مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام…

مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام بھی ہے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں ، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ [النساء:65]

’’ پس نہیں ! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کر لیں ، پوری طرح تسلیم کرنا۔‘‘

پس جو کوئی اپنے باہمی جھگڑوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ کے فیصلوں کا التزام نہ کرتا ہو؛ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم اٹھاکر فرمایا ہے کہ وہ مؤمن نہیں ہو سکتا۔ اور جو کوئی ظاہری اور باطنی طور پر اللہ تعالیٰ اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا ہو؛ لیکن اپنی خواہشات کے بہکاوے میں آ کر نافرمانی کر بیٹھے ؛ تو یہ بھی دوسرے گنہگاروں کی طرح ہے۔

یہ وہ آیت ہے جس سے خوارج نے ان مسلمان حکمرانوں کے کافر ہونے پر استدلال کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ اور پھر یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا اعتقاد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اور لوگوں نے اس سلسلہ میں طویل کلام کیا ہے؛ جس کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔

شریعت کے فیصلوں کی پابندی واجب ہے

مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ عدل و انصاف کے تقاضا کے مطابق فیصلہ صادر کرنا ہر زمان و مکان میں ہر شخص پر ہر ایک کے لیے واجب ہے ۔ خصوصاً شریعت محمدی کی روشنی میں حکم صادر کرنا ایک خاص قسم کا عدل ہے جو عدل کے جملہ انواع سے اکمل و احسن ہے۔ یہ فیصلہ نبی کے لیے بھی ضروری ہے اور اتباع نبی کے لیے بھی۔ اس کی پابندی نہ کرنے والا یقیناً کافر ہے۔ ایسا فیصلہ امت کے جملہ متنازعہ امور میں ضروری ہے؛ خواہ وہ اعتقادی ہوں یا عملی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیّٖنٰتُ﴾ [البقرہ:213]

ترجمہ:’’لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبی بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے، اور ان کے ہمراہ حق کے ساتھ کتاب اتاری، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا اور اس میں اختلاف انہی لوگوں نے کیا جنہیں وہ دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیلیں آ چکیں۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہُ اِِلَی اللّٰہِ﴾ [الشوری:10]

’’ اور وہ چیز جس میں تم نے اختلاف کیا، کوئی بھی چیز ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ﴾ ( النساء:59)

ترجمہ:’’اگر کسی بات میں تمہارے یہاں تنازع پیدا ہو جائے تو اسے اللہ و رسول کی طرف لوٹاؤ۔‘‘

امت کے درمیان جملہ امور مشترکہ میں صرف اور صرف کتاب و سنّت کا فیصلہ ناطق ہو گا نہ کہ کسی عالم و امیر یا کسی شیخ و سلطان کا فیصلہ ۔اور جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ لوگوں کے مابین کچھ بھی فیصلہ کرسکتا ہے؛ اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے مطابق فیصلہ نہ کرے؛ تو وہ کافر ہے۔ مسلمان حکمران چند متعین امور میں فیصلے کرتے ہیں ۔ وہ کلی امور میں فیصلے نہیں کرتے۔ اور جب متعین امور میں فیصلے کرتے ہیں تو ان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں ۔ اگر کتاب اللہ میں حکم نہ ملے تو پھر سنت رسول اللہﷺ کے مطابق ؛ اور اگر وہاں بھی کوئی حکم نہ ملے تو پھر حکمران اپنی رائے سے اجتہاد کرے۔

نبی کریمﷺ فرماتے ہیں : ’’قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ، دو قاضی دوزخی اور ایک جنتی ہو گا۔‘‘

¹۔ جو قاضی حق کو معلوم کر کے اس کے مطابق فیصلہ کرے وہ جنت میں جائے گا۔

²۔ جو قاضی حق کو جاننے کے باوجود اس کے برخلاف فیصلہ کرے وہ جہنمی ہو گا

³۔ جو جہالت کی بنا پر لوگوں کا فیصلہ کرے وہ دوزخ میں جائے گا۔[سنن ابی داؤد۔ کتاب الأقضیۃ، باب فی القاضی یخطیٔ(حدیث:3573)، سنن ابن ماجۃ، کتاب الاحکام۔ باب الحاکم یجتھد فیصیب الحق(حدیث:2315)۔ ] جب کوئی شخص علم و عدل کی روشنی میں فیصلہ کرے اور اس کا اجتہاد مبنی بر صواب ہو تو اسے دو اجر ملیں گے اور اگر اس کا اجتہاد درست نہ ہو تو وہ ایک اجر کا مستحق ہے۔[صحیح بخاری، کتاب الاعتصام باب اجر الحاکم اذا اجتھد ....‘‘ (حدیث:7352)، صحیح مسلم، کتاب الاقضیۃ، باب بیان اجر الحاکم اذا اجتھد (حدیث:1716)۔] جیساکہ صحیحین میں دو مختلف اسناد سے نبی کریمﷺ سے ثابت ہے۔ 

صفحہ 3 از 4