فصل: ....[روافض کی کج فہمی] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....[روافض کی کج فہمی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 9

یعنی اللہ آپ کوبھی کافی ہے ‘اور آپ کے ماننے والے اہل ایمان کو بھی کافی ہے۔ پس اہل ایمان میں سے جو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کریگا اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجائے گا یہ معنی ہے اللہ تعالیٰ کی معیت کا۔

پس یہ کفایت مطلقہ اتباع مطلق کے ساتھ معلق ہے۔اور ناقص ناقص کیساتھ ۔پس جب آپ کے بعض اتباع کاروں کو اس اتباع کی وجہ سے لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے کفایت کرجاتا ہے اوروہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔اور اس کے لیے اس آیت کی معنویت میں حصہ ہوتا ہے :

﴿اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ ۴۰]

’’ جب وہ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے :گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

اس لیے کہ اس آدمی کا دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موافقت کرتا ہے۔اگرچہ وہ جسمانی طور پر آپ کے ساتھ نہیں ہوتا ؛ مگر دل کا تعلق ہی اصل اور مقصود ہوتا ہے۔

جیسا کہ صحیحین میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’بیشک مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ نہ ہی تم کوئی منزل طے کرتے ہو اورنہ ہی کوئی وادی پار کرتے ہو ‘ مگر وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں ۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ’’اوروہ مدینہ میں رہ کر بھی ہمارے ساتھ ہیں ‘‘؟

توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں وہ مدینہ میں رہ کر بھی ؛انہیں عذر نے روک رکھا ہے۔ ‘‘[عن أنسِ بنِ مالِک رضی اللہّٰ عنہ فِی: البخاری 4؍26کتاب الجِہادِ، باب من حبسہ العذر عنِ الغزوِ۔سننِ أبِی داؤود3؍17۔18 کتاب الجِہادِ، باب فِی الرخصۃِ فِی القعودِ مِن العذر۔سنن ابن ماجہ 2؍923 ۔کتاب الجِہادِ، باب من حبسہ العذر عنِ الجِہاد۔ وحدیث آخر بِألفاظ مقارِب عن جابِرِ بنِ عبدِ اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ فِی: مسلِم3؍518۔ کِتاب الإِمارۃِ، باب ثوابِ من حبسہ عنِ الغزوِ مرض و عذر آخر۔]

یہ لوگ اپنے دلوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے صحابہ کرام کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے۔ ان لوگوں کو غزواۃ میں معنوی صحبت حاصل تھی۔پس اس معنوی صحبت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تھا۔

اگر کوئی انسان بعض شہروں میں یا بعض اوقات میں اکیلا ہو؛اور وہ اس حق پر قائم ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ؛ اور لوگ اس پر اس کی مدد نہ کریں ۔پس بیشک اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اور اس کا اس آیت میں معنوی طور پر حصہ ہوتا ہے :

﴿اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ۴۰]

’’اگر تم ان(نبی صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے ۔‘‘ ’’ جب وہ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے: گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت سے مراد حقیقت میں آپ کے دین کی نصرت ہے جو دین آپ لیکر آئے ہیں ؛ خواہ کوئی جہاں کہیں بھی اور کسی بھی زمانہ میں ہو۔پس جو کوئی اس نصرت دین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا موافق ہو؛ اسے معنوی صحبت حاصل ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اس دین کو ایسے قائم کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ؛ تو بیشک اللہ تعالیٰ اس دین کے ساتھ ہوتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے ہیں ‘اور جو انسان اس دین کو قائم کرتا ہے۔

اس سچے متبع رسول کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے ہی کافی ہوجاتا ہے جیسے اپنے رسول کے لیے کافی تھا۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [الأنفال ۶۴]


صفحہ 9 از 9