فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی] -…

فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

’’ نیز وہ کہیں گے:کیابات ہے کہ ہمیں وہ آدمی نظر نہیں آرہے جنہیں ہم بروں میں شمار کرتے تھے۔کیا ہم یونہی ان کا مذاق اڑاتے رہے؟ یا اب ہماری نگاہیں ہی ان سے پھر گئی ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿قَالُوْا اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ﴾ [الشعراء۱۱۱]

’’وہ بولے:کیا ہم تم کو مان لیں حالانکہ تمہاری پیروی رذیل لوگوں نے اختیار کی ہے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰیکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰیکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیْنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ﴾ [ھود ۲۷]

’’ تو اس کی قوم کے کافر سرداروں نے جواب دیا: ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا آدمی خیال کرتے ہیں اور جو تیرے پیروکار ہیں وہ بادی النظر میں ہمیں کمینے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَo قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ﴾ [الأعراف ۷۵۔۷۶]

’’اس قوم کے متکبر سرداروں نے غریبوں سے کہا جو ایمان لاچکے تھے کیا تمہیں یقین ہے کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے انہوں نے کہا جو وہ لے کر آیا ہے ہم اس پرایمان لانے والے ہیں ۔متکبروں نے کہا جس پر تمہیں یقین ہے ہم اسے نہیں مانتے ۔‘‘

صحیحین میں ہے : ھرقل نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حرب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا تھا؛اور سوال کیا تھا: کیا آپ کی پیروی کرنے والے قوم کے بڑے لوگ ہیں یا پھرکمزور لوگ ۔ تو ابوسفیان نے کہا: ’’ کمزور لوگ ۔‘‘ اس پر ھرقل نے کہا: یہی لوگ رسولوں کی اتباع کرنے والے ہوتے ہیں ۔

اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کمزور لوگوں میں سے تھے‘جیسا کہ حضرت عمار‘ حضرت بلال اور حضرت صہیب رضی اللہ عنہم ؛ تو پھر بھی یہ چیز آپ کے کمال ایمان اورتقوی میں قدح کاموجب نہیں ہوسکتی۔جیسا کہ ان دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان وتقوی اور اللہ کے ہاں کامل الخلق اور سب سے متقی ہونے میں کوئی چیزموجب قدح نہیں ہے۔

لیکن رافضیوں کاکلام عہدجاہلیت کے مشرکین کے کلام کی جنس سے ہوتا ہے۔یہ اپنے باپ دادا اور نسب کی وجہ سے تعصب برتتے ہیں دین کی وجہ سے نہیں ۔اور انسان پر کسی ایسی وجہ سے عیب لگاتے ہیں جس سے اس کے ایمان و تقوی میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔یہ تمام جاہلیت کے افعال ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ روافض پر جاہلیت غالب ہوتی ہے۔ اور خودکئی ایک ان وجوہات کی بناپرکفار سے مشابہت رکھتے ہیں ؛جن میں انہوں نے اہل ایمان و اسلام کی مخالفت کی ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اورپیشہ سلائی؟:

[اعتراض]:رافضی کا یہ کہنا ہے کہ: ’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام لانے کے بعد درزی کا کام کیا کرتے تھے۔جب آپ مسلمانوں کے ولی الامر بن گئے تو لوگوں نے آپ کو درزی کا کام کرنے سے روک دیا۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]: یہ کھلا ہوا جھوٹ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ درزی تھے۔اس دعوی کا جھوٹ ہونا ہر معرفت رکھنے والے انسان پر عیان ہے۔اور اگرحقیقت میں ایسا ہوتا بھی تو اس میں کوئی عیب والی بات نہیں تھی۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تاجر تھے درزی نہ تھے۔آپ کبھی اپنال مال تجارت لیکر خود سفر کرتے ‘ اور کبھی خود نہ بھی جاتے۔آپ نے عہد اسلام میں تجارت کی غرض سے شام کا سفر کیا۔تجارت قریش کے ہاں افضل ترین ذریعہ آمدن تھا۔ان کے مالداروں میں سے بہترین لوگ تجارت کے پیشہ سے وابستہ تھے۔ اور عرب انہیں تاجروں کی حیثیت سے ہی جانتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب منصب خلافت پر فائز ہوئے تو اس وقت بھی تجارتی مشاغل جاری رکھنا چاہتے تھے ‘ مگرمسلمانوں نے اس سے روک دیا؛ اور عرض گزار ہوئے کہ : یہ کام آپ کومسلمانوں کی مصلحت کے کاموں سے روک دے گا۔‘‘

درزی کایہ پیشہ قریش میں بڑاکم یاب تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش عام طور سے تہ بند باندھتے اور اوپر چادر اوڑھ لیا کرتے تھے۔[ اس لیے کپڑے سینے کی ضرورت ہی لاحق نہیں ہوا کرتی تھی]۔

مدینہ طیبہ میں ایک درزی ہوا کرتا تھا۔اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھرپر بھی بلایا تھا۔[حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مدینہ میں ایک درزی تھا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی۔میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا ۔ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پلیٹ سے کدو کے ٹکڑے تلاش کرکے کھارہے تھے۔تو اس وقت سے مجھے کدو سے محبت ہو گئی۔[بخاری‘ کتاب الاطعمہ ‘باب من تتبع حوالی القصعہ ۔وکتاب البیوع ‘ باب ذکر الخیاط۔نیز دیکھیں صحیح مسلم ‘ ۳؍۱۶۱۵۔]]

جب کہ مہاجرین میں سے کسی ایک کے متعلق ہمیں یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ وہ درزی کاکام کرتا ہو۔حالانکہ درزی کا پیشہ بڑا ہی اچھا اور باعزت پیشہ ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی راہ میں خرچ کرناتواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ اسے ہر خاص و عام جانتا ہے۔اسلام سے قبل آپ بڑے مال دار تھے۔ قریش آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے آپ کی تعظیم کرتے اور آپ سے محبت کرتے تھے۔ آپ کو عربوں کے نسب اور ان کی لڑائیوں کے بارے میں بہت علم حاصل تھا۔لوگ آپ کے علم و احسان اور تجارتی مقاصد کی وجہ سے آپ کے پاس آتے رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ مکہ سے نکلے تو ابن دغنہ نے کہا: ’’آپ جیسا آدمی نہ نکل سکتا اور نہ نکالا جاسکتا ہے ۔‘‘

صفحہ 3 از 5