فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت] - ردِ…

فصل: ....[خلافت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورارشاد نبوت]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے:[ جب نماز کا وقت ہوگیا] تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا :اے ابوبکر ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیرہوگئی ہے اور نماز کا وقت ہوگیا ہے ؛ کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں ؟ فرمایا: ہاں ! اگر آپ چاہتے ہیں تو۔‘‘

ایک روایت میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے لوگو! تمہیں کیا ہوگیا ہے جب نماز میں کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجاتے ہو ؛ بیشک تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تم سبحان اللہِ کہو ؛ اس لیے کہ جب بھی کوئی سبحان اللہِ سنے گا تو اس طرف متوجہ ہو جائے گا۔‘‘

پھر فرمایا: اے ابوبکر! جب میں نے تجھ کو اشارہ کردیا تھا تو تم لوگوں کی امامت کراؤ؟

ایک روایت میں ہے : یہ عصر کی نماز تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ نماز کو جاری رکھو۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا۔ تو حضرت ابوبکر کچھ دیر کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نوازش پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے رہے ؛ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے۔ ایک ر وایت میں ہے کہ اہل قباء کا آپس میں جھگڑا ہوگیا اور انہوں نے ایک دوسرے پر سنگ باری کی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: ’ ’ہمیں لے چلو ‘ ان کے مابین صلح کراتے ہیں ۔‘‘

ایک روایت میں ہے : نماز کا وقت آگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف نہیں لائے۔یہ حدیث سب سے صحیح ترین حدیث ہے۔ اس کی صحت پر محدثین اور اہل علم کا اتفاق ہے اورعلماء میں اسے مقبولیت حاصل ہے۔[الحدیث بِرِوایاتِہِ المختلِفۃِ عن سہلِ بنِ سعد الساعِدِیِ رضِی اللہ عنہ فِی البخاری ۱؍۱۳۸۔ِکتاب الأذانِ، باب من دخل لِیؤم الناس فجاء الِإمام الأول۔مسلِم۱؍۳۱۶؛ کتاب الصلاِۃ، باب تقدِیمِ الجماعِۃ من یصلِی بِہِم۔]

اس روایت میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجود گی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی؛ یہی وہ درمیانی نماز ہے جس کی حفاظت کا حکم قرآن میں بطور خاص دیا گیا ہے۔جب صحابہ کرام کو علم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصروف ہیں ۔ آپ اہل قباء میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے تھے ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا بھی علم تھا کہ آپ ایسے احوال میں کسی ایک کو امام بنالینے کا حکم دیا کرتے تھے۔ جیساکہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں نماز فجر کے لیے صحابہ کرام نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو آگے بڑھا دیا تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور واپسی میں تأخیر ہوگئی۔ اس وقت آپ پر اون کا ایک جبہ تھا۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہی مؤذن تھے جو دوسروں سے زیادہ ان امور کے جاننے والے تھے۔آپ نے ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے نماز پڑھانے کے لیے کہا تھا۔ تو آپ نے نماز پڑھا دی تھی۔ اور خصوصاً جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں فرما کر گئے تھے۔

صحیحین میں حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو عمرو بن عوف کے مابین جھگڑے کی خبر پہنچی توآپ ظہر کے بعد ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ : اگر نماز کا وقت ہوگیا اور میں نہ آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دینا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ....۔‘‘

پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ نماز کو پورا کریں ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ادب کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے واپس پیچھے ہٹ گئے۔ اس لیے کہ آپ جانتے تھے آپ کایہ حکم حکم ِ عزت و احترام و اکرام ہے ؛ اس کا ماننا لازمی یا واجب نہیں ۔ اور نہ ہی اس کے نہ ماننے میں نافرمانی کا کوئی پہلو ہے۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی موجود گی میں اور بحالت صحت آپ کو اس نماز کے پورا کرنے کے لیے امام برقرار رکھا جو آپ شروع کرچکے تھے‘ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی؛ جیسا کہ غزوہ تبوک کے موقعہ پر فجر کی ایک رکعت حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑی ؛ او ردوسری رکعت کو پورا کرلیا۔ تو پھر یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری کی حالت میں خودآپ کو امامت پر مامور کرکے پھر باہر نکلیں کہ آپ کو لوگوں کی امامت سے منع کریں ۔ اس سے واضح ہوگیا کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا حال اللہ اور اس کے رسول او راہل ایمان کے نزدیک اس سے یکسر مختلف ہے جو ان جھوٹے اور کذاب روافض منافقین و مرتدین اور کفار کے بھائیوں نے گھڑ لیے ہیں جو اللہ کے دشمنوں سے تو دوستی رکھتے ہیں ؛ مگر اس کے دوستوں سے دشمنی رکھتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ او ران کے اعوان و انصار اس میں سب سے زیادہ کفار و منافقین و مرتدین سے جہاد کرنے میں سب سے زیادہ سخت تھے۔ ان ہی کی شان بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ﴾ [المائدۃ ۵۴] 

صفحہ 2 از 3