شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 4

شیعہ کا توحید الوہیت کے متعلق عقیدہ

 امام اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں:

شیعہ امامیہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے ائمہ اللہ اور اس کی مخلوق کے مابین وسیلہ اور واسطہ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے امام مجلسی نے اپنی کتاب "بحارالانوار" میں اس عقیدہ کی یوں صراحت کی ہے اس نے لکھا ہے:

فانهم حجب الرب والوسائط بينه وبين الخلق۔ 

(بحار الانوار جلد 97 صفحہ 23)۔

ائمہ رب کے درمیان اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ ہوتے ہیں۔ 

اس طرح ان کے اسی دینی قائد مجلسی نے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے:

باب الناس لا يهتدون الابهم وانهم الوسائل بين الخلق وبين الله وانه لا يدخل الجنة الا من عرفهم۔

یہ باب اس (عقائدی) مسئلے میں ہیں کہ لوگوں کو ہدایت صرف ائمہ کے ذریعے سے نصیب ہوتی ہے اور یہ ائمہ اللہ اور اس کی مخلوق کے درمیان وسیلہ ہوتے ہیں اور جنت میں داخلہ بھی انہی لوگوں کو نصیب ہوگا جن کو ائمہ کی معرفت حاصل ہوگی۔

(2)۔ ائمہ کی قبور مدد مہیا کرتی ہیں:

شیعہ امامیہ اپنے ائمہ سے ایسے معاملات میں مدد طلب کرتے ہیں جن پر صرف اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہ ان کے امام ان سے شفاء طلب کرنے والوں کے لیے بذاتِ خود بہت بڑی شفاء اور اکسیر دوا کی حیثیت رکھتے ہیں مجلسی نے اپنی کتاب بحارالانوار مطبوعہ دارالاحیاء التراث العربی بیروت میں لکھا ہے:

اذا كان لك حاجة الى الله عزوجل فاكتب رقعة على بركة الله واطرحه على قبر من قبور الأئمة ان شئت او فشدها واختمها واعجن طينا نظيفا واجعلها فيه واطرحها فی نهر جار أو بئر عميقة او غدير ماء فانها تصل الى السيد وهو يتولى قضاء حاجتك بنفسه۔ 

(بحار الانوار: جلد 94 صفحہ 29)۔

جب بھی تجھے اللہ عزوجل سے کوئی ضرورت پیش آئے تو اللہ پر توکل کرتے ہوئے تو اپنی حاجت کو ایک کاغذ پر تحریر کر کے ائمہ کی قبور میں سے کسی قبر پر ڈال دے یا اسے مہر لگا کر لپیٹ لے اور پھر صاف پاک گوندھی ہوئی مٹی میں اسے رکھ کر کسی بہتی نہر میں گہرے کنوئیں میں یا پانی کی کسی جھیل میں ڈال دے تیری یہ طلب امام تک پہنچ جائے گی اور امام بذات خود تیری ضرورت کو پورا کر دے گا۔

(3)۔ ائمہ کو قانون سازی کا حق حاصل ہے:

شیعہ امامیہ اپنے ائمہ کو حلت و حرمت کا بااختیار جانتے اور انہیں قانون سازی کا حق دیتے ہیں ان کے امام کلینی نے اصول الکافی اور مجلسی نے بحار الانوار میں لکھا ہے:

خلق اى الله محمداﷺ وعلياؓ و فاطمةؓ فمكثوا الف دهر ثم خلق جميع الاشياء فأشهدهم خلقها واجرى طاعتهم عليها وفوض امورها اليهم فهم يحلون ما يشاءون ويحرمون ما يشاءون۔ 

(اصول الكافی جلد 1 صفحہ 441 ، بحار الانوار جلد 25 صفحہ 240)۔

اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہؓ کو تخلیق فرمایا ان کی تخلیق کے ہزارہا سال بعد اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات کو پیدا کیا اور ان کو اپنی مخلوقات کی آفرینش کا گواہ بنایا اور ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کو ان پر لازم کر دیا اور ان کے تمام امور کی دیکھ بھال کو ان کے سپرد کر دیا لہٰذا وہ چاہیں تو کسی شئے کو حلال کر دیں اور چاہیں تو کسی چیز کو حرام قرار دے دیں۔

