شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 4

صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ شیعہ امامیہ نے تو سیدنا حسین بن علیؓ کے متعلق اس قدر غلو اختیار کر رکھا ہے کہ آپ کو ان کی ریاستِ ایران کے تمام راستوں اور عام شاہراہوں پر پانی پینے کے لیے نصب شدہ واٹر کولر نظر آئیں گے جن پر واضح لفظوں میں لکھا ہوتا ہے "بنوشید بنامِ حسین" یعنی سیدنا حسینؓ کا نام لے کر پیو۔ اس سے اور صریح شرک سے اللہ کی پناہ!۔

(6)۔ ائمہ کی قبور کی زیارت حج سے بھی زیادہ بڑی عبادت ہے:

شیعوں کے مذہبی قائد اور ان کے امام کلینی نے فروع الکافی میں لکھا ہے:

ان زيارة قبر الحسينؓ تعدل عشرين حجة وافضل من عشرين عمرة وحجة۔

 (فروع الكافی: 59)۔

یہ حقیقت ہے کہ سیدنا حسینؓ کی قبر کی زیارت بیس حجوں کے مساوی بلکہ بیس حج اور عمروں سے بھی زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔

قارئین کرام! ذیل میں آپ کے سامنے شیعہ اثناء عشریہ کے اپنے ائمہ اور ان کے قبور کی زیارت کے متعلق اختیار کیے گئے بدترین غلو کو آشکار کیا جاتا ہے اس سلسلے میں آپ کے سامنے شیعہ اثناء عشریہ کی معتمد ترین کتابوں کے ابواب اور ان کی فہرستوں کو پیش کیا جا رہا ہے جن کے مطالعہ سے آپ کو خوب اندازہ ہو جائے گا کہ یہ لوگ اپنے ائمہ کے متعلق کتنے سنگین غلو کا شکار ہیں ان کتابوں میں سے چند ایک کی تفصیل درج ذیل ہے۔

کتاب الکافی مؤلفہ محمد یعقوب الکلینی مطبوعہ دارالتعارف بیروت کی فہرست اس کتاب کی مجموعی فہرست میں سے صرف درج ذیل عنوانات ملاحظہ کریں:

باب أن الأئمة عليہم السلام ولاة امر الله، وخزانة علمه۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ حکومتِ الہٰیہ کے حکمران اور اس کے علم کے خازن ہیں۔

 باب أن الآئمة عليہم السلام نور الله عزوجل۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ اللہ عزوجل کا نور ہیں۔

باب أن الأئمة عليہم السلام اذا شاءوا ان يعلموا علموا۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ جب بھی کسی شئے کو جاننا چاہیں انہیں مکمل علم ہو جاتا ہے۔ 

 باب أن الأئمة عليہم السلام يعلمون متى يموتون وانھم لا يموتون الا باختيار منهم۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ کو اپنی موت کے وقت کا علم ہوتا ہے اور ان کی مرضی کے مطابق ہی انہیں موت آتی ہے۔

 باب أن الآئمة عليہم السلام يعلمون علم ما كان وما يكون وانه لا يخفى عليهم شیء۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ ما کان و ما یکون کا علم رکھتے ہیں ان سے کوئی بھی شئے پوشیدہ نہیں ہوتی۔

 باب عرض الأعمال على النبی اللهﷺ والآئمة عليہم السلام۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ (انسانوں اور جنوں کے) تمام اعمال نبی کریمﷺ اور ائمہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔

 باب أن الآئمة عليہم السلام معدن العلم وشجرة النبوة ومختلف الملائكة۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ علم کی کان نبوت کا نسب اور فرشتوں کی بار بار حاضری کا مرکز ہیں۔

 باب أن الأئمة ورثوا علم النبی وجميع الانبياء والأوصياء الذين من قبلهم۔

اس عقیدہ کے بارہ میں کہ ائمہ نبی اکرمﷺ سمیت سابقہ تمام انبیاء علیہ السلام اور اوصیاء کے علوم کے وارث ہیں۔

 باب أن الآئمة عليہم السلام عندهم جميع الكتب التی نزلت من عند الله عزوجل وانهم يعرفونها على اختلاف السنتها۔

