آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت - ردِ رافضیت |…

آیات قتال مرتدین اور مذہب اہل سنت و الجماعت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 14 از 17

پھر روایت میں سیدنا عمرؓ کی طرف سے مشکوک فیہ کا اظہار کر دیا گیا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ اسی سال مکہ فتح ہو گا اور طواف کریں گے مگر وہ نہ ہوا پھر جب حضورﷺ نے سوال کیا کہ کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سال ہو گا تو سیدنا عمرؓ نے جواب دیا لا ظاہر ہے کہ شک رفع ہو گیا شک کی بنیاد تھی اپنی رائے اور رائے کی غلطی کی بنیاد تھی وفور شوق میں حضورﷺ کی پوری بات پر غور نہ کرنا اور مشکوک فیہ تھا طواف بیت اللہ یا فتح مکہ لہٰذا اس روایت کی بنا پر سیدنا عمرؓ کے ایمان کو مشکوک ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کوہ کندن اور کاه برآوردن سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔

چند الفاظ کی وضاحت:

اب تک ہم نے آیت انما ولیکم الله الخ کی تفسیر کے سلسلہ میں شیعہ مفسرین اور علماء کے اقوال پیش کئے اب اس آیت کی حقیقی تفسیر کے لئے چند کلیدی الفاظ کی تشریح کرتے ہیں۔

ولی:

 آیت میں لفظ ولی حاکم یا متصرف کے معنوں میں نہیں اور شیعہ یہیں سے اپنے مفروضہ محل کی تعمیر شروع کرتے ہیں کہ ولی کے معنی حاکم اور دلیل دیتے ہیں۔

ايما أمراة نكحت بغير اذن وليها فنكاحها باطل (الحديث ترمذی)۔

نکاح میں ولی بمعنی وارث قریبی مراد ہوتا ہے۔ حاکم و متصرف عام مراد نہیں ہوتا۔

حکومت و ریاست تو عام ہوتی ہے فرض کیجئے نکاح میں مہر میں میراث میں تنازعہ ہو جائے تو فیصلہ وہی ولی یا خاوند کرتا ہے یا حکومت کی عدالت میں جانا پڑتا ہے اگر ولی ہی حاکم ہے تو ایک اور حکومت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی کیا ضرورت ہے۔

 آیت میں ولی کے ساتھ ضمیر کم بھی موجود ہے تو ان مخاطبین کے حاکم ہونے چاہئیں آنے والی نسلوں اور کفار کے حاکم نہیں کیونکہ شیعہ یہاں حصر حقیقی مانتے ہیں حالانکہ اللہ و رسولﷺ اور حاکم وقت تو ساری رعایا کا حاکم ہوتا ہے۔ 

 والمومنون: صیغہ جمع کا ہے اس سے مفرد یعنی سیدنا علیؓ کی ذات مراد لیتا کیونکر درست ٹھہرا؟ جب کہ کوئی قرینہ صارفہ موجود نہیں۔

شیعہ اس کا حل یہ بتاتے ہیں کہ جمع کی ضمیر اس لئے لائی گئی ہے کہ اس میں آئندہ گیارہ امام بھی داخل ہیں خوب سوجھی مگر علم کی بات کرنے اور تک بھڑانے میں فرق ہے علم کہتا ہے کہ مرجع ضمیر غائب کا ذات ہوتی ہے جو موجود ہو اور گیارہ امام تو اس وقت تصورات کی دنیا میں بھی نہیں تھے۔

پھر کُم کی ضمیر چاہتی ہے کہ صرف تم مخاطبین کے حاکم ہوں گے تو کیا ان مخاطبین کے حق میں کہیں مرزا غالب کی دعا قبول ہوگئی کہ۔

"تم سلامت رہو ہزار برس

ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار"

کاش ایسا ہوجاتا اور ہم گناہ گار بھی آج ان مقدس صورتوں کو دیکھ لیتے اور امام مہدی تک پیدا ہونے والے تمام مسلمان تابعین شمار ہوتے کیونکہ اس حساب سے ان کی عمر میں ایک لاکھ اڑتیس ہزار آٹھ سو اٹھاسی برس سے زیادہ بنتی ہیں۔ 

