ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے القاب - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے القاب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

 وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ‌ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا يَقُوۡلُوۡنَ‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 26)

ترجمہ: اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

الشیخ عبدالرحمٰن سعدی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ضمن میں لکھا:

’’اس آیت کا اسلوب عام ہے۔ خاص واقعہ اس کے عموم پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس آیت کے سب سے بڑے مخاطب تمام انبیاء اور ان میں سے خصوصاً اولو العزم رسل اور ان میں سے ان کے اور ہمارے سردار اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ علی الاطلاق وہ تمام مخلوقات میں سب طیبین سے افضل ترین طیب ہیں، ان کے لیے صرف پاک باز عورتیں ہی مناسب تھیں تو اس بہتان کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات پر الزام لگانے کا اصل مقصد اور اصل نشانہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہی منافقین کا مقصد رذیل تھا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہونا ہی ان کی پاک بازی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ چہ جائیکہ جو عظیم الشان فضائل و مراتب ان کے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ایسا گھناؤنا الزام عقل سے بعید ہے۔ وہ تمام عورتوں سے زیادہ راست باز، سب خواتین سے زیادہ افضل، سب سے بڑی عالمہ، سب سے زیادہ پاک باز اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اللہ رب العالمین کے حبیب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ہیں ۔‘‘ 

(تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر الکلام المنان: صفحہ 352)

سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے بارے میں خود بیان کرتی ہیں :

’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور آپﷺ کے دوست کی بیٹی ہوں۔ بلاشبہ میرا عذر آسمان سے نازل ہوا اور میں پیدا بھی طیبہ ہوئی ہوں، پاک باز کے گھر میں پیدا ہوئی ہوں، پاک باز نبی کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کی۔ مجھ سے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ کیا گیا ہے۔‘‘

(اس متکلم فیہ حدیث کو ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔ مکمل روایت اس طرح ہے: ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے نو انعامات ملے جو سوائے مریم بنت عمران کے اور کسی عورت کو نہیں ملے۔ وہ درج ذیل ہیں:

1۔جبریل علیہ السلام اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ آپﷺ ان سے شادی کر لیں۔

2۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ کنواری سے شادی کی۔ میرے علاوہ اور کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی۔

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا اور میں نے آپﷺ کو اپنے گھر میں دفن کروایا۔

4۔فرشتوں نے میرے گھر کو گھیر لیا۔

5۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دوسری بیوی کے پاس ہوتے اور آپﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہو جاتی تو آپﷺ کے اہل خانہ آپﷺ سے جدا ہو جاتے، لیکن جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں ہوتی تو وحی آپﷺ پر نازل ہوتی رہتی۔

6۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور آپﷺ کے سچے وفادار کی بیٹی ہوں۔

7۔ میری برأت آسمان سے نازل ہوئی۔

8۔ میں خود بھی طیبہ پیدا کی گئی ہوں اور طیب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوں۔

9۔ مجھ سے مغفرت اور رزق کریم کا وعدہ کیاگیا ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایۃ والنہایۃ جلد 2 صفحہ 56 پر لکھا ہے کہ اس روایت کے کچھ الفاظ صحیح ہیں اور اس کی سند امام مسلم کی شرط پر ہے۔ امام ذہبیؒ نے سیر اعلام النبلاء کے صفحہ 141 جلد 2 پر اس کی سند کو جید قرار دیا۔ علامہ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 244 ‘‘ پر لکھا ہے کہ یہ روایت ابو یعلی لائے ہیں اور الفاظ بھی صحیح ہیں، نیز انھوں نے کچھ الفاظ میں رد و بدل کیا ہے اور ابو یعلیٰ کی سند میں مجہول راوی بھی ہے۔)

جب سیّدنا عبداللہ (عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب کی کنیت ابو العباس ہے۔ قریشی اور ہاشمی ہیں، جلیل القدر صحابی رسول اور ان کا لقب حِبر الامت اور فقیہ امت ہے۔ ترجمان القرآن بھی انھی کو کہا جاتا ہے۔ یہ ہجرت مدینہ سے تین سال پہلے پیدا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ ’’ اے اللہ! ان کو دین کی سمجھ اور کتاب اللہ کی تفسیر کا علم دے۔‘‘ 68 یا 70 ھ کو فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 284۔ الاصابۃ: جلد 4 صفحہ 141)  بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت میں ان کے پاس گئے تو ان سے مخاطب ہو کر کہا: ’’آپ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بیویوں سے زیادہ محبوب تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پاک باز عورتوں کو ہی پسند کرتے تھے۔‘‘ 

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 276 پر حدیث نمبر 2496 پر روایت کی ہے۔ ابو یعلیٰ نے جلد 5 صفحہ 57 حدیث نمبر 2648 پر اور ابن حبان نے جلد 16  صفحہ 41 پر حدیث نمبر 7108 سے اور طبرانی نے جلد 10 صفحہ 321 پر حدیث نمبر 10783 سے روایت کیا ہے۔)

5۔الصدیقۃ: صدق و وفا کا پیکر۔

جناب مسروق رحمہ اللہ جب ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتے تو یوں کہتے: ’’مجھے یہ حدیث صدیقہ بنت صدیق، حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ المبرأہ نے سنائی۔ ‘‘


صفحہ 2 از 2