فصل: ....[روافض کی کج فہمی] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....[روافض کی کج فہمی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9

خبردار! اس دروازے سے آگے نہیں بڑھنا۔ ہاں صرف ان لوگوں کے لیے جن میں آپ کوئی صلاحیت پاتے ہوں ۔اور اس کی آخری منزلت قرآن اور اس کے مؤلف اور سبب تألیف کی معرفت ہے۔

خبردار! ان بہت سارے لوگوں سے بھی بچ کر رہنا جو آپ کے ساتھ اس منزلت تک پہنچے ہوں ؛ کہ انہیں اس سے اگلے درجہ تک لے کر چلو‘ اوران کے ساتھ موانست و مدارست اوران پر اعتماد کرنے میں غلطی کرجاؤ۔ایسا کرنا امور نبوت اوران کے دعوی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتب کو باطل ثابت کرنے کے لیے آپ کے لیے مدد گار ثابت نہیں ہوگا۔ اور اس کی آخری منزلت یہ ہے کہ امام مرچکاہے؛ اوریہ کہ وہ روحانی طور پر قائم ہوگا؛اوریہ کہ تمام مخلوق روحانی طور پر اس کی طرف رجوع کرے گی۔اوروہ اللہ کے حکم سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔اور پھر روحانی صورت میں کافراور مؤمن میں فرق کرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ تمہارے لیے معاد اور آخرت کے عقیدہ اور قبر سے دوبارہ اٹھائے جانے کا عقیدہ باطل ثابت کرنے کے لیے مدد گار ہوگا۔

اس سے اگلی منزل آسمانوں میں ملائکہ اور زمین میں جنات کے وجود کوباطل ثابت کرناہے؛اوریہ کہ آدم سے پہلے بہت ساری بشریت تھی۔اور اس پر وہ دلائل قائم کریں جو کہ ہماری کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں ۔ اس لیے کہ یہ امور وحی اور ملائکہ کے بشریت کی طرف آنے کے عقیدہ کومعطل ثابت کرنے کے لیے آپ کے مدد گار ثابت ہوں گے۔جس سے عالم کے قدیم ہونے کا عقیدہ ثابت کرنے میں مدد ملے گی۔

اس کا اگلا درجہ اوائل توحید کاہے۔اس عقیدہ کو باطل ثابت کرنے کے لیے وہ کچھ بیان کرکے سہارا لیں جو ان کی مترجمہ کتب جیسے : ’’الدرس الشافی للنفس ‘‘میں بیان ہوا ہے۔یعنی نہ ہی کوئی معبود ہے نہ ہی کوئی صفت ہے اورنہ ہی کوئی موصوف۔ یہ بیان ’’البلاغ ‘‘ میں بیان کردہ عقیدہ کو ثابت کرنے کے لیے تمہارا مدد گار ثابت ہوگا۔ 

اس کے علاوہ دیگر امور میں بھی یہ اپنے داعی کے لیے لازمی ٹھہراتے ہیں کہ وہ درجہ بدرجہ منزلیں طے کرتا جائے۔یہاں تک کہ وہ امام ناطق کے درجہ تک پہنچ جائے۔اورپھرر وحانی الہ بن جائے۔اس کی وضاحت ہم بعد میں کریں گے۔

اور کہتے ہیں : ’’ جس کوتم اس مقام تک لے جاؤ ‘تو اس کے سامنے امامت کی وہ حقیقت بیان کرو جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کی ہے۔اوریہ بتاؤ کہ اسماعیل اور اس کا والدمحمد یہ دونوں اس کے نواب تھے۔’’البلاغ ‘‘ کے مطابق یہ عقیدہ اولاد علی سے امامت کا ابطال ثابت کرنے میں آپ کا مدد گار ہوگا۔پھر ایسے ہی درجہ بدرجہ اسے لیکر آگے بڑھتے رہیں یہاں تک کہ اس آخری درجہ تک پہنچ جائیں جیسا کہ آنے والے صفحات میں ہم بیان کریں گے ۔‘‘[انتہیٰ کلام الباطنیہ]

