آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 17

2. وَلَقَدۡ سَبَقَتۡ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِنَّهُمۡ لَهُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ‏۝۔(سورۃ الصافات آیت:171)۔

ترجمہ: اور ہمارے خاص بندوں یعنی پیغمبروں کے لئے ہمارا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہو چکا ہے کہ بیشک وہی غالب کئے جائیں گے اور (ہمارا تو قاعدہ عام ہے کہ ہمارا ہی لشکر غالب رہتا ہے۔

3۔ وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَانْتَقَمۡنَا مِنَ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا ‌ؕ وَكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ۝۔(سورۃ الروم آیت:47)۔

ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے اور ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو مرتکب جرائم ہوئے تھے اور اہلِ ایمان کا غالب کرنا ہمارے ذمہ تھا۔

اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ۝۔(سورۃ الغافر آیت:51)۔

وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَكِيۡمِۙ‏۝۔(سورۃ آل عمران آیت:126)۔

ترجمہ: ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والو کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (فرشتے جو اعمال نامے لکھتے تھے) کھڑے ہوں گے اور نصرت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو کہ زبردست حکیم ہے۔

اِنۡ يَّنۡصُرۡكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَـكُمۡ‌ۚ وَاِنۡ يَّخۡذُلۡكُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَنۡصُرُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِهٖ الخ۔(سورۃ آل عمران آیت:160)۔

ترجمہ: اگر حق تعالیٰ تمہارا ساتھ دیں تب تو تم سے کوئی بھی نہیں جیت سکتا اور اگر تمہارا ساتھ نہ دیں تو اس کے بعد ایسا کون ہے جو تمہارا ساتھ دے (اور غالب کردے)۔

اِسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ الشَّيۡطٰنُ فَاَنۡسٰٮهُمۡ ذِكۡرَ اللّٰهِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ‌ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِى الۡاَذَلِّيۡنَ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيۡزٌ لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۝۔(سورۃ المجادلہ آیت:19)

ترجمہ: ان پر شیطان نے پورا تسلط کرلیا ہے سو اس نے ان کو اللہ کی یاد بھلا دی یہ لوگ شیطان کا گروہ ہے خوب سن لو کہ شیطان کا گروہ ضرور برباد ہونے والا ہے جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مخالفت کرتے ہیں یہ سخت ذلیل لوگوں میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ بات (اپنے حکم ازلی میں) لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا غلبہ والا ہے جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ ایسے لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور رسولﷺ کے برخلاف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کتبہ ہی کیوں نہ ہوں ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان (قلوب) کو اپنے فیض سے قوت دی ہے اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔

تفسیر ابنِ کثیر:71:2 میں اس حقیقت کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔

فكل من رضی بولاية الله ورسوله والمومنين فهو مفلح فی الدین والآخرة ومنصور في الدنيا والآخرة ولذا قال ومن يتول الله رسوله والذين امنوا فان حزب الله هم الغالبون۔

اور ہر وہ شخص جو اللہ اس کے رسولﷺ اور اہلِ ایمان کی دوستی پر راضی ہوگیا وہ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے اور دنیا اور آخرت میں مدد پانے والا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو الله اس کے رسولﷺ اور اہلِ ایمان سے دوستی رکھے گا سو اللہ کا گروہ بلاشک غالب رہے گا۔

ان آیات میں سابقہ رسولوں اور ان کے متبعین کو غلبہ کی بشارت دی گئی ہے بلکہ یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے اور ساتویں آیت میں تو وضاحت سے دو جماعتوں کا ذکر ہے ایک حزب اللہ اور دوسری حزب الشیطان رسولوں اور ان کے متبعین کی جماعت ہی حزب اللہ ہے اور اسی کے لئے غلبہ مقدر ہوچکا ہے۔ اس جماعت کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔

  1. یہ جماعت ہمیشہ غالب رہے گی۔
  2.  انکی محبت اور دوستی اللہ و رسولﷺ کے بغیر کسی سے نہ ہوگی مقابلے میں خواہ ماں باپ ہوں یا اقرباء۔
  3. وہ جماعت اللہ کی پسندیدہ ہے اور اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی۔
  4. ان کے دل قرآن کے نور سے منور ہوں گے۔
  5. یہ جماعت جنتی ہے۔

اس عمومی قانون کے علاوہ نبی کریمﷺ کے متعلق ارشاد فرمایا:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ الخ۔(سورۃ الصف آیت:9)۔

ترجمہ: وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت دی اور سچا دین (اسلام) دیگر (دنیا میں) بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔

اور حضورﷺ کھ متبعین کو حکم دیا:

وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ‌ؕ الخ۔(سورۃ البقرہ آیت:193)۔

ترجمہ: اور تم ان (کفار) سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ (شرک) نہ ر ہے اور دین (خالص) اللہ ہی کا ہو جائے۔

صفحہ 6 از 17