فصل: ....[روافض کی کج فہمی] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....[روافض کی کج فہمی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9

اور کہتے ہیں : اگر آپ کو کوئی یہودی مل جائے توپھر اس کے سامنے انتظار مسیح کا راستہ اختیار کرو۔ اور کہو کہ یہی وہ مہدی بھی ہے جس کا انتظار مسلمان لوگ کررہے ہیں ۔اور اس کے سامنے یوم السبت کی تعظیم کرو؛ اور اس طرح کے حیلوں سے اسے اپنے قریب لاؤ۔ اور اسے یہ بتاؤ کووہ ممثول کے متعلق ان کی رہنمائی کرے گااور ممثول ساتویں منتظر کے متعلق ان کی رہنمائی کرے گا۔ اس سے ان کی مراد محمد بن اسماعیل بن جعفر ہوتے ہیں ۔ اورکہتے ہیں : یہ دور اسی کا دور ہے ‘اوروہی مسیح منتظر ہے۔وہی مہدی بھی ہے؛ اس کی معرفت حاصل ہو جانے پر تمام اعمال سے راحت مل جاتی ہے۔ اور تکلیفات ترک کردی جاتی ہیں ۔جیسا کہ ہفتہ کے دن انہیں آرام کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔اور یوم سبت میں راحت وآرام ساتویں منتظر کے دور میں تکلیفات اورعبادات سے راحت پر دلالت کرتی ہے۔ اوران کے سامنے نصاری اور جاہل مسلمانوں پرتنقید کرکے ان کی قربت حاصل کریں ؛ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام پیدا نہیں ہوئے ؛ اور ان کا کوئی باپ نہیں ۔ اور ان کے دل میں یہ عقیدہ مضبوط کرو کہ یوسف نجار ہی آپ کا والد ہے۔ اورمریم ان کی ماں ہیں ۔اور یوسف نجار ان کے ساتھ ویسے ہی کرتا تھا جیسے مرد خواتین کے ساتھ کرتے ہیں ۔اور اس طرح کی دیگر باتیں بھی کریں ؛ زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ یہ لوگ تمہاری اتباع کرنے لگ جائیں گے۔‘‘

اورکہتے ہیں : اگر آپ کو کوئی نصرانی مل جائے ؛ تو اس کے سامنے یہودیوں اور مسلمانوں دونوں پر طعن و تشنیع کرو۔اور ثالوث کے متعلق ان کے عقیدہ کو صحیح بتاؤ۔اورکہوکہ : باپ ؛ بیٹا؛ اور روح القدس یہ تینوں ٹھیک ہیں ۔ اور ان کے سامنے صلیب کی تعظیم کرو‘اور اسے تأویل سکھاؤ۔

اور اگرکوئی دو خداؤں کا ماننے والا مل جائے تو ان کے سامنے ایسی باتیں کرو جنہیں وہ جانتے ہیں ۔اس کے سامنے امتزاج و اختلاط اور درجہ سادسہ میں اور اس کے بعد بلاغ کی باتیں کرو۔ اور بتاؤ کہ روشنی اور اندھیرا کیسے آپس میں ملے۔ اس طرح آپ اس پر قابو پالیں گے۔ جب آپ اس میں کچھ مانوسی محسوس کریں تو پھر تمام پردے ختم کردیں ۔

اور جب کبھی آپ کاکسی فلسفی سے واسطہ پڑ جائے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فلاسفہ ہی ہمارے لیے بنیاد اور اہم کردار ہیں ۔ ہم اور فلاسفہ نوامیس انبیاء کے ابطال اورقدم العالم کے عقیدہ پر یک زبان ہیں ۔اگران کی بعض باتیں ہماے خلاف نہ ہوتیں ‘ جیسا کہ وہ کہتے ہیں : اس عالم کا کوئی مدبر ہے ‘ جسے وہ نہیں جانتے ۔[ہمارے مابین کوئی بڑا اختلاف تونہیں تھا]۔ اگروہ مدبر عالم کی نفی پر آپ کے ساتھ اتفاق کرلیں ‘ تو ہمارے اور ان کے مابین موجود شبہ بھی زائل ہوجاتا ہے ۔

اور اگر آپ کو کوئی ثنوی(دو معبودوں کا ماننے والا) مل جائے تو پھر آپ کو مبارک ہو؛ یقیناً آپ کامیاب ہوگئے اور اب اس کے ساتھ آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔آپ اس کے ساتھ توحید کے ابطال پر گفتگوکاآغاز کریں ۔اور سابق و تالی کا عقیدہ بیان کریں ۔اور یہ تمام چیزیں اس ترتیب کے ساتھ بیان کریں جو کہ بلاغ کے درجہ ثانیہ وثالثہ میں تمہارے لیے درج کی گئی ہیں ۔

