فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ] - ردِ…

فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 8

(( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ یہاں تک کہ جب دو شنبہ کا دن ہوا اور لوگ نماز میں صف بستہ تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ کا پردہ اٹھایا اور ہم لوگوں کی طرف کھڑے ہو کر دیکھنے لگے اس وقت آپ کا چہرہ مبارک گویا مصحف کا صفحہ تھا پھر آپ بشاشت سے مسکرائے ہم لوگوں نے خوشی کی وجہ سے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے میں مشغول ہوجائیں اور ابوبکر اپنے پچھلے پیروں پچھے ہٹ آئے تاکہ صف میں مل جائیں ۔وہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے آنے والے ہیں لیکن آپ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرلو ؛اور آپ نے حجرہ میں داخل ہو کر پردہ ڈال دیا اسی دن آپ نے وفات پائی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) [صحیح بخاری:ح647]

بخاری شریف کی بعض روایات میں ہے: مسلمانوں نے خوشی کے باعث یہ قصد کیا کہ اپنی نمازوں کو توڑ دیں ۔‘‘ [مگر آپ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ تم اپنی نمازوں کو پورا کرلو اور آپ نے پردہ ڈال دیا]۔یہ نماز فجر کا واقعہ ہے۔[صحیح بخاری:ح720]

صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : میں نے آخری نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیر کے روز اس وقت دیکھا جب آپ نے پردہ ہٹایا۔‘‘ [اس کی تخریج گزر چکی ہے ]

صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ مرض وفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیں دن باہر نہیں نکلے۔ ایک دن نماز کی اقامت ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھنے لگے اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ کو پکڑا اور اس کو اٹھایا۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ نظر آتے ہی ہمارے سامنے ایسا خوش کن منظر آگیا کہ اس سے زیادہ خوش کن منظر کبھی میسر نہ آیا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ابوبکر کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھ جائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا پھر آپ کو قدرت نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔‘‘[صحیح بخاری:ح648۔مسلم ح 98]

اس روایت میں ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین روزہ وقفہ کے بعد دوسری بار حجرہ شریفہ سے باہر تشریف لانے کی خبر دے رہے ہیں ۔ان تین دنوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی ان لوگوں کو نمازیں پڑھاتے رہے۔ جیسا کہ پہلی بار حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ باہر نکلنے سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نمازیں پڑھا یا کرتے تھے۔ یعنی اس سے پہلے بھی کئی دن سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی نمازیں پڑھایا کرتے تھے۔ یہ تمام روایات صحیح ہیں ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ بھی موجود ہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے انہیں آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ یہ آخری نماز تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مسلمانوں نے ادا کی ۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران یا اس سے پہلے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا۔

یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا حکم بھی تھا جس کا پیغام لیکر آپ کا قاصد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حکم نہیں پہنچایا تھا او رنہ ہی اپنے والد سے کہا تھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ حکم دیا ہے۔ جیسا کہ یہ رافضی جھوٹے اپنی طرف سے افتراء پردازی کرتے ہیں ۔

ان جھوٹوں کا یہ کہنا کہ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو حکم دیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز کے لیے آگے بڑھائیں ؛ ایک کھلا ہوا اور واضح ترین جھوٹ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا کوئی حکم نہیں کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے کیا جائے۔ اورنہ ہی آپ حکم دیا کرتی تھیں ‘اور نہ ہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ سے احکامات وصول کیا کرتے تھے۔ بلکہ آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونماز کے وقت کی اطلاع دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام حاضرین بشمول حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ یہ خطاب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص نہیں تھا۔ اور نہ ہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ سے کوئی ایسی بات سنی تھی۔

رافضی کا یہ کہنا: ’’ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو آپ نے تکبیر سنی ‘آپ نے پوچھا : ’’ نماز کون پڑھا رہا ہے ہے ؟ تو جواب دیا گیا کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’’ مجھے باہر لے چلو۔‘‘

[جواب]: یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔وہ مشہور روایات جن کی صحت پر محدثین کا اتفاق ہے ‘ان سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باہر تشریف لانے سے کئی روز قبل بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی لوگوں کونمازیں پڑھایا کرتے تھے۔ جیسا کہ آپ کے باہر تشریف لانے کے بعد بھی آپ ہی نمازیں پڑھاتے رہے۔آپ کی بیماری کے دوران کسی ایک دوسرے نے کوئی نماز نہیں پڑھائی۔

٭ پھر ان سے یہ بھی کہا جائے گاکہ :یہ تواتر کے ساتھ معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی دن تک بیمار رہے ؛ اور کئی دن تک آپ لوگوں کونماز نہیں پڑھا سکے۔تو پھر اس دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون تھا جو لوگوں کو نمازیں پڑھاتا رہا؟ کسی بھی سچے یا جھوٹے نے یہ ہر گز نہیں کہا کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے نے نمازیں پڑھائی ہیں ‘ نہ ہی عمر نہ ہی علی اور نہ ہی کوئی دوسرا۔ رضی اللہ عنہم ۔ اوریہ لوگ باجماعت نماز ادا کیا کرتے تھے ‘ پس معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی لوگوں کو نمازیں پڑھایا کرتے تھے۔

صفحہ 5 از 8