آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 17

اور ظاہر ہے کہ غلبہ اجتماعی قوت سے ہوتا ہے اور اجتماعی قوت کا مدار اتحاد و اتفاق اور باہمی الفت پر ہے لہٰذا حضورﷺ کی بعثت کے دوران یہ مقصد بیان ہوئے حضورﷺ نے قبائلِ عرب میں ایسا اتحاد قائم کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی وہ اوس و خزرج جو صدیوں سے آپس میں برسر پیکار تھے ایسے شیر و شکر ہوئے کہ دوئی کا نشان مٹ گیا اور اجتماعی قوت کا اظہار غزوہ تبوک تک اس انداز میں ہوا کہ آج تک ارباب سیاست انگشت بدنداں ہیں مگر عملاً یہ تمام پیشگوئیاں خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں پوری ہوئیں اس وقت کی منتظم اور جابر حکومتوں ایران و روم کو خلفائے ثلاثہؓ نے مغلوب کیا لہٰذا یہی جماعت حزب اللہ ہے ان آیات کی مصداق یہی جماعت ہے ان کا ہاتھ رسولﷺ کا ہاتھ ہے جس نے کفر کی کمر توڑ کے رکھ دی اور یظھر علی الدین کلہ کی عملی تفسیر کر کے دنیا کو دکھا دیا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتؓ کی جماعت حزب اللہ ہے جس نے خلفائے ثلاثہؓ کی قیادت میں کتب الله لا غلبن انا و رسلی کی عملی تفسیر کر کے دکھا دی۔ اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے اور ان آیات کا مصداق یہی ہے لہٰذا دین حق مسلک اہلِ سنت والجماعت یہی ہے۔

ان آیات کی روشنی میں مذہب شیعہ کے عقائد کا جائزہ لیا جائے تو عجیب مایوسی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیدنا سلمان فارسیؓ سیدنا مقدادؓ اور سیدنا ابوذرؓ کے سوا سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہوگئے اگر اسے تسلیم کرلیا جائے تو نبی کریمﷺ کی کامیابی کا ثبوت کہاں سے لائیں گے حضورﷺ کی 23 برس کی کوشش کا ما حصل صرف تین آدمی ہیں؟۔

پھر حضورﷺ کے بعد غلبہ تو خلفائے ثلاثہؓ کو ہی حاصل ہوا اگر معاذ اللہ یہ مرتد تھے تو غلبہ تو کفر کو ہوا پھر کتب الله لا غلبن انا و رسلی کیا نری شاعری ہے اور غلبہ جب حزب اللہ کے لئے مقدر ہوچکا ہے تو ان کے مخالفین کی جماعت کا نام کیا رکھو گے ان کے غلبہ سے انکار تو کیا ہی نہیں جاسکتا یہ تو ایک تاریخی حقیقت ہے۔

پھر اگر خلافت بلا فصل کے دعویٰ کو دیکھا جائے تو اس خلافت میں غلبہ چھوڑ امن بھی نصیب نہیں ہوا تو فان حزب الله هم الغالبون کی تفسیر کہاں تلاش کرو گے۔

پس حق یہی ہے کہ غلبہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہی حاصل ہوا جن کی قیادت خلفائے ثلاثہؓ نے کی یہی جماعت حزب اللہ ہے ان آیات کا مصداق یہی جماعت ہے اگر خلفائے ثلاثہؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حزب اللہ نہیں مانو گے تو حزب الشیطان کی زد میں مغلوبین لازماً آئیں گے مگر اس توہین کا تصور وہی کر سکتا ہے جسے قرآن کی حقانیت پر ایمان نہ ہو۔

اس تفصیل سے آیت انما ولیکم الله ورسوله الخ کی کافی وضاحت ہو گئی کہ مرتدین کے خلاف لڑنے والی یہی خلفائے ثلاثہؓ کی جماعت تھی یہی اذلة على المومنین تھی یہی اعزة على الكافرين یہ اللہ کی پسندیدہ جماعت تھی کفار اور مرتدین پر غلبه اسی جماعت کو حاصل ہوا آیت کی مصداق یہی جماعت تھی اور یہی اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور یہی حق ہے۔

