موت کا وقت قریب آ گیا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

موت کا وقت قریب آ گیا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

(التبصرۃ لابن الجوزی: جلد 1 صفحہ 477، 479 بحوالہ اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 108)

اور ایک روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے انہیں چادر اڑھا دی گئی تھی، فرمایا: ’’میرے نزدیک اس چادر سے ڈھکے ہوئے شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں جس کے نامہ اعمال کے ساتھ مجھے اللہ سے ملاقات کرنا زیادہ محبوب ہو۔‘‘

(تاریخ الاسلام للذہبی: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 120)

وفات کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی۔ اس پر تمام روایات متفق ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر برابر تھی۔ سیدنا ابوبکرؓ کو آپ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، جس کی آپؓ نے وصیت فرمائی تھی۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 203، 204 وإسنادہ صحیح)

سیدنا ابوبکرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ سیدنا ابوبکرؓ کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے برابر رکھا گیا

(تاریخ الاسلام للذہبی: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 120)

اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور سیدنا ابوبکرؓ کی قبر میں عمر، عثمان، طلحہ اور آپؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم اترے اور آپؓ کی لحد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے چپکا کے رکھا گیا۔

(اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 106)

اس طرح چہار دانگ عالم میں اللہ کے دین کی نشر و اشاعت کی خاطر عظیم جہاد کرتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انسانی تہذیب و تمدن اس بطل جلیل کی مقروض رہے گی جس نے وفات نبوی کے بعد دعوت نبوت کا پرچم اٹھایا اور آپﷺ کے لگائے ہوئے پودے کی حفاظت کی، عدل و حریت کے بیج کی نگہبانی کی اور اسے شہداء کے پاکیزہ خون سے سیراب کیا، جس سے ہر طرح کے ثمرات امت کو وافر مقدار میں ملے اور تاریخ میں علوم و ثقافت اور فکر میں عظیم تقدم حاصل ہوا۔ انسانی تہذیب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مقروض رہے گی کیونکہ آپؓ کے جہاد اور صبر عظیم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حفاظت فرمائی اور اسلام کو اقوام و امم اور مختلف ممالک میں عظیم فتوحات کے ذریعہ سے پھیلا دیا، جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

میں اس کتاب کو ابوعبداللہ محمد عبداللہ قحطانی اَندلسی کے ان اشعار پر ختم کرتا ہوں:

قُلْ اِنَّ خَیْرَ الْاَنْبِیَائِ مُحَمَّدٌ

وَأجلُّ مَنْ یَّمْشِی علی الکُثبانِ

’’کہو! انبیاء میں سب سے بہتر اور روئے زمین پر چلنے والوں میں سب سے عظیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘

وأجلُّ صَحْبِ الرُّسْل صَحْبُ مُحَمَّدٍ

وکان افضل صَحْبِہ العُمَرَان

’’انبیاء کے ساتھیوں میں سب سے عظیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں اور صحابہ میں سب سے افضل ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔‘‘

رَجُلانِ قد خُلقَا لِنَصْرِ محمدٍ

بدمی ونَفْسِی ذانک الرجلان

’’ان دونوں پر میں جان و دل سے قربان جاؤں یہ دونوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت وتائید کے لیے پیدا کیے گئے تھے۔‘‘

فہما اللذان تظاہرا لنبینا

فی نصرہ وہما لہ صِہْران

’’ان دونوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں بھرپور حصہ لیا اور دونوں آپ کے سسر تھے۔‘‘

بنتاہُما أسنی نساء نبینا

وہما لہ بالوحی صاحبتان

’’ان دونوں کی بیٹیاں ہمارے نبی کی افضل ترین بیویوں میں سے ہیں اور ان دونوں کے نبی کی بیویاں ہونے پر وحی شاہد ہے۔‘‘

أبواہُما أسْنی صحابۃِ احمد

یا حبَّذا الابوان والبِنتان

’’ان دونوں کے والد صحابہ کرام میں سب سے افضل ہیں، کیا خوب دونوں باپ ہیں اور کیا خوب دونوں بیٹیاں ہیں۔‘‘

وہما وزیراہ اللذان ہما ہما

لفضائل الاعمال مُستَبِقان

’’یہ دونوں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر ہیں، جن کا مقام مت پوچھیے، فضائل اعمال میں دونوں سبقت لے جانے والے ہیں۔‘‘

وہما لاحمد نظرہ وسمعہ

وبقربہ فی القبر مُضْطَجِعان

’’یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور قبر میں بھی آپ کے قریب لیٹے ہوئے ہیں۔‘‘

کانا علی الاسلام اشفق اہلہ

وہما لدین محمد جَبَلان

’’دونوں اسلام پر سب سے زیادہ شفیق ومہربان تھے اور دین محمدی کے لیے وہ پہاڑ تھے۔‘‘

اصفاہما اقواہما اخشاہما

اتقاہما فی السر والإعلان

’’ان دونوں میں سب سے باصفا، قوی ترین اور ظاہر و باطن میں سب سے بڑھ کر خشیت وتقویٰ کے پیکر۔‘‘

أسناہما أزکاہما أعلاہما

أوفاہما فی الوزن والرُّجحان

’’اور ان دونوں میں سب سے افضل، پاک باز، بلند ترین، میزان میں سب سے بھاری۔‘‘

صدیق احمد صاحب الغار الذی

ہو فی المغارۃ والنبی اثنان

’’احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والے یار غار ہیں جب وہ اور نبی دونوں غار میں تھے۔‘‘

اعنی ابا بکر الذی لم یختلف

من شرعنا فی فضلہ رجلان

’’یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ جن کی فضیلت و بزرگی میں ہماری شریعت میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘

ہو شیخ اصحاب النبی وخیرہم

وامامہم حقا بلا بطلان

’’وہ صحابہ کے شیخ، امام اور حقیقت میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘

وابو المطہر ۃ التی تَنْزِیہُہَا

قد جائنا فی النور والفرقان

’’آپ عائشہ طاہرہ کے والد ہیں جن کی پاکی وصفائی قرآن کی سورہ نور میں بیان ہوئی ہے۔‘‘

(نونیۃ القحطانی: صفحہ 21، 22 )


صفحہ 3 از 3