’’اس کا طریقہ ہم بیان کرتے ہیں : آپ ان سے انتہائی پختہ عہد و پیمان لیں ؛ اور پکی قسمیں اٹھوائیں ۔پختہ عہد تمہارے لیے جنت اور مضبوط قلعہ ہے۔اور اپنے ماننے والوں پر ان اشیاء سے حملہ نہ کردیں جنہیں وہ برا سمجھتے ہوں ؛ تاکہ آپ انہیں اعلی مراتب تک لے جائیں ۔بلکہ دھیرے دھیرے اور درجہ بدرجہ انہیں ایسے آگے لیکر چلیں جیسے ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ ہر فریق کے ساتھ اس کے احتمالات کے مطابق پیش آؤ۔ اگر کسی ایک انسان کے ساتھ اس سے آگے نہ بڑھیں کہ وہ محمد بن اسماعیل کو اپنا امام ماننے لگ جائے؛اوراس کے شیعہ میں سے ہوجائے۔ اوریہ کہ امام زندہ موجود ہے۔ بس اس حد سے آگے نہ بڑھیں ۔ خصوصاً ایسے لوگوں کے سامنے کثرت کے ساتھ امام کا تذکرہ کیا جائے؛ اور درہم و دینار سے اپنی پاکدامنی ظاہر کی جائے۔ اور اس کے پاس اپنا آنا جانا کم کردیں ۔ بس ایک بار ’’صلاۃ سبعین ‘‘ کے موقع پر کافی ہے۔ اسے جھوٹ ؛ زنا‘ لواط‘ اور شراب نوشی سے بچ کر رہنے کی تلقین کریں ۔ اور نرمی ‘ پیار و محبت اور صبر و تحمل کا حکم دیں ۔ اوراس خود بھی اس کے ساتھ صبر سے پیش آئیں ۔اگروہ آپ کا متبع ہوگا تو آپ اس کے پاس سعادت پائیں گے۔اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کا مدد گار رہے گا۔اور ایسا ہوسکتا ہے کہ بعض دوسرے ادیان کے پیروکار تمہارے ساتھ دشمنی رکھیں ‘یا پھر اسے تمہاری دشمنی پر ابھاریں ۔ اس لیے آپ اسے ایک الہ کی عبادت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے اظہار‘ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں کی امامت کے عقیدہ سے باہر نہ نکالیں ۔اور اس پرسات ائمہ کے حق میں دلیل قائم کریں ۔ اوراسے انتہائی دقت کے ساتھ نماز و روزہ اور شدت اجتہاد پر لگائیں ۔ایسے انسان پر وہ وقت بھی آئے گا کہ اس کا مال تو کیا اگر آپ اس سے اس کی بیوی بھی مانگیں گے تو وہ انکار نہیں کرے گا۔ اور اگر اس کی موت کا وقت آجائے گا تو وہ اپنا مال تمہارے نام کرجائے گا۔آپ اس کے وارث بن جاؤگے۔ اس لیے کہ اس کے نزدیک آپ سے زیادہ قابل اعتماد کوئی دوسرا نہیں ۔اور پھر آہستہ آہستہ اسے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے منسوخ ہونے کے عقیدہ کی طرف لے کر جائیں ۔ اور یہ کہ ساتواں امام ہی آخری رسول ہے۔اور یہ بھی ایسے ہی بولتا ہے جیسے اس سے پہلے کے ائمہ بولا کرتے تھے۔اور یہ امام نئے احکام لے کر آیا ہے۔اور یہ کہ محمد کا دور چھٹا ہے۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ امام نہیں تھے بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی امور کے ذمہ دار تھے۔

ان کے متعلق ابتدائی طور پر سیاسی اور اچھی اچھی باتیں کہو۔اس میں کوئی شک نہ کہ یہ بہت بڑا دروازہ ہے ‘ اور اس میں کام بہت بڑا ہے۔یہاں سے انسان اس سے بڑے اور عظیم امور کی طرف نکل سکتا ہے۔ اور یہی بات ان چیزوں کوختم کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے جو آپ سے پہلے کے لوگ بتا گئے ہیں ۔جیسا کہ نبوات کا زوال وغیرہ؛ جس منہج پر وہ قائم ہے۔

صفحہ 7 از 9