 اگر ولی بمعنی حاکم ہے اور المومنون میں باقی گیارہ ائمہ شامل ہیں تو بات ایک اور طرف سے بگڑتی ہوئی نظر آتی ہے یعنی پہلے امام سیدنا علیؓ کو تو حکومت ملی گو بقول شیعہ برائے نام ہیں اور دوسرے امام سیدنا حسنؓ کو ملی اور انہوں نے اپنے آزاد ارادہ اور پسند سے حکومت سے دست بردار ہونے کا اعلان فرما دیا۔ باقی میں سے نو کو تو سرے سے حکومت ملی ہی نہیں اور دسویں کے متعلق کچھ کہا نہیں جاسکتا تو پھر اللہ نے اماموں کو کونسی حکومت دینے کا اعلان فرما دیا۔ یوں گھر بیٹھے جس کا جی چاہے کہتا رہے کہ میں حاکم ہوں مگر ایسے حاکم کی سلطنت کی وسعت بھی اس کے اپنے وجود کے برابر ہی ہوسکتی ہے۔ 

 ربط آیات اور شان نزول کے ضمن میں گزشتہ اوراق میں بیان ہوچکا ہے کہ سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے حق میں نازل ہوئی اہلِ ایمان کو یہود کی دوستی سے منع کیا گیا اب ان آیات میں زرا حاکم کے معنی فٹ کر کے مفہوم سمجھںٔے۔

  1. يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ ‌ؔۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ الخ۔(سورۃ المائدہ آیت:51)۔

 تو معنی یہ ہونگے کہ 

ترجمہ: اے اہلِ ایمان یہود و نصاریٰ کو اپنا حاکم و مصرف نا بنانا وہ تو ایک دوسرے کے حاکم ہیں۔ 

  •  يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَـتَّخِذُوا الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا دِيۡنَكُمۡ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَالۡـكُفَّارَ اَوۡلِيَآءَ‌ الخ۔(سورۃ المائدہ آیت:57)۔

ترجمہ: یعنی اہلِ ایمان جو لوگ تمہارے دین سے تمسخر کریں اہلِ کتاب ہوں یا کفار ان کو اپنا حاکم نہ بنانا گویا دین سے تمسخر نہ کریں تو بے شک انہیں اپنا حاکم بنا لینا خواہ اہلِ کتاب ہوں یا کفار ہوں۔

  1. اِنۡ زَعَمۡتُمۡ اَنَّكُمۡ اَوۡلِيَآءُ لِلّٰهِ مِنۡ دُوۡنِ النَّاسِ الخ۔(سورۃ الجمعۃ آیت:6)۔

ترجمہ: یعنی اے یہودیو تمہارا خیال ہے کہ آدمیوں کو چھوڑ کر تم اللہ پر حاکم و متصرف ہو۔

  •  فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ الخ۔(سورۃ النساء آیت:76)۔

ترجمہ: یعنی شیطان کے حاکموں اور بادشاہوں سے جنگ کرو۔ 

  •  يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡۤا اٰبَآءَكُمۡ وَاِخۡوَانَـكُمۡ اَوۡلِيَآءَ الخ۔(سورۃ التوبہ آیت:23)۔

ترجمہ: یعنی اےایمان والو اپنے باپوں اور بھائیوں کو اپنا حاکم نہ بنانا۔

غرض قرآن مجید میں بیسیوں آیتیں ایسی آتی ہیں جن میں ولی یا اولیاء کا لفظ موجود ہے اگر وہاں ولی کے معنیٰ حاکم کریں تو بات ہی بے معنیٰ ہوکر رہ جاتی ہے۔ لہٰذا شانِ نزول و سیاق وسباق اور لغت کا فیصلہ یہی ہے کہ یہاں ولی کے معنیٰ دوست کے ہیں اس کے معنیٰ حاکم لینا قرآن کو اپنے پیچھے چلانے کی کوشش ہے۔

زکوٰۃ:

 دوسرا لفظ زكوٰۃ قابلِ غور ہے یہ لفظ خاص ہے صدقہ نفلی سے اگر یہاں منفقون یا اسی قبیل کا کوئی اور لفظ ہوتا تو صدقہ نفلی کا بھی احتمال تھا مگر یہاں صدقہ نفلی مراد نہیں لیا جا سکتا۔

تفسیر قرطبی 179:1:

عن الضحاك لننظرا الى الزكوٰۃ لا يأتي الا بلفظها المختص بها وهو الزكوٰة فاذا جاءت بلفظ غير زكوٰۃ احتملت الفرض والتطوع۔

ضحاک فرماتے ہیں زکوٰۃ کا لفظ فرضی صدقہ کے لئے ہے اگر لفظ غیر زکوٰۃ آجائے تو احتمال ہے فرض اور نفلی صدقہ دونوں کا۔

صفحہ 14 از 17