فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی] -…

فصل:....[احوال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق جھوٹا دعوی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

شیعہ مصنف کا یہ قول کہ:’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ عہد جاہلیت میں بچوں کو تعلیم دینے کے لیے ایک پیشہ ور معلم تھے۔‘‘

[صاف جھوٹ ہے] اگر فی الواقع ایسا ہوتا بھی تواس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔

بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ علم و معرفت رکھنے والے انسان تھے۔مسلمان علماء کرام رحمہم اللہ کی ایک جماعت تھی جو لوگوں کو آداب سیکھایا کرتے تھے۔ان میں : ابو صالح ‘جو کلبی کے ساتھی تھے ؛ بچوں کوتعلیم دیا کرتے تھے ۔

ابو عبدالرحمن السلمی ان کا شمار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خواص میں سے ہوتا ہے۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ضحاک بن مزاحم اور عبداللہ بن الحارث بچوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ مگر اس پر کوئی اجرت نہیں لیتے تھے۔‘‘

ان ہی لوگوں میں سے ایک حضرت قیس بن سعد بھی تھے۔اور عطاء بن ابی رباح؛ عبد الکریم ابو امیہ ‘ حسین المعلم ابوذکوان ‘ قاسم بن عمیر ہمدانی ؛ حبیب المعلم مولی معقل بن یسار بھی تھے۔نیز حضرت علقمہ بن ابی علقمہ ؛ ان سے حضرت مالک بن انس بھی روایت کرتے ہیں ‘ آپ کا ایک مکتب تھا جہاں پر لوگوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ان میں سے ابو عبید القاسم بن سلام بھی ہیں ۔جن کی فضلیت و امامت پر اجماع ہے۔

توپھر جب یہ بات ہی خود ساختہ جھوٹ ہے تو ہم اس کے متعلق کیا کہہ سکتے ہیں ۔ [ابوبکر رضی اللہ عنہ اگرپیشہ ور معلم ہوتے تو قریش کے بہت سے لوگ لکھے پڑھے ہوتے۔ حالانکہ لکھنے والوں کی قریش میں بڑی قلت تھی]۔

بلکہ اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام سے قبل نچلے درجہ کے لوگوں میں سے بھی ہوتے تو پھر بھی یہ بات آپ کی شان میں قدح کا موجب نہیں ہوسکتی تھی۔اس لیے کہ حضرت سعد‘عبداللہ بن مسعود ‘ صہیب؛بلال ‘ رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ دیگر کمزور لوگ بھی تھے جن کے متعلق قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیا جائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا ۔ فرمان ِالٰہی ہے:

﴿وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْئٍ﴾....آگے تک....﴿اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ﴾

[الانعام ۵۲۔۵۳]

’’اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں ، خاص اس کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں ۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں ....آگے تک ....کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شکرگزاروں کو خوب جانتا ہے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰکَ عَنْہُمْتُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰیہُ وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا﴾ [الکہف ۲۸]

’’ تو ان لوگوں کی صحبت میں رہ جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا کہ دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیاہے اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیاہے اور اسکا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے۔‘‘

نیزکمزور اہل ایمان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿اِِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنْ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَo وَاِِذَا مَرُّوا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَo وَاِِذَا انقَلَبُوْا اِِلٰی اَہْلِہِمْ انقَلَبُوْا فَکِہِیْنَ٭وَاِِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْا اِِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَالُّوْنَo وَمَا اُرْسِلُوْا عَلَیْہِمْ حَافِظِینَo فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَo عَلَی الْاَرَائِکِ یَنظُرُوْنَ ﴾

[المطففین۲۹۔۳۴]

’’مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو آپس میں آنکھ سے اشارے کرتے تھے۔اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تو ہنستے ہوئے جاتے تھے ۔اور جب ان کو دیکھتے توکہتے بیشک یہی گمراہ ہیں ۔ حالانکہ وہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔پس آج وہ لوگ جو ایمان لائے کفار سے ہنس رہے ہوں گے۔مسندوں پر بیٹھے ہوئے اِن کاحال دیکھ رہے ہوں گے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ اللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴾ [البقرۃ ۲۱۲]

’’کافروں کو دنیا کی زندگی بھلی لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لائے حالانکہ جولوگ پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان سے بالاتر ہوں گے اور اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَ نَادٰٓی اَصْحٰبُ الأعراف رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَہُمْ بِسِیْمٰہُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَo اَھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَ لَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ﴾ [الأعراف ۴۸۔۴۹]

’’اور اعراف والے پکاریں گے جنہیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے کہیں گے تمہاری جماعت تمہارے کسی کام نہ آئی اور نہ وہ جو تم تکبر کیا کرتے تھے۔یہ وہی ہیں جن کے متعلق تم قسم کھاتے تھے کہ انہیں اللہ کی رحمت نہیں پہنچے گی (انہیں کہا گیا ہے)جنت میں چلے جا تم پر نہ ڈر ہے اور نہ تم غمگین ہو گے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَقَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرَی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمْ مِنَ الْاَشْرَارِo اَأتَّخَذْنَاہُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْہُمُ الْاَبْصَارُ﴾ [ص ۶۲۔۶۳]

صفحہ 2 از 5