مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام…

مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام بھی ہے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ جب عام اہلِ ایمان پر واجب ہے کہ اپنے جھگڑوں میں صرف علم اور عدل پر مبنی بات کریں ۔اور اختلافی مسائل کو حل کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دیں ۔ جب دوسرے لوگوں کے باہمی معاملات میں عدل کو یہ اہمیت حاصل ہے تو صحابہؓ دوسروں کی نسبت عدل و انصاف کیے جانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ اگر کوئی طعنہ زنی کرنے والا حکمرانوں پر طعنہ زنی کرے؛ کسی بادشاہ پر؛ یا حکمران پر؛ یا امیر یا والی پر یا شیخ پر؛ یا اس طرح کے دیگر کسی انسان پر طعنہ زنی کرے؛ اور اسے کافر اور دوسروں کی ولایت یا کسی بھی معاملہ پر سرکشی کرنے والا قرار دے؛ اور کسی دوسرے کو عالم ؛عادل او رہر خطاء اور گناہ سے مبراء گردانے؛اور پھر جو بھی انسان اس پہلے انسان[حاکم یا والی] سے محبت اور دوستی رکھے؛ تو اسے کافر اور ظالم اور سبُّ وشتم کا مستحق جانے؛ اور اسے گالی دینا شروع کر دے۔تو بلاشک و شبہ ایسے انسان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ عادل و علم پر مبنی بات کریں ۔


صفحہ 4 از 4