قاضی ابو طیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ باطنیہ کی یہ وصیت ان کے مذہب کے تمام داعیوں کے لیے ہے۔اس میں ہر عاقل کے لیے ان لوگوں کے کافر اور ملحد ہونے کی کھلی دلیل موجود ہے۔جس میں یہ لوگ صراحت کے اس عالم کے مخلوق ہونے اور اس کے پیدا کرنے والے کی نفی کرتے ہیں ۔اور ملائکہ ومرسلین کاانکار کرتے ہیں ۔آخرت اور ثواب و عقاب کے منکر ہیں ۔یہ ان تمام لوگوں کااصول ہے جسے وہ اول وثانی اور ناطق و اساس اور دوسرے رموز سے تعبیر کرتے ہیں ۔جس کے ذریعہ سے کمزور لوگوں کودھوکہ دیاجاتاہے۔ حتی کہ جب کوئی ایک ان کی بات مان لیتا ہے تو یہ لوگ اسے دھریت اور تعطیل کی منزلت تک پہنچاکر دم لیتے ہیں ۔‘‘

اس کے بعد میں ان کا تمام انبیاء ومرسلین علیہم السلام پر سب و شتم کرنا بھی ذکر کروں گا۔اوریہ کہ ان لوگوں کی دعوت کا منتہاء اللہ تعالیٰ کی وحدانیت [اوراس کے وجود]کا انکارہے۔جیسا کہ دین سے ان کی بیزاری و کفر اور عناد کو ہر وہ انسان جانتا ہے جسے علم سے واسطہ ہے۔‘‘

[باطنیہ کے عقیدہ پر ابن تیمیہ کا رد]:

میں کہتا ہوں : ’’یہ تمام امور واضح ہیں ۔باطنیہ اسماعیلیہ اور دوسرے ملحدین جیسے غالیہ ‘ نصیریہ ؛اور دوسرے لوگ جو کہ شیعیت کااظہار کرتے ہیں ؛ درحقیقت باطن میں وہ یہود و نصاری سے بڑے کافر ہیں ۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ شیعیت کفر و نفاق کی دھلیز ہے۔

[منقبت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ]:

٭ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مرتدین کے ساتھ قتال کے امام تھے۔پس یہ لوگ مرتدین ہیں ۔اورحضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے دشمن ہیں ۔

٭ یہاں پر یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ : اس آیت میں مذکور صحبت :

﴿اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ ۴۰]

’’ جب وہ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے :گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

اپنے ساتھی کے ساتھ محبت و الفت اور موالات اور اس کی سچی اتباع کی صحبت ہے۔جس کا نفاق سے یا محض سفر کے ساتھی کی صحبت سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ وہی صحبت ہے جو کوئی بھی انسان کسی کو اپنا دوست بناتے ہوئے پیش نظر رکھتا ہے۔جیسا کہ علم ضروری کے طور پر تمام خلائق کے ہاں مشہور و معروف ہے۔ اور کئی امور کی بناپر اسے تواتر کی حیثیت حاصل ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت وموالات اور آپ پر صدق ایمان [کمال کی معراج پر تھے]؛ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابن عم کی محبت و الفت سے بہت بڑھ کر تھے۔

٭ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان:﴿ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔’’بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘یہ محض ایسی ظاہری صحبت نہیں تھی جس میں متابعت نہ پائی جاتی ہو۔ایسی صحبت تو کافرکے ساتھ بھی ہوسکتی ہے جب وہ کسی مؤمن کے ساتھ چلے۔مگر اللہ اس کے ساتھ نہیں ہوتا۔بلکہ یہ معیت باطنی معیت تو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اقتداء اور محبت پائے جاتے تھے۔

پس اسی لیے جو کوئی رسول کا سچا متبع ہوتا ہے؛تو اللہ تعالیٰ اس کی اتباع کے حساب سے اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾[الأنفال ۶۴]

’’اے نبی! بے شک آپ کو اللہ ہی کافی ہے۔ اوران مومنوں کو بھی جنہوں نے آپ کی اتباع کی۔‘‘

صفحہ 8 از 9