نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ…

نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا متعدد کارروائیاں عمل میں لانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

بڑے مصائب وآلام جس سے امت دوچار ہوئی اس کا آغاز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوا، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فراست اور عمر رضی اللہ عنہ کو ولی عہد مقرر کرنے میں سیدنا ابوبکرؓ کے نقطہ نظر کی صداقت پر بہترین شاہد ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب فراست تین اشخاص تھے: وہ خاتون جس نے اپنے والد سے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا تھا: اے ابا جان! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجیے کیونکہ آپ جنہیں اجرت پر رکھیں ان میں سب سے بہتر ہے وہ جو قوی اور امانت دار ہو۔ یوسف علیہ السلام کا مالک جس نے اپنی بیوی سے کہا: اسے بہت عزت و احترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر فرمایا۔

(مجمع الزوائد: جلد 10 صفحہ 268، الحاکم: جلد 3 صفحہ 90، وصححہ ووافقہ الذہبی۔)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ امت کے لیے مضبوط بند تھے جس نے امت کو فتنوں کی موجوں سے محفوظ رکھا۔

(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ 100)

3۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے منصوبہ سے آگاہ کیا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عزائم کی خبر دی، انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں تلوار کی دھمکی سنائی، تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔

(مآثر الإنافۃ للقلقشندی: جلد 1 صفحہ 49)

4۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بحالت ہوش و حواس اپنی زبان سے لوگوں تک یہ بات پہنچانا چاہی تاکہ آپ کے بعد کسی طرح کا التباس نہ پیدا ہونے پائے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا: کیا آپ لوگ اس کو پسند کریں گے جس کو میں نے خلیفہ بنایا ہے؟ اللہ کی قسم میں نے غور و فکر میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور نہ میں نے اپنے کسی قرابت دار کو خلیفہ بنایا ہے۔ میں نے تمہارے اوپر عمر بن خطاب کو خلیفہ بنایا ہے، ان کی سنو اور اطاعت کرو۔ سب نے ایک زبان ہو کر کہا: ہم نے سن لیا اور ہم مطیع ہو گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 248)

5۔ سیدنا ابوبکرؓ دعا کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے، آپ اللہ سے سرگوشیاں کرنے لگے اور اپنی آرزوؤں کو ظاہر کرنے لگے۔ دعا کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں نے عمر کو تیرے نبی کے حکم کے بغیر خلیفہ بنایا ہے، اس سے میرا مقصود امت کی بھلائی ہے۔ مجھے ان پر فتنہ کا خوف ہوا، میں نے اپنی بساط بھر غور و فکر کیا اور ان پر ان میں سب سے بہتر اور ان کی ہدایت پر سب سے زیادہ حریص شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ اے اللہ! تیرا حکم مجھ پر آپہنچا ہے یہ تیرے ہی بندے ہیں، تو ان میں میرا خلیفہ ہو جا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 199، تاریخ المدینۃ لابن شبہ: جلد 2 صفحہ 665، 669 )

6۔ سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مکلف کیا کہ وہ لوگوں کو فرمان نامہ پڑھ کر سنائیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات سے قبل لوگوں سے عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بیعت لیں اور مزید توثیق کی خاطر فرمان نامہ پر مہر ثبت کی تاکہ کسی طرح کی سلبیات رونما نہ ہونے پائیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کر کے کہا: کیا اس فرمان نامہ میں جو ہے اس کے مطابق آپ لوگ بیعت کریں گے؟ سب نے کہا: ہاں، اور سب لوگوں نے اس کا اقرار کیا اور اس سے راضی ہوئے۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 200)

7۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات سے قبل ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بیعت لی گئی۔ جب فرمان نامہ پڑھ کر لوگوں کو سنایا گیا سب نے اس سے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا، اس کے بعد لوگ آگے بڑھے اور بیعت کی۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 272)

بیعت سیدنا ابوبکرؓ کی وفات کے بعد نہیں بلکہ سیدنا ابوبکرؓ کی زندگی ہی میں عمل میں آئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے فوراً بعد اپنی ڈیوٹی شروع کر دی۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 272)

محقق کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل حل و عقد کے اتفاق و ارادے سے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے ہی خلیفہ کا انتخاب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا اور اس سلسلہ میں ان کو اپنا نائب بنا دیا تھا۔ پھر آپ نے لوگوں سے مشورہ کر کے خلیفہ کی تعیین فرمائی پھر اس تعیین کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ سب نے اس کا اقرار کیا اور اس سے موافقت کی۔ اصحاب حل وعقد ہی حقیقت میں اس امت کے ممبر آف پارلیمنٹ ہیں لہٰذا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا استخلاف شورائیت کے انتہائی صحیح ترین اور عادلانہ اسلوب کے مطابق عمل میں آیا تھا۔

(ابوبکر الصدیق: علی الطنطاوی: صفحہ 237 )

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے انتخاب کے سلسلہ میں جو اقدامات کیے وہ شورائیت سے کسی صورت میں متجاوز نہیں تھے اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں جو کارروائیاں عمل میں آئیں وہ ویسی نہ تھیں جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں عمل میں لائی گئیں۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 273+

اس طرح شورائیت اور اتفاق رائے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے منتخب کیے گئے۔ اس کے بعد آپؓ کی خلافت کے سلسلہ میں تاریخ میں کوئی اختلاف رونما نہیں ہوا اور نہ آپؓ کی خلافت کے دوران میں کوئی آپ کا مدمقابل بن کر اٹھا، سیدنا عمرؓ کی خلافت کے دورانیہ میں آپ کی خلافت و اطاعت پر سب کا اجماع تھا۔ سب ایک تھے۔

(النظریۃ السیاسۃ الإسلامیۃ: ضیاء الریس: صفحہ 181 )

8۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلوت میں ہوئے اور ان کو اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتے ہوئے مختلف وصیتیں فرمائیں۔ امت کے لیے پوری کوشش و محنت کے بعد آپ نے یہ چاہا کہ جب رب العالمین سے ملیں تو ہر ذمہ داری سے بری ہوں۔

صفحہ 2 از 3