فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ] - ردِ…

فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 8

٭ یہ بات ممتنع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم نہ ہوا ہو۔اور نہ ہی مسلمانوں کو اس کی خبر ہوئی ہو۔ بلکہ یہ بات عادتاًممتنع ہے۔تو پتہ چلا کہ آپ کی اجازت سے ہی لوگوں کو نماز پڑھائی جارہی تھی۔جیساکہ صحیح احادیث میں یہ بات ثابت ہے ‘اوریہ بھی ثابت ہے کہ اس بات پر آپ سے تکرار بھی کیا گیا تھا۔ اورکہا گیا: اگر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کو نماز پڑھانے کا حکم دیں ؟ تو آپ نے اس تکرار کرنے والے کو ملامت کی۔اور اس بات کو ایک برائی شمار کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے استحقاق کا علم ہونے کے باوجود اس مسئلہ میں تکرار کیا جارہا ہے ۔ جب کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اس کا مستحق نہیں ۔

امامت ابی بکر رضی اللہ عنہ اور بشارتِ نبوت:

بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

’’اپنے والد اور بھائی کو بلاؤ تاکہ میں انھیں ایک تحریر لکھ دوں ، مجھے ڈر ہے کہ مبادا کوئی خواہش کنندہ اپنی خواہش کا اظہار کرے اور کہنے والا کہے کہ میں خلافت کے لیے موزوں تر ہوں ۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول او ر اہل ایمان ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو خلیفہ تسلیم نہیں کرسکتے۔‘‘[البخاری ۷؍۱۱۹؛ مسلم ۴؍۱۸۵۷]۔

بخاری میں حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:’’ہائے میرا سر۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگرتو اسی درد میں مبتلارہ کر مرگئی تو تیرے لیے دعائے مغفرت کروں گااور دعا کروں گا ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا :’’افسوس ! اللہ کی قسم! میرا تو خیال ہے کہ آپ میرا مرنا پسند کرتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوا تو اسکے دوسرے ہی دن آپ اپنے دوسری بیویوں کے ساتھ رات گزاریں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :’’ نہیں بلکہ میں خود بھی درد سر میں مبتلا ہوں ۔ اور میں نے چاہا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور ان کو وصیت کروں تاکہ کوئی کہنے والا کچھ کہہ نہ سکے اور نہ کوئی آرزو کرنے والا اس کی آرزو کرسکے۔ پھر میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ دوسرے کی خلافت کو ناپسند کرتا ہے اور مومن ہی اس کو نامنظور نہ کریں گے یا یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دفع کرے گا اور مسلمان بھی پسند نہ کریں گے۔‘‘[صحیح بخاری:ح632]

یہ صحیح حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے ایک تحریر لکھوا دیں ۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں ان سے زیادہ حق دار ہوں ۔ پھرفرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘

اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب (بنابر وحی) معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اس کام کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہی اختیار کریں گے؛اور اہل ایمان آپ کو بالاتفاق خلیفہ تسلیم کرلیں گے اور آپ کی بیعت پر راضی ہو جائیں گے، تو آپ نے دستاویز لکھنے کی ضرورت نہ سمجھی ۔ سو ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوری ہوئی جو اللہ اوراس کے رسول اور اہل ایمان کے اختیار پر راضی نہیں ۔ [آپ کی یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں دوبار اس بات کاارادہ کیا تھا۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا بھی تھا کہ اپنے والد او ر بھائی کو بلا لو۔یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت سے پہلے کا معاملہ ہے۔اس وقت تو آپ نے فرمایا تھا: میرا ارادہ تھا کہ میں ابوبکر کے لیے ایک تحریر لکھوا دوں ۔‘‘ پھر آپ نے جمعرات کے دن اس چیزکا دوبارہ ارادہ کیا تھا۔صحیحین میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:آپ فرماتے ہیں :’’ جمعرات کا دن؛ اور آہ!جمعرات کا دن بھی کیسا تھا؟[ اور پھر اتنا روئے کہ ان کے آنسوں سے سنگریزے تک بھیگ گئے اور پھر کہنے لگے کہ جمعرات کے دن] رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہوئی تو آپ نے فرمایا :’’ لکھنے کے لیے کوئی چیز لاؤ کہ میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہی میں کبھی نہ پڑ سکو گے۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اختلاف نہ کرنا چاہیے۔ لوگ بولے کہ آپ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ پوچھو لوگوں نے پوچھنا شروع کردیا ۔[اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگے]۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے چھوڑ دو میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم لوگ مجھے بلا رہے ہو۔‘‘ اور آپ نے بوقت وفات تین وصیتیں کیں مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکال دینا قاصدوں کو اسی طرح انعام دینا جس طرح میں انعام دیا کرتا تھا اور تیسری وصیت میں خود بھول گیا ۔‘‘[صحیح بخاری:ح306]

صحیحین میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ[ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا]تو گھر میں بہت سارے افراد موجود تھے‘ ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ میں تمہارے لیے ایک وصیت لکھ دوں تاکہ تم گمراہ نہ ہو۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف ہے وصیت لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ تمہارے پاس قرآن ہے اور ہمارے لیے کتاب اللہ ہی کافی ہے۔ اس کے بعد گھر میں موجود لوگ جھگڑنے لگے کوئی کہتا تھا: ہاں لکھوا لو اچھا ہے تم گمراہ نہ ہوں گے۔کوئی عمر رضی اللہ عنہ والی بات ہی کہتا۔ کسی نے کچھ اور کہا۔ اور باتیں بہت ہی زیادہ ہونے لگیں ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے چلے جاؤ۔‘‘

عبیداللہ بن عبداللہ زہری سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے بعد افسوس سے کہا :’’یہ کیسی مصیبت ہے کہ جو لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور آپ کی وصیت لکھوانے کے درمیان حائل کردی۔‘‘ [صحیح بخاری :ح1586]

صفحہ 6 از 8