اس مقام پر اس دعویٰ کی تردید ذرا اور تفصیل سے کی جاتی ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے کہ آیت کا مصداق سیدنا علیؓ ہیں انہوں نے جمل اور صفین میں جنگ کی حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے ایسی جنگوں کے متعلق وضاحت فرمادی کہ:

فَاِنۡ يَّتُوۡبُوۡا يَكُ خَيۡرًا لَّهُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ يَّتَوَلَّوۡا يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا ۙ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ ۚ وَمَا لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ‏۝۔

(سورۃ التوبہ آیت:74)۔

ترجمہ: سو اگر (اس کے بعد بھی) توبہ کریں تو ان کے لئے (دونوں جہان میں) بہتر ہوگا اور اگر رو گردانی کی تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا دے گا اور ان کا دنیا میں کوئی یار ہے نہ مددگار۔

صاف ظاہر ہے کہ مرتدین سے صلح کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا صورتیں دو ہوں گی یا تو وہ تائب ہوکر صحیح مسلمان بن جائیں یا انہیں قتل کر کے انکا صفایا کردو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنگ صفین کا نتیجہ کیا نکلا:

(1)۔ کیا سیدنا علیؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح کی؟ اگر کی تو کیوں؟ اگر نہیں کی تو سیدنا امیرِ معاویہؓ تائب ہوئے اگر نہیں تو کیا سیدنا علیؓ نے انہیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کیا؟ اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو آیت کا مصداق سیدنا علیؓ کیونکر ٹھہرے؟۔

پھر آیت میں اعلان ہے کہ حزب اللہ غالب رہے گا تو کیا 24 برس تک سیدنا امیرِ معاویہؓ کے غلبہ کا انکار کیا جا سکتا ہے اگر سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر سیدنا امیرِ معاویہؓ تائب بھی نہ ہوئے اور سیدنا علیؓ ان کا خاتمہ بھی نہ کر سکے تو کس دلیل سے انہیں آیت کا مصداق قرار دیا جاتا ہے۔

آیت مندرجہ بالا فان يتوبوا الخ کا ترجمہ شیعہ تفسیر منہج الصادقین کے الفاظ میں پڑھئیے: پس اگر توبہ کنند از نفاق باشد آں بازگشت بتو مر ایشاں را واگر برگردند از توبہ و مصر باشند بر نفاق عذاب کنند خدا ایشاں را عذاب درد ناک در دنیا بکشتن و در آخرت بسوختن و نیست ایشاں را در زمین ہیچ دوستے و متولی امرے دیارے و مددگارے کہ عذاب از ایشاں باز دارد۔

اور شیعہ تفسیر صافی صفحہ 716 میں یہ ترجمہ درج ہے:

فان يتوبوا یک خیر الهم وان يتولوا بالاصرار على النفاق يعذبهم الله عذابا اليما في الدنيا و الآخرة اى بالقتل والنار وما لهم فی الأرض من ولى ولا نصیر اى فينجيهم من العذاب۔

سو اگر توبہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہوگا اور اگر نفاق پر اصرار کر کے رو گردانی کریں اللہ تعالیٰ انہیں دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا دے گا يعنی قتل اور جہنم کی سزا اور دنیا میں کوئی ان کا دوست ہوگا نہ مددگار یعنی جو انہیں سزا سے بچائے۔

ظاہر ہے کہ اس آیت کے مطابق منافقین کے خلاف جنگ کا نتیجہ یا تو ان کی توبہ کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے یا ان کے قتل کی صورت میں اور سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جنگ میں ان میں سے کوئی صورت بھی پیش نہیں آئی لہٰذا اس آیت کو جنگ جمل یا صفین پر فٹ کرنا بالکل بے جوڑ کی بات ہے۔

جس کامل آیت کا یہ ٹکڑا ہے اس کے پہلے حصے پر غور کرنے سے کئی امور کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ الفاظ ہیں:

صفحہ 7 از 17