فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی] -…

فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ قریش یا کسی دوسرے نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کسی قسم کا کوئی عیب لگایا ہو۔نہ ہی کسی نے آپ میں کوئی نقص نکالا اورنہ ہی آپ کو حقیر سمجھا؛ جیسا کہ کمزور مسلمانوں کے ساتھ ان لوگوں کا رویہ رہتا تھا۔ ان لوگوں کے نزدیک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے علاوہ کوئی قابل عیب بات نہیں تھی۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے متعلق قریش کے ہاں کسی قسم کی کوئی عیب یا نقص والی بات یا مذموم چیز نہیں پائی جاتی تھی۔بلکہ آپ خاندان اور گھر بار کے لحاظ سے قابل صدتکریم وتعظیم تھے۔ آپ کے مکارم اخلاق صدق و وفاء اورامانت داری مشہور تھے۔ایسے ہی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے متعلق ان کے ہاں کوئی عیب والی بات نہیں تھی۔

ابن دغنہ علاقہ کا سردار اور اپنے قبیلہ کا رئیس تھا۔ اسے قریش میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا؛ اس کی عزت و احترام کی وجہ قریش اس کو پناہ دیدیتے تھے جس کو یہ پناہ دے دیتا۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ :

’’جب قریش مکہ نے مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا توحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے لیے نکلے۔جب برک غماد پہنچے تو ان سے علاقہ کے سردار ابن دغنہ کی ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا: ابوبکر رضی اللہ عنہ !کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ:’’ مجھ کو میری قوم نے نکال دیا ہے؛اس لیے میں چاہتا ہوں کہ زمین کی سیر کروں اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں ۔‘‘

ابن دغنہ نے کہا کہ:’’ تم جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ نکلا جا سکتا ہے؛ اس لیے کہ تم فقراء کے لیے کماتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو اور عاجز و مجبور کا بوجھ اٹھاتے ، مہمان کی ضیافت کرتے ہو اور حق(پر قائم رہنے)کی وجہ سے آنے والی مصیبت پر مدد کرتے ہو؛میں تمہیں پناہ دیتا ہوں تم لوٹ چلو؛اور اپنے ملک میں اپنے رب کی عبادت کرو۔‘‘

چنانچہ ابن دغنہ روانہ ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر واپس ہوا ؛اور کفار قریش کے سرداروں میں گھوما اور ان سے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے نہ نکالا جا سکتا ہے جو تنگدستوں کے لیے کماتا ہے صلہ رحمی کرتا ہے، عاجزوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتا ہے۔ راہ حق میں پیش آنے والی مصیبت میں مدد کرتا ہے۔ چنانچہ قریش نے ابن دغنہ کی پناہ منظور کرلی ۔اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امان دے کر ابن دغنہ سے کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہہ دو کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں کریں ، نماز پڑھیں ، لیکن ہمیں تکلیف نہ دیں اور نہ اس کا اعلان کریں ، اس لیے کہ ہمیں خطرہ ہے کہ ہمارے بچے اور عورتیں فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔‘‘

ابن دغنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ کہہ دیا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کچھ عرصہ تک اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرنے لگے اور نہ تو نماز اعلانیہ پڑھتے اور نہ قرأت اعلانیہ کرتے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں کچھ خیال پیدا ہوا، تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا لی اور باہر نکل کر وہاں نماز اور قرآن پڑھنے لگے، تو مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کے پاس جمع ہو جاتے، ان لوگوں کو اچھا معلوم ہوتا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھتے رہتے ۔ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسے آدمی تھے کہ بہت روتے اور جب قرآن پڑھتے تو انہیں آنسوں پر اختیار نہیں رہتا تھا۔ مشرکین قریش کے سردار گھبرائے اور ابن دغنہ کو بلا بھیجا وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے ابن دغنہ سے کہا کہ ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کریں ، لیکن انہوں نے اس سے تجاوز کیا اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنالی۔ اعلانیہ نماز اور قرآن پڑھنے لگے اور ہمیں خطرہ ہے کہ ہمارے بچے اور ہماری عورتیں گمراہ نہ ہو جائیں ۔ اس لیے ان کے پاس جا کر کہو کہ اگر وہ اپنے گھر کے اندر اپنے رب کی عبادت پر اکتفا کرتے ہیں تو کریں اور اگر اس کو اعلانیہ کرنے سے انکار کریں تو ان سے کہو کہ تمہارا ذمہ واپس کر دیں ، اس لیے کہ ہمیں پسند نہیں کہ ہم تمہاری امان کو توڑیں اور نہ ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اعلانیہ عبادت کرنے پر قائم رہنے دے سکتے ہیں ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابن دغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذمہ ایک شرط پر لیا تھا، یا تو اسی پر اکتفا کرو یا میرا ذمہ مجھے واپس کر دو، اس لیے کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ عرب اس بات کو سنیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے ذمہ میں لیا تھا، اور میرا ذمہ توڑا گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں تیرا ذمہ تجھے واپس دیتا ہوں اور اللہ کی پناہ پر راضی ہوں ۔‘‘

اس روایت میں ابن دغنہ قبائل قریش کے سرداروں کی موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وہ اوصاف بیان کرتے ہیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اس وقت بیان کیے تھے کہ جب آپ پر وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ’’ مجھے اپنی جان کا خوف محسوس ہونے لگا۔‘‘تو آپ فرمانے لگیں :

’’ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ ہر گز آپ کو پریشان نہیں کرے گا ؛ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ؛ کمزور کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ مہمان کی میزبانی کرتے ہیں ؛ بے آسرا کا سہارا بنتے ہیں ۔ اور حق کے کاموں پر مدد کرتے ہیں ۔‘‘

یہ صفات اس نبی کی صفات ہیں جو افضل الانبیاء ہیں اور اس صدیق کی صفات ہیں جو افضل صدیقین ہے۔

صحیحین میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور فرمایا:

’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک بندہ کو دنیا اور اس چیز کے درمیان جو اللہ کے پاس ہے اختیار دیا ہے تو بندہ نے اس چیز کو پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘

پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے؛ اور فرمانے لگے: ’’ ہمارے ماں باپ آپ پرقربان جائیں ۔‘‘

صفحہ 4 از 5