فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ] - ردِ…

فصل:....[حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام کا جواب ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 8

’’ جب امام بیٹھ کرنماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کرنما ز پڑھو ۔‘‘

یا پھر دونوں باتوں کو جمع کیا جائے گا۔اور دوسری حدیث کو نماز کو بیٹھ کر شروع کرنے پر محمول کیا جائے گا۔ جب کہ اس حدیث میں یہ ہے کہ جب نماز کے دوران بیٹھنے کی ضرورت پیش آجائے۔ اس مسئلہ میں علماء کرام کے تین اقوال ہیں ۔

پہلا قول امام مالک اور محمد بن الحسن رحمہما اللہ کا ہے۔ جب دوسرا قول امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ کا ہے۔ اور تیسرا قول امام احمد بن حنبل ‘حماد بن زید ‘اوزاعی اور دوسرے علماء کرام رحمہم اللہ کا ہے ؛ جوکہ مقتدیوں کو اس وقت بیٹھ کرنماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں جب امام کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھا رہا ہو۔اور اس مسئلہ میں بھی علماء کرام نے کلام کیاہے کہ جب متعین امام نماز پڑہانے کے لیے کسی کواپنا جانشین مقرر کرے؛ پھر وہ نماز کے دوران خود بھی حاضر ہوجائے؛ تو کیا یہ امام ان کی نماز کو پورا کرے گا ؛ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کی حالت میں اور ایک دوسرے موقع پر بھی کیا تھا؛ جس کا ذکر عنقریب آرہا ہے۔ یا پھر ایسا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے؟ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مذہب میں دو قول ہیں ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جس چیز کی خبر دی ہے؛ انہوں نے بالکل سچی خبردی ہے ۔ حالانکہ ان دونوں کے درمیان حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے معمولی سی ناراضگی بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کانام بھی نہیں لیا۔ جب کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مائل تھے ؛ اور آپ پر کسی قسم کی کوئی تہمت نہیں رکھتے تھے۔ مگر آپ نے اس کے باوجود جو کچھ ارشاد فرمایا بالکل سچ ارشاد فرمایا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لینے کے بجائے ایک دوسرا آدمی کہہ دیا۔مگر جو کچھ آپ نے بیان کیا اس میں نہ ہی کوئی جھوٹ بولا اور نہ ہی کوئی غلطی کی۔

صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے امام نہ بنانے پر) اصرار کیا ۔اور اس بار بار اصرار کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس بات کا خیال نہ تھا کہ آپ کے بعد لوگ اس سے محبت کریں گے جو آپ کے بعد آپ کی جگہ پر کھڑا ہوگا۔ لیکن میرے دل میں یہ تھا کہ جو شخص آپ کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اس کو منحوس تصور کریں گے ۔ تو اسی لیے میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے سے معاف رکھیں تو مناسب ہوگا۔‘‘[یہ حدیث حضرت عائِشہ رضی اللہ عنہا سے بخاری میں مروی ہے۔۶؍۱۲۔کتاب المغازیِ، مرضِ النبِیِ صلي اللّٰه عليه وسلم ووفاتِہِ۔ مسلِم ۱؍۳۱۳۔ کتاب الصلاِۃ، باب استِخلافِ الإِمامِ إِذا عرض لہ عذر۔[ صحیح مسلم:ح 934۔]

صحیحین میں ہے آپ فرماتی ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری میں سے کچھ افاقہ ہوا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: میں نے عرض کی : ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے،تو لوگ ان کے رونے کے سبب سے ان کی آواز نہ سن سکیں گے، اس لیے اگرآپ چاہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ نماز پڑھائیں ۔ آپ نے فرمایا:’’ ابوبکر کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ: میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ حضرت ابوبکر بہت نرم دل ہیں ؛جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو ان کے رونے کے سبب سے لوگ ان کی آواز سن نہ سکیں گے۔ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیجئے کہ وہ نماز پڑھائیں ۔‘‘ چنانچہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’بیشک تم تو یوسف کی ساتھی عورتیں ہوں ۔‘‘ابوبکر کو حکم دو کہ تم لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔بخاری کی روایت میں ہے: چنانچہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ٹھہر جاؤ؛یقیناً تم یوسف کی ساتھی عورتیں ہوں ۔‘‘ابوبکر کو حکم دو کہ تم لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔‘‘حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پائی۔‘‘[صحیح بخاری:ح2178۔]

اس حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیااور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرنے کو کہا۔ اسی تکرار پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملامت کیا‘ اوران کے تکرار کو ایسے باطل ٹھہرایا جیسے یوسف علیہ السلام کی ساتھی عورتوں نے باطل کی کوشش کی تھی۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے کو نماز پڑھانے کے لیے آگے کرنا ایسا باطل ہے جوملامت کامستحق ہے۔جس طرح کہ باطل کی کوشش پر یوسف علیہ السلام کی ساتھی عورتوں کی مذمت و ملامت کی گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: نماز پڑھائیے ۔ مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے نہیں بڑھے؛ بلکہ فرمانے لگے: آپ ہی اس کے زیادہ حق دار ہیں ۔

جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مدینہ طیبہ میں خطبہ-اس کا تذکرہ پہلے بھی گزر چکا ہے- کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں :

صفحہ 3 از 8