكون الى يوم القيامة۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ سے آسمان اور زمین جنت اور جہنم کی معلومات اوجھل نہیں ہیں

ان پر آسمانوں اور زمین کی سلطنتوں کو پیش کیا جاتا ہے اور وہ ماضی اور قیامت تک کے تمام حالات سے باخبر ہیں۔

كتاب بصائر الدرجات مؤلفه ابنِ جعفر محمد بن الحسن الصفار مطبوعہ الاعلمی ایران اس کتاب کی مکمل فہرست میں سے درج ذیل ابواب قابلِ غور ہیں:

باب الأعمال تعرض على رسول اللهﷺ والآئمة عليہم السلام۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ جملہ اعمال رسول اللہﷺ اور ائمہ کو پیش کیے جاتے ہیں۔

باب عرض الأعمال على الآئمة الأحياء والأموات۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ اعمال زندہ اور فوت شدہ ائمہ پر پیش کیے جاتے ہیں۔

باب فی أن الامام يرى ما بين المشرق والمغرب۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ امام مشرق اور مغرب کے مابین تمام اشیاء کا مشاہدہ کرتا ہے۔

باب فی أن الأئمة يحيون الموتى ويبرؤن الاكمه والأبرص باذن الله۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ کو مردوں کو زندہ مادر زاد اندھوں اور برص زدہ انسانوں کو اللہ کی توفیق سے درست کر دینے کی قدرت حاصل ہے۔

باب فى امير المؤمنين ان الله ناجاه بالطائف وغيرهما ونزل بينهما جبريل۔

اس حقیقت کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے امیر المومنین سے طائف وغیرہ کے مقامات میں سرگوشی فرمائی اس دوران جبریل علیہ السلام بھی ان کے درمیان موجود تھے۔

 باب فی علم الأئمة بما فى السماوات والارض والجنة والنار وما كان وما هو كائن الى يوم القيامة۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ آسمانوں زمین اور جنت جہنم کے حالات اور زمانہ ماضی اور آئندہ قیامت تک ہونے والے تمام امور و واقعات ائمہ کے علم میں ہیں۔

کتاب کامل الزیارات مؤلفه شیعی امام جعفر بن محمد بن قولویه مطبوعہ دار السرور بیروت (1997ء)۔

اس کتاب کی کامل فہرست میں سے درج ذیل ابواب پیش کیے جاتے ہیں: 

 باب من زار الحسينؓ كان كمن زار الله فی عرشه۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ جو شخص سیدنا حسینؓ کی زیارت کرتا ہے گویا کہ اس نے عرشِ معلیٰ پر مستوی اللہ کی زیارت کرلی ہے۔

 باب أن زيارة الحسينؓ والأئمة عليہم السلام تعدل زيارة قبر رسول اللهﷺ‎۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ اور دیگر ائمہ کی زیارت رسول اللہﷺ کی قبر کی زیارت کے ہم رتبہ ہے۔

باب أن زيارة الحسينؓ تحط الذنوب۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔

باب أن زيارة الحسينؓ تعدل عمرة۔ 

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت عمرہ کے مساوی ہے۔

باب أن زيارة الحسينؓ تعدل حجة

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت حج کے مساوی ہے۔

باب أن زيارة الحسينؓ تعدل حجة و عمرة۔

اس عقیدہ کے بیان کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت حج اور عمرہ کے ہمسر ہے۔

باب أن زيارة الحسينؓ ينفس بها الكرب ويقضى بها۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت غموں کے ازالے اور حاجت روائی کا ذریعہ ہے۔

باب ما يستحب من طين قبر الحسينؓ وأنه شفاء۔

حضرت حسینؓ کی قبر کی مٹی کی افضیلت اور اس سے شفاء ہونے کا بیان۔

باب ما يقول الرجل اذا اكل طين قبر الحسينؓ۔

قبرِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خاک کھانے والا شخص کون سے کلمات پڑھے۔

باب ان زائرين الحسينؓ يدخلون الجنة قبل الناس۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کے زائرین سب لوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

کتاب نور العين فی المشى الى زيارة قبر الحسينؓ مؤلفه محمد بن حسن مطبوعه دار المیزان بیروت۔

فہرستِ کتاب میں سے چند ابواب:

باب أن زائرين الحسين عليه السلام يعطى له يوم القيامة نور يضيىء لنوره ما بين المشرق والمغرب۔ 

اس عقیدہ کے بیان میں کہ قیامت کے دن سیدنا حسینؓ کے زائر کو ایسے نور سے سرفراز کیا جائے گا جس سے مشرق اور مغرب کے مابین سب کچھ منور ہو جائے گا۔

باب أن زيارته عليه السلام توجب العتق من النار۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔

باب أن زيارته غفران ذنوب خمسين سنة۔

اس عقیدہ کے بیان کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت کے نتیجہ میں پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

باب أن زيارة الحسين عليه السلام تعدل الأعتاق والجهاد والصدقة والصيام۔ 

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت غلام کی آزادی جہاد صدقہ اور روزہ (سے حاصل ہونے والے اجر و ثواب) کے مساوی ہے۔

باب أن زيارة الحسين عليه السلام تعدل اثنتين وعشرين عمرة۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت بائیس عمروں (کے ثواب) کے برابر ہے۔

باب أن زيارة الحسين عليه السلام تعدل حجة لمن لم يتهيأ له الحج وتعدل عمرة لمن لم يتهيأ له عمرة۔

اس عقیدہ کا بیان کہ سیدنا حسینؓ کی زیارت مفلس و نادار شخص کے لیے حج اور عمرہ کی سعادت کے برابر ہے۔

باب أن الله تبارك وتعالیٰ يتجلى لزوار قبر الحسين عليه السلام ويخاطبهم بنفسه۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ قبر سیدنا حسینؓ کے زائرین کے سامنے ظہور فرماتا اور ان سے براہِ راست ہمکلام ہوتا ہے۔ 

باب أن الله جل وعلا يزور الحسين عليه السلام فی كل ليلة جمعة۔ 

اس عقیدہ کے بیان میں کہ اللہ عزوجل ہر جمعہ کی رات کو بذاتِ خود سیدنا حسینؓ کی زیارت کرتا ہے۔

باب أن الانبياء يسألون الله فی زيارة الحسين عليه السلام۔ 

اس عقیدہ کے بیان کہ انبیاء علیہم السلام الله تعالیٰ سے سیدنا حسینؓ کی زیارت کی درخواست کرتے ہیں۔

صفحہ 3 از 4