اس عقیدہ کے بیان کہ ائمہ کے پاس تمام منزل من الله کتابیں موجود ہیں اور وہ زبانوں کے اختلاف کے باوجود ان سب کتب کی معرفت بھی رکھتے ہیں۔

باب أنه لم يجمع القرآن كله الا الآئمة عليہم السلام۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ مکمل قرآن کے جامع صرف ائمہ ہیں۔

 باب أن الأئمة عليہم السلام يعلمون جميع العلوم التی خرجت الى الملائكة والانبياء والرسل۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ فرشتوں نبیوں اور رسولوں کے جملہ علوم سے آگاہ ہیں۔

فہرست کتاب بحارالانوار مؤلفه محمد باقر مجلسی مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت اس کتاب کی ساری فہرست میں سے درج ذیل سرخیاں قابلِ توجہ ہیں۔

 باب أن الله تعالیٰ يرفع للامام عمودا ينظر الى اعمال العباد۔  

اس عقیدہ کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ امام کے لیے بلند ستون قائم کرتا ہے جس سے وہ لوگوں کے اعمال کو دیکھتا ہے۔

باب انه لا يحجب عنهم شئ من احوال شيعتهم وما تحتاج اليه الآئمة من جميع العلوم وانهم يعلمون ما يصيبهم من البلايا ويصبرون عليها وانهم يعلمون ما فى الضمائر وعلم المنايا والبلايا وفصل الخطاب والمواليد۔

اس عقیدہ کے بارہ میں کہ ائمہ اپنے شیعوں کے حالات اور ائمہ کو مطلوب جملہ علوم سے پوری آگاہی ہوتی ہے یہ اپنے اوپر مسلط ہو جانے والی آزمائشوں سے بے خبر ہوتے ہیں تاہم وہ ان پر صبر کو اختیار کر لیتے ہیں یہ ائمہ دل کے بھیدوں اموات و مصائب فیصلہ کن کلام اور پیدائشوں کے علوم سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔

 باب أن عندهم جميع علوم الملائكة والأنبياء وانهم اعطوا ما اعطاه الله الانبياء وان كل امام يعلم جميع علم الامام الذی قبله۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ کے پاس ملائکہ اور انبیاء علیہم السلام کے تمام علوم موجود ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کو عطا فرمودہ تمام صفات و خصوصیات انہیں حاصل ہوتی ہیں اور ہر امام اپنے پیشر و امام کے تمام علوم سے مزین ہوتا ہے۔

باب أنهم اعلم من الانبياء عليہم السلام۔

اس عقیدہ کے بیان کہ ائمہ انبیاء علیہم السلام سے بھی زیادہ علم رکھتے ہیں۔

باب أنهم يعلمون متى يموتون وانه لا يقع ذلك الا باختيارهم۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ کو اپنے وقتِ اجل کا پتہ ہوتا ہے اور موت بھی ان پر ان کی مرضی کے مطابق آتی ہے۔

باب أحوالهم بعد الموت وأن لحومهم حرام على الارض وانهم يرفعون الى السماء۔

موت کے بعد ائمہ کے حالات زمین پر ان کے گوشت کے حرام ہونے اور ان کے آسمان پر اٹھا لیے جانے کے بیان میں۔

باب أنهم يظهرون بعد موتهم ويظهر منهم الغرائب۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ کا موت کے بعد بھی ظہور ہوتا ہے (نہ صرف یہی بلکہ) ان کی طرف سے عجائبات کا صدور بھی ہوتا ہے۔

باب أن أسماءهم عليہم السلام مكتوبة على العرش و الكرسى و اللوح وجباه الملائكة وباب الجنة وغيرها۔

اس عقیدہ کے بیان میں کہ ائمہ کے نام عرش کرسی لوح (محفوظ) فرشتوں کی پیشانیوں اور جنت وغیرہ کے دروازہ پر نقش شدہ ہیں۔

باب أن الجن خدامهم يظهرون لهم ويسألونهم عن معالم دينهم۔

صفحہ 2 از 4