فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ…

فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

اسے امام احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی اور ابوداؤد نے بھی نقل کیاہے۔

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قیام کی ترغیب دیا کرتے تھے سوائے اس کے کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت تاکیدی حکم فرماتے ہوں ۔ اور فرماتے کہ جو آدمی رمضان میں ایمان اور ثواب سمجھ کر قیام کرے تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرما گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم اسی طرح باقی رہا ۔پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آغاز میں اسی طرح یہ حکم باقی رہا۔‘‘[صحیح مسلم: ح1774؛ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا؛ باب: الترغیب في قیام رمضان ھو التراویح]۔البخاری کتاب التراویح‘ باب: فضل من قام رمضان ۳؍۴