فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ] - ردِ…

فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 8

’’سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ: ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے ہو۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر بن خطاب اور ابوعبیدہ بن جراح حضرت سعد رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرنی چاہی لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو روک دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :اللہ کی قسم! میں نے یہ ارادہ اس لیے کیا تھا کہ میں نے ایک ایسا کلام سوچا تھا جو میرے نزدیک بہت اچھا تھا مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ وہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ نہیں پہنچیں گے۔ لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا کلام کیا جیسے بہت بڑا فصیح و بلیغ آدمی گفتگو کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بیان کیا کہ ہم لوگ امیر بنیں گے تم وزیر رہو۔ اس پر حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں ؛اللہ کی قسم !ہم یہ نہ کریں گے بلکہ ایک امیر ہم میں سے بنا ایک امیر تم میں سے مقرر کیا جائیگا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ نہیں بلکہ ہم امیر و صدر بنیں گے اور تم وزیر اس لیے کہ قریش باعتبار مکان کے تمام عرب میں عمدہ برتر اور فضائل کے لحاظ سے بڑے اور بزرگ تر ہیں ۔ لہذ اتم عمر رضی اللہ عنہ یا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے بیت کرلو۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے:’’ جی نہیں ہم تو آپ سے بیعت کریں گے۔ آپ ہمارے سردار اور ہم سب میں بہتر اور ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں ۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان سے بیعت کرلی اور لوگوں نے آپ سے بیعت کی۔ جس پر ایک کہنے والے نے کہا تم نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ:’’اللہ تعالیٰ نے ہی اسے قتل کردیا ہے۔‘‘

اس حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے سردار؛ ان سب سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔ لہٰذا اس علت کی بنا پر آپ کی بیعت کی جائے۔اور پھر اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ بلکہ ہم آپ کی ہی بیعت کریں گے اس لیے کہ آپ ہمارے سردار اور ہم سب میں بہتر اور ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں ۔‘‘ تاکہ لوگوں کے سامنے واضح ہوجائے کہ مامور بہ افضل کو ولایت تفویض کرنا ہے۔اورآپ ہی ہم سب سے افضل ہیں ‘ اس لیے ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں ۔

صحیحین میں یہ بھی ثابت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: مردوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟

تو آپ نے فرمایا: ’’ ابوبکر ۔‘‘ [البخارِی۵؍۱۶۵۔مسلِم۴؍۱۸۵۶]۔

صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔‘‘

محدثین کرام اس حدیث کے بارے میں قطعی طور پر کہتے ہیں : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہے۔بھلے کوئی ایسا انسان بھی ہو جس کا علم ان کے علم جیسا نہ ہو اور اس نے یہ حدیث نہ سنی ہو‘یہ حدیث میں سچ اور جھوٹ کی پہچان سے عاری ہو ۔ تو اس میں کوئی ایسی بات بھی نہیں ‘ اس لیے کہ علم کے لیے مخصوص لوگ ہوتے ہیں جو علمی واجبات ادا کرتے ہیں ۔اور جنگوں کے لیے کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی جنگی صلاحیتوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔ او ردیوان اور حساب کے لیے محاسب اور منشی ہوتے ہیں جو ان چیزوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں ۔

یہی تین وہ لوگ ہیں جو صحیح مسلم میں ابن ابی ملیکہ کی سیّدہعائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے مقصود ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں :

’’میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : ’’ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو خلیفہ متعین کرتے تو کس کو کرتے ؟ فرمانے لگیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ۔ پھر پوچھا گیا: آپ کے بعد کسے بنایا جاتا ؟ فرمایا: ’’ عمر رضی اللہ عنہ کو ۔‘‘ پھر پوچھا گیا : اس کے بعد کسے خلیفہ بناتے ؟فرمایا: ’’ حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو رضی اللہ عنہ ‘‘ اس کے بعد خاموش ہوگئیں ۔

یہاں پر مقصود یہ بتانا ہے کہ نماز میں جانشینی کئی دن تک رہی۔جیسا کہ اس روایت پر صحابہ کرام کا اتفاق ہے ؛ اور یہ روایت صحاح ستہ کے مؤلفین نے حضرت ابوموسیٰ ‘ حضرت ابن عباس‘حضرت عائشہ ‘ حضرت ابن عمر ؛ حضرت أنس رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے:’’رسول اللہ کا فرمان کہ :’’ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو بار تکرار۔اوراسی قصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے:’’ یقیناً تم یوسف کی ساتھی عورتیں ہو۔ابوبکر کو حکم دو کہ تم لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔‘‘اس پر لوگوں کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے تمام دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی لوگوں کونمازیں پڑھاتے رہے۔ اورآخری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابوبکر کے پیچھے پیر کے دن فجر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا؛ اور آپ کو یہ منظر بہت اچھا لگا اور اس پر بہت خوش ہوئے ۔ [البخارِی۱؍۱۳۲؛ کتاب الاذان‘ باب أھل العلم و الفضل۔مسلِم۱؍۳۱۳؛ کتاب الصلاۃ ‘ باب استخلاف الإمام إذا عرض لہ عذر۔ ]

اور صحیحین میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ [ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور صحابی تھے] سے روایت ہے:

صفحہ 4 از 8