فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ…

فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

رہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ:’’جو لوگ اس نماز سے سو جاتے ہیں وہ افضل ہیں ‘‘ اس سے مراد آخری رات ہے۔ کیونکہ لوگ پہلے وقت میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ یہ کلام بالکل درست اور صحیح ہے۔اس لیے کہ اس نماز کے لیے رات کا آخری حصہ افضل ہے جیسے عشاء کی نماز کے لیے پہلا وقت افضل ہے۔ اور مفضول وقت کے ساتھ کبھی کوئی ایسا عمل خاص ہو سکتا ہے جس کا دوسرے وقت کی نسبت اسی وقت میں کرنا افضل ہو۔ جیسا کہ عرفات اورمزدلفہ میں دو دو نمازیں جمع کرکے پڑھنا ہی افضل ہے؛ کیونکہ اس کے سبب نے ایسا کرنا واجب کردیاہے۔ اگرچہ اصل یہ تھا کہ ظہر کو اس کے پہلے وقت میں ادا کرنا ہی افضل ہے لیکن گرمیوں کی شدت کی صورت میں اسے ٹھنڈا کرکے پڑھنا افضل ہے۔

جب کہ جمعہ کے دن زوال کے بعد نماز جمعہ پڑھ لینا افضل ہے۔ جمعہ کے دن ٹھنڈی ہونے تک کا انتظار کرنا افضل نہیں ۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں لوگوں پر مشقت ہے۔ عشاء کی نماز میں ایک تہائی رات تک تأخیر کرنا افضل ہے۔ ہاں اگر لوگ جمع ہوجائیں اور ان پر انتظار کرنا شاق گزررہا ہو تو پھر اس سے پہلے وقت میں ادا کرلینا افضل ہے۔ ایسے ہی اگر رمضان کے نصف کے بعد لوگوں کے اجتماع کا مسئلہ بھی ہے۔

سنن میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’دو آدمیوں کا مل کر نماز ادا کرنا اکیلے ادا کرنے کی نسبت زیادہ پاکیزہ ہے ۔‘‘ اور تین آدمیوں کا ملکر نماز پڑھنا اس سے زیادہ بہتر ہے۔ اور جتنا ہی یہ تعدادزیادہ ہوگی اللہ کے ہاں اتنی زیادہ محبوب ہے ۔‘‘[سنن أبي داؤد ‘کتاب الصلاۃ ‘ باب فضل صلاۃ الجماعۃ ۱؍۱۵۱۔ وسنن النسائي کتاب الإمامۃ باب: الجماعۃ إذا کانوا اثنین ۲؍۱۰۴۔ وصححہ الألبانی في صحیح الجامع الصغیر۲؍۲۵۴۔]

یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جب صبح کی نماز پڑھاتے تو اسے خوب روشنی تک جاری رکھتے ؛ تاکہ لوگوں کی زیادہ تعداد جمع ہوجائے ؛ اگرچہ افضل اندھیرے میں ہی نماز پڑھا لینا تھا۔ یہ بات نص اور اجماع سے ثابت ہے کہ کبھی مفضول وقت کسی ایسے فعل کے ساتھ خاص ہوتا جس کا کرنا اسی وقت میں افضل ہوتا ہے۔

جب کہ نماز چاشت کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کوئی خصوصیت نہیں ۔بلکہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ:آپ فرماتے ہیں :

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں ہر ماہ تین دن کے روزے رکھا کروں ‘ اور چاشت کی دو رکعت نماز پڑھا کروں ‘ اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں ۔‘‘[البخاری ‘ کتاب الصوم ‘ باب صیام أیام البیض۲؍۵۷۔ ومسلم ‘ کتاب صلاۃ المسافرین و قصرہا‘ باب استحباب صلاۃ الضحی ؛ ۱؍۴۹۹۔ سنن أبي داؤد ۲؍۸۹۔ کتاب الوتر ‘ باب في الوتر قبل النوم۔]

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسی روایت حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ نیزحضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ہر صبح تم میں سے ہر ایک کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے۔ ہر تسبیح کہنا صدقہ ہے؛اللہ کی حمد بیان کرنا صدقہ ہے؛ لا إلہ إلا اللّٰہ کہنا صدقہ ہے؛اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے؛ نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے؛ برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔اور ان تمام کی جگہ چاشت کی دو رکعت نماز کفایت کرجاتی ہیں ۔‘‘[مسلم ‘ کتاب صلاۃ المسافرین و قصرہا‘ باب استحباب صلاۃ الضحی ؛ ۱؍۴۹۹۔ سنن أبي داؤد ۲؍۴۸۹۔ کتاب التطوع ‘ باب في إماطۃ الأذي عن الطریق ۔ بروایۃ أبي ذر رضی اللّٰہ عنہ۔]


صفحہ 4 از 4