موت کا وقت قریب آ گیا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

موت کا وقت قریب آ گیا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا ابوبکرؓ مسلسل پندرہ دن تک بیمار رہے۔ جب آپؓ کی زندگی کا آخری دو شنبہ آیا، ام المؤمنینؓ فرماتی ہیں: آپؓ نے مجھ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی تھی؟ میں نے عرض کیا: دو شنبہ کے دن۔ فرمایا: میری بھی یہی آرزو اللہ تعالیٰ سے ہے۔ پھر پوچھا: کتنے کپڑوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا تھا؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: تین یمنی سوتی چادروں میں، نہ تو اس میں قمیص تھی اور نہ عمامہ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے اس کپڑے کو دیکھو اس میں زعفران یا مشک لگا ہوا ہے اس کو دھو دو، اور اس کے ساتھ دو کپڑے اور شامل کر لو۔

(اصحاب الرسول: جلد 1 صفحہ 106)

سیدنا ابوبکرؓ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر عطا کیا ہے، ہم آپ کو نئے کپڑے میں کفن دیں گے۔ فرمایا: میت کی بہ نسبت زندہ شخص نئے کپڑوں کا زیادہ مستحق ہے تاکہ اپنی سترپوشی کرے۔ میت تو پیپ اور بوسیدگی کے حوالے ہے۔

(التاریخ الاسلامی: محمود شاکر: الخلفاء الراشدون: صفحہ 104)

سیدنا ابوبکرؓنے وصیت فرمائی کہ آپ کو آپ کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا غسل دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آخری کلمات یہ تھے:

تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ ۞ (سورۃ يوسف آیت 101)

ترجمہ: ’’تو مجھے اس حالت میں دنیا سے اٹھانا کہ میں تیرا فرمانبردار ہوں اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کرنا۔‘‘

(الشیخان ابوبکر الصدیق: وعمر بن الخطاب بروایت البلاذری فی انساب الأشراف: تحقیق دیکھیے احسان صدقی العمد: 69)

اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکرؓ کی آرزو پوری کی۔ 22جمادی الاخریٰ 13ہجری دو شنبہ کا دن گذار کرسہ شنبہ کی رات انتقال فرمایا۔ سیدنا ابوبکرؓ کی وفات سے پورے مدینہ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس غمگین شام سے بڑھ کر کسی دن مدینہ میں زیادہ رونے والے نہ پائے گئے۔

وفات کی خبر سنتے ہی سیدنا علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئے اور فرمایا:

’’ابوبکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب، مونس، معتمد علیہ، راز دار مشیر تھے۔ لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے، سب سے بڑھ کر مخلص اور سب سے زیادہ اللہ پر یقین رکھنے والے، سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے، سب سے بڑے دیندار، سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے والے، اسلام پر سب سے زیادہ مہربان، سب سے بہترین صحبت والے، سب سے زیادہ مناقب والے، سب سے افضل، سب سے بلند مقام کے مالک، سب سے زیادہ مقرب اور اخلاق و عادات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اشرف، ارفع اور مکرم تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی طرف سے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت تصدیق فرمائی جب لوگوں نے آپؓ کی تکذیب کی۔ سیدنا ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آنکھ وکان کی طرح تھے۔ اللہ نے سیدنا ابوبکرؓ کو قرآن میں صدیق قرار دیا:

وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞ (سورۃ الزمر آیت 33)

ترجمہ: اور جو لوگ سچی بات لے کر آئیں اور خود بھی اسے سچ مانیں وہ ہیں جو متقی ہیں

سیدنا ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی جبکہ لوگوں نے بخیلی کا ثبوت دیا۔ ناپسندیدہ حالات میں آپؓ ان کے ساتھ رہے، جبکہ لوگ بیٹھ گئے۔ سخت حالات میں اچھی صحبت کا ثبوت دیا۔ دو میں دوسرا، یار غار رہے، سیدنا ابوبکرؓ پر سکینت کا نزول ہوا، ہجرت میں آپؓ کے رفیق سفر رہے، اللہ کے دین اور امت میں آپؓ کے خلیفہ بنے، جب لوگوں نے ارتداد اختیار کیا آپؓ نے خلافت کا حق ادا کیا۔ آپؓ نے تو وہ کارنامہ انجام دیا جو کسی نبی کے خلیفہ نے نہیں دیا۔ آپؓ اس وقت اٹھے جب دوسرے لوگ کمزور پڑ گئے، نکلے جب لوگ بیٹھ گئے، قوی بن کر ابھرے جب لوگ کمزور ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کو اختیار کیا جب لوگ دنیا دار ہو گئے۔ آپؓ بالکل ویسے ہی تھے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جسم میں کمزور، اللہ کے دین میں قوی، اپنی ذات میں متواضع، اللہ کے نزدیک عظیم، لوگوں کی نگاہوں میں عظمت کے حامل، ان کے نزدیک بڑے، کسی کو آپؓ کے بارے میں کلام نہیں، کوئی آپؓ پر طعن وتشنیع کرنے والا نہیں، مخلوق کے لیے آپؓ کے پاس کوئی نازک پہلو نہیں تھا۔ کمزور وذلیل شخص آپؓ کے نزدیک قوی تھا جب تک کہ اس کا حق نہ دلا دیں، قریب و بعید سب اس میں برابر تھے۔ آپؓ کے نزدیک سب سے قریب وہ تھا جو اللہ کا سب سے زیادہ اطاعت شعار اور متقی ہو۔ حق، صداقت اور نرمی آپؓ کی شان تھی۔ آپؓ کی بات فیصلہ کن اور حتمی ہوا کرتی تھی۔ آپؓ کا حکم بردباری اور دور اندیشی پر مبنی ہوا کرتا تھا۔ آپؓ کی رائے علم و عزم کا پر تو ہوتی تھی۔ سیدنا ابوبکرؓ کے ذریعہ سے دین قائم ہوا، ایمان قوی ہوا، اللہ کا حکم غالب آیا۔ واللہ سیدنا ابوبکرؓ نے بڑی سبقت کی، اپنے بعد میں آنے والوں کو سخت تھکا دیا اور خیر کے ساتھ فوزمبین حاصل کی۔ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

اللہ کی قضا و قدر پر ہم راضی ہیں، اس کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں۔ واللہ! مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کی موت جیسی مصیبت نہیں آئی۔ سیدنا ابوبکرؓ دین کے لیے عزت و امان اور پناہ گاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا دے اور ہمیں سیدنا ابوبکرؓ کے اجر سے محروم نہ کرے اور سیدنا ابوبکرؓ کے بعد ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔‘‘

لوگ خاموشی کے ساتھ سیدنا علیؓ کی یہ باتیں سنتے رہے پھر جب سیدنا علیؓ نے اپنی بات مکمل کر لی تو لوگ رو پڑے اور رونے کی آواز بلند ہوئی اور سب نے کہا: سیدنا علیؓ نے جو کچھ کہا سچ کہا۔

صفحہ 2 از 3