فصل: ....[روافض کی کج فہمی] - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فصل: ....[روافض کی کج فہمی]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 9

قرآن آپ کے بارے میں کہتا ہے:﴿اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔

’’ جب وہ اپنے ساتھی سے فرمارہے تھے :گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے ساتھی کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ ساتھ نصرت اور تائید کو متضمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دشمن پر اور ان حضرات کے دشمن ہر کافر پر کامیابی عطافرمائیں گے۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ نبی کے ساتھ بھی ہو اور اس کے دشمن کے ساتھ بھی۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے دشمن کے ساتھ ہوتا تو یہ بات موجب حزن و ملال تھی جس کی وجہ سے اطمینان و سکون ختم ہوجاتا۔پس اس سے معلوم ہوا کہ ’’صَاحِبِہٖ ‘‘ کا لفظ محبت اور دوستی کی صحبت کو متضمن ہے جس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کا ایمان لازم آتاہے۔

٭ ایسے ہی یہ لفظ : ﴿لاتَخْزَنْ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے دوست تھے؛ اس لیے کہ آپ ان کے دشمن سے خوف زدہ تھے۔اسی لیے آپ سے کہا گیا: 

﴿لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔ ’’گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

اگر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہوتے تو پھر صرف اسی صورت میں غمگین ہوتے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قہر و جلال کے سامنے مغلوب ہوجاتے ؛ ورنہ نہیں ۔تو پھر ہر گز یہ بھی نہ کہا جاتا:

﴿لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾۔ ’’گھبرائیے نہیں ! بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی کے ساتھ ہونا ایسی بات ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی پہنچتی ہے۔اور آپ کے دشمن کے ساتھ ہونا ایسا معاملہ ہے جس سے آپ کو تکلیف متوقع ہوسکتی تھی۔پس یہ بات ممتنع ہے کہ اللہ ایک ہی وقت میں آپ کے ساتھ بھی اور آپ کے دشمن کے ساتھ بھی۔خصوصاً جب کہ یہ کہا جارہا ہے : ﴿ لَاتَخْزَنْ ﴾پھر یہ فرمان : 

﴿ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ﴾ [التوبۃ۴۰]

’’اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے نکال دیا تھا ،دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے ۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی مدد اس صورت میں نہیں ہوسکتی تھی کہ آپ کے دشمن کو آپ کے ساتھ ملا دیا جائے۔نصرت و مدد تو اسی صورت میں تھی کہ آپ کے دوست کو آپ کے ساتھ ملایا جائے اور دشمن سے نجات عطا کی جائے۔ دشمن پر آپ کی مدد و نصرت اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ دشمن مسلسل آپ کے ساتھ لگارہے۔دن اوررات میں کسی وقت بھی آپ سے جدا نہ ہوتا ہے ؛ خصوصاً جب کہ آپ اتنے اہم ترین اور خطرناک سفر میں تھے۔

اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہ الفاظ: ﴿ثَانِیَ اثْنَیْنِ﴾: دو میں سے دوسرا۔ ﴿ اَخْرَجَہ﴾کی ضمیر سے حال واقع ہورہا ہے ۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ لوگوں نے آپ کو نکالا اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو میں سے ایک تھے۔ آپ کو دو میں سے ایک کی صفت سے موصوف کیا گیاہے۔پس ثابت ہوا کہ یہ دونوں اکٹھے نکالے گئے تھے۔ اس لیے کہ یہ ممکن نہ ہوسکتا کہ دومیں سے دوسرا نکلے؛ مگر ان کے ساتھ کوئی دوسرا نہ ہو۔اس لیے کہ صرف اگر آپ کونکالا گیا ہوتا توپھر دو میں سے دوسرے کی بات کرنا مناسب نہ ہوتی۔پس ان دونوں ہستیوں کو اکٹھے ہی نکالا گیا تھا ۔یہاں پر لفظ مع کا قرینہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔پس اس سے لازم آتا ہے کہ دونوں اکٹھے نکلے ہوں ۔ 

یہی حقیقت واقع ہے۔اس لیے کہ کفار نے تمام مہاجرین کونکالاتھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا﴾ (الحشر:۸)

’’(فئے کا مال)ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌنِ٭ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ﴾ [الحج ۳۹۔ ۴۰] 

’’جن(مسلمانوں )سے (کافر)جنگ کر رہے ہیں انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے۔یہ وہ ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کے اس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔‘‘

نیز فرمان الٰہی ہے :

﴿اِِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنْ الَّذِیْنَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوْا عَلٰی اِِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ﴾ [الممتحنۃ ۹]

’’اللہ تعالی تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس سے نکال دیا اور دیس سے نکال دینے والوں کی مدد کی ۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ : مشرکین مکہ نے اہل ایمان کو مکہ میں ایمان کے ساتھ قیام کرنے سے روک دیا تھا۔اوران لوگوں کے لیے ایمان کو ترک کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔پس ان لوگوں کوان کے ایمان کی وجہ سے دیس سے نکالا گیا۔ پس یہ دلیل ہے کہ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی کوبھی ایسے ہی نکالا تھا جیسے آپ کو نکالا تھا۔کفار نے صرف ان ہی لوگوں کو نکالا تھا جن کے ساتھ ان کی دشمنی تھی؛اپنے کافروں میں سے کسی ایک کو بھی انہوں نے نہیں نکالا ۔ پس اس سے بھی ظاہر ہوگیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت صحبت ِمحبت و ایمان موالات و دوستی تھی۔کفر کی صحبت نہیں تھی۔

٭ اگر اعتراض کرنے والا کہے کہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ آپ ظاہری طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موافقت رکھتے تھے۔اوراس موافقت کا اظہار وہ انسان بھی کرسکتا ہے جو باطن میں منافق ہو؛ مگروہ بھی اصحاب کے لفظ میں داخل ہوتا ہے۔جیسا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض منافقین کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’ نہیں ؛ لوگ یہ کہتے پھریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل کرتا ہے ۔‘‘

صفحہ 2 از 9