(4)۔ ائمہ کی قبور نذر و نیاز کا محل اور قربان گاہ ہیں:

شیعہ امامیہ اپنے ائمہ کی قبروں کی عبادت کرتے ان پر جانور ذبح کرتے اور ان کے ہاں منت مانتے اور ان کے نام کی قسمیں کھاتے ان سے مرادیں طلب کرتے انہیں پکارتے ان سے مدد مانگتے ان پر رکوع و سجود کرتے اور ان مزاروں خانقاہوں اور مقبروں کے لیے خطیر اموال کی نذریں مانتے ہیں یہاں تک کہ ایران میں موجود ہر مقبرہ مزار کا بینک میں بہت بڑا کھاتہ کھلا ہوا ہے جس میں مختلف قسم کے عطیات اور نذرانوں کو جمع کیا جاتا ہے 

(5)۔ سیدنا حسینؓ کی قبر ہر بیماری کی دوا ہے:

شیعوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت حسین بن علیؓ کی قبر ہر بیماری کے لیے ذریعہ شفاء ہے اور ان کے مذہبی قائد مجلسی نے اپنی کتاب بحارالانوار میں تقریبا 83 روایات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کے متعلق اور اس کے فضائل و احکام اور آداب کے ضمن میں وارد کی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے:

قال ابو عبدالله حنكوا اولادكم بتربة الحسينؓ فانه امان۔ 

ابو عبداللہ (سیدنا جعفر صادقؒ) کا فرمان ہے کہ اپنی اولاد کو تربتِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھٹی دیا کرو یہ ان کے لیے جملہ امراض سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

اس کے بعد انہوں نے یہ فرمایا:

ثم يقوم ويتعلق بالضريح ويقول يا مولاى یا ابنِ رسول الله انی آخذ من تربتك باذنك اللهم فأجعلها شفاء من كل داء وعزا من كل ذل وامنا من كل خوف وغنى من كل فقر۔

پھر کھڑا ہو جائے قبرِ حضرت حسینؓ سے لپٹ جائے اور یوں کہے: اے میرے آقا اے نواسئہ رسول اللہ میں نے تیری توفیق سے ہی تیری لحد کی خاک اٹھائی ہے اسے آپ ہر بیماری کے لیے شفاء کا ذریعہ ہر ذلت اور رسوائی کے مقابلے میں عزت کا ہر خوف کے سامنے امن کا اور ہر قسم کے افلاس کے مد مقابل بے نیازی کا ذریعہ بنادے۔

اسی طرح خمینی نے بھی اپنے عقیدت مندوں اور مریدوں کو شفاء حاصل کرنے کی خاطر سیدنا حسینؓ کی قبر کی خاک کھانے کا فتویٰ دیا ہے اس کی رائے کے مطابق قبرِ سیدنا حسینؓ کو جو شرف اور فضیلت حاصل ہے اس کا مقابلہ کوئی بھی خاک حتٰی کہ رسولِ کریمﷺ کی قبر شریف کی خاک بھی نہیں کر سکتی اس نے اپنی کتاب تحریر الوسیلہ میں لکھا ہے:

يستثنیٰ من الطين طين قبر سيدنا ابی عبدالله الحسینؓ للاستشفاء ولا يجوز اكله بغيره ولا اكل ما زاد عن قدر الحمصة المتوسطة ولا يلحق به طين غير قبره حتى قبر النبیﷺ‎ والأئمة عليهم السلام۔ 

(تحرير الوسيلة : جلد 2 صفحہ 164)۔

شفاء کی خاطر مٹی کھانے کی ممانعت سے سیدنا ابوعبداللہ حسینؓ کی قبر کی مٹی کو تخصیص و استثناء حاصل ہے تاہم اس کا کھانا بھی صرف شفاء کی طلب کے لیے جائز ہے اور وہ بھی صرف درمیانے سائز کے چنے برابر آپ (سیدنا حسینؓ) کی قبر کی مٹی کی ہمسری کوئی بھی مٹی حتٰی کہ نبی اکرمﷺ اور ائمہ علم کی قبور کی مٹی بھی نہیں کر سکتی۔

صفحہ 1 از 4