شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی ابتداء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی ابتداء

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 2 از 3

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے اہلِ علم کی ایک جماعت کا بیان ہے کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا، دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار کیا، چنانچہ جن دنوں وہ یہودیت پر قائم تھا تو وہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع بن نون کے متعلق جو دعویٰ کیا کرتا تھا، بعینہٖ وہی دعویٰ اس نے اسلام قبول کرنے اور نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد سیدنا علیؓ کے بارے میں کیا۔

اسی طرح عبداللہ سباء کے وجود کی حقیقت کو تسلیم کرنے والوں میں سے ابنِ ابی الحدید بھی ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ابنِ سباء ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں غلو کو اختیار کیا، چنانچہ اس نے شرح نہج البلاغہ میں لکھا ہے:

واول من جهر بالغلو فی ايامه- اى: فی ايام علی بن ابی طالب عبدالله بن سباء فقام اليه وهو يخطب۔ فقال له: انت انت وجعل يكررها فقال له۔اى على بن أبی طالب ويلك من انا فقال: انت الله فامر باخذه واخذ قوم كانوا معه على رأيه

 علی بن ابی طالب کے دور میں سب سے پہلے غلو کو علی الاعلان اختیار کرنے والا شخص عبداللہ بن سباء تھا۔ یہ علی الاعلان سیدنا علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے دوران کھڑا ہوا اور آپ سے کہنے لگا تو ہے تو ہے بار بار وہ یہی کلمہ دہرانے لگا، تو آپ نے (یعنی حضرت علیؓ) نے اس سے دریافت فرمایا، تیری بربادی ہو۔ میں کون ہوں؟ تو اس نے کہا آپ اللہ ہیں چنانچہ آپ نے ابنِ سباء کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا جو اس کے ہم عقیدہ تھے۔

امام نعمۃ اللہ الجزائری شیعہ امام ہے، وہ اپنی کتاب الانوار النعمانیہ میں ابنِ سباء کے متعلق یوں رقم طراز ہیں:

وقيل:انه يهوديا فأسلم، اللهم ای: ابن سباء انه كان يهوديا فاسلم وكان فی اليهودية يقول فی يوشع بن نون، وفى موسىٰ مثل ما قال فی على 

(الأنوار النعمانية: جلد2 صفحہ 234)

بیان کیا جاتا ہے کہ وہ (ابنِ سباء) یہودی تھا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گیا، اللہ گواہ ہے کہ ابنِ سباء واقعتًہ یہودی تھا، جو بعد میں مسلمان ہو گیا اور وہ اپنے یہودیت کے دور میں یوشع بن نون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق وہی کچھ کہہ چکا تھا، جس کا اظہار اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا تھا۔

 واضح ہوا کہ عبداللہ بن سباء یہودی کی شخصیت تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے۔ اثناء عشری شیعہ اماموں کی شہادت کو ابھی ہم نے ان کی اس گفتگو اور ان کی مستند ترین کتب سے ملاحظہ کر لیا ہے، لہٰذا اب ایسا قطعاً نہیں ہو سکتا کہ دورِ حاضر کا کوئی شیعی امام آئے اور وہ اس خبیث یہودی کے وجود کا انکار کر دے، جس نے شیعہ امامیہ کے عقائد کی بنیاد تعمیر کی تھی۔

تیسری بحث

شیعہ امامیہ کی مشہور ترین شخصیات اور مؤلفات:

شیعہ امامیہ کی مشہور ترین شخصیات، ان کے بارہ امام ہیں، جنہیں شیعہ امامیہ اپنے امام تسلیم کرتے ہیں، حالانکہ یہ ائمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شیعی عقائد سے لا تعلق ہیں۔ وہ ان تمام خلافِ حقیقت، باطل اور جھوٹے اقوال و اعمال سے بری الذمہ ہیں، جن کو شیعہ امامیہ ان ائمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ شیعوں کے نزدیک ان بارہ اماموں کی ترتیب درج ذیل ہے۔

پہلا امام:

 علیؓ بن ابی طالب، لقب مرتضیٰ، کنیت ابو الحسن، چوتھے خلیفہ راشد اور دامادِ رسول اللہﷺ ہیں۔ انہیں گمراہ اور گمراہ کن عبدالرحمٰن بن ملجم نے مسجدِ کوفہ میں قاتلانہ حملے کے ذریعے شہید کر دیا۔

