خادم اور خادمائیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خادم اور خادمائیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے معلق روایت کیا اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تغلیق التعلیق‘‘ کی جلد 2 صفحہ 290 پر یہ روایت موصول تحریر کی ہے اور اس کے آخر میں کہا: ’’یہ اثر صحیح ہے۔

اس کے حوالے سے عبداللہ بن ابی ملیکہ (یہ عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ ابوبکر مکی ہیں۔ الامام، الحجہ، الحافظ اور شیخ الحرم تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں یا اس سے پہلے پیدا ہوئے۔ یہ عالم، مفتی، حدیث کے راوی اور متقن تھے۔ ابن زبیر کی طرف سے منصب قضا اور اذان کے لیے مقرر ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 5 صفحہ 88۔ تہذیب التہذیب: جلد 3 صفحہ 199)کی مشہور روایت ہے کہ ’’وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بالائی وادی (آج کل اسے باب العوالی کہتے ہیں) میں آتا، اس کے ساتھ عبید بن عمیر (یہ عبید بن عمیر بن قتادہ ابو عاصم مکی تھے۔ اہل مکہ کے قصہ گو تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں پیدا ہوئے۔ یہ عالم، واعظ اور کبار تابعین میں سے تھے اور ثقہ تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔ یہ 68ھ میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 156۔ تہذیب التہذیب: جلد 4 صفحہ 48) اور مسور بن مخرمہ اور متعدد لوگ ہوتے۔ (یہ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مختلف مسائل پوچھنے اور فتویٰ لینے جاتے تھے) تو انھیں عائشہ رضی اللہ عنہا کا آزادہ کردہ غلام ابو عمرو امامت کراتا۔ ابو عمرو اس وقت تک غلام تھا، ابھی آزاد نہیں ہوا تھا۔‘‘ (اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ’’المسند‘‘ میں نمبر 224 پر روایت کیا۔ عبدالرزاق نے’’مصنف‘‘ میں جلد 2 صفحہ 393 اور ابن ابی شیبہ نے جلد 2 صفحہ 218 پر، بیہقی نے جلد 3 صفحہ 88 پر حدیث نمبر 5325۔ امام نووی نے ’’الخلاصہ‘‘ جلد 2 صفحہ 693 پر لکھا اس کی سند صحیح یا حسن ہے

6۔لیلیٰ: ایک روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک آزاد کردہ خادمہ لیلیٰ نامی تھی۔ 

امام حاکم رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ بواسطہ منہال بن عبید اللہ بواسطہ ایک آدمی لیلیٰ سے روایت کی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ تھیں۔ انھوں نے کہا:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا میں گئے، پھر میں گئی تو وہاں کچھ نہ دیکھا اور میں نے کستوری کی خوشبو پائی۔ چونکہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنّ الْاَرْضَ أُمِرَتْ أَنْ تَکْفِیَہٗ مِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِیَائِ۔

(المستدرک: جلد 4 صفحہ 81۔ امام وادعی نے کہا: یہ روایت منقطع ہے۔ ہمیں منہال بن عبید اللہ کا حال معلوم نہیں۔ المستدرک: جلد 4 صفحہ 166)

’’بے شک زمین کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم انبیا کے گروہ کی طرف سے اس کے لیے وہ کافی ہو جائے۔‘‘


صفحہ 2 از 2