دوسرا امام:

حسن بن علیؓ بن ابی طالب، شیعہ انہیں مجتبیٰ اور ایک قول کے مطابق زکی کا لقب دیتے ہیں، ان کی کنیت ابو محمد ہے۔

تیسرا امام:

حسین بن علیؓ بن ابی طالب، شیعہ انہیں شہید کا لقب دیتے ہیں، واقعتاً آپؓ شہادت کے درجہ عالیہ پر فائز ہیں، ایک قول کے مطابق انہیں سید الشہداء کہا جاتا ہے، جب کہ آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔

چوتھا امام:

 علی بن حسین بن علی بن ابی طالب، شیعہ انہیں سجاد اور ایک قول کی رُو سے زین العابدین کا لقب دیتے ہیں، ان کی کنیت ابو محمد ہے۔

پانچواں امام:

محمد بن علی بن الحسین رحمۃ اللہ ہے ، انہیں باقر کا لقب اور ابو جعفر کی کنیت دی جاتی ہے۔

چھٹا امام:

جعفر بن محمد بن علی رحمۃ اللہ، انہیں صادق کا لقب اور ابو عبد اللہ کی کنیت دیتے ہیں۔

ساتواں امام:

موسیٰ بن جعفر صادق رحمۃ اللہ، لقب کاظم اور کنیت ابو ابراہیم سے ان کے نزدیک معروف ہے۔

آٹھواں امام:

علی بن موسیٰ بن جعفر رحمۃ اللہ، شیعہ انہیں رضی کا لقب اور ابوالحسن کی کنیت دیتے ہیں۔

نواں امام:

محمد بن علی بن موسیٰ رحمۃ اللہ، انہیں تقی کا اور دوسرے قول کے مطابق جواد کا لقب اور ابو جعفر کی کنیت دیتے ہیں۔

دسواں امام:

علی بن محمد بن علی رحمۃ اللہ، شیعہ انہیں نقی یا ہادی کا لقب اور ابوالحسن کی کنیت دیتے ہیں۔

گیارہواں امام:

حسن بن علی بن محمد رحمۃ اللہ، انہیں زکی یا عسکری کا لقب دیا جاتا ہے۔ ان کی کنیت ابو محمد ہے۔

بارہواں اور آخری امام:

محمد بن الحسن العسکری، انہیں شیعہ مہدی اور ایک قول کے مطابق حجتہ القائم المنتظر کا لقب دیتے ہیں، ان کی کنیت ابو القاسم ہے۔ شیعہ کے نزدیک آپ حجت الغائب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ولادت 256ھ میں ہوئی، ان کی غیبت صغریٰ 260ھ اور غیبت کبریٰ 329ھ کو وقوع پذیر ہوئی۔ شیعوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ان کا یہ بارہواں امام سامرہ میں اپنے باپ کے گھر میں واقع غار سر من رأی میں داخل ہوا اور تا حال ان کا خروج نہیں ہوا۔

علی بن ابراہیم القمی ابو الحسن، ہلاکت 307ھ:

یہ اپنی کتاب تفسیر القمی کے ساتھ مشہور ہے، اس اللہ کے دشمن نے اپنی اس تفسیر میں قرآن کریم کے محرف ہونے کی صراحت کی ہے۔ تفسیر القمی کے علاوہ التاريخ، الشرائع، الحيض، التوحيد والشرک، فضائل امیر المومنین اور المغازی نامی کتب بھی اس کی مؤلفات ہیں۔

محمد بن یعقوب الکلینی ابو جعفر، ہلاکت 328ھ:

یہ کتاب الکافی کا مؤلف ہے، اس نے اپنی اس کتاب کے صرف پہلے اور دوسرے جزء کے بائیس صفحات میں قرآن کریم کی تحریف کو ثابت کیا ہے۔ یہ بہت بڑی کتاب ہے اور اصول و فروع اور تہذیب و اخلاق کی تین اقسام پر مشتمل ہے۔

محمد بن علی بن حسین بن بابویہ القمی، ہلاکت 381ھ

صفحہ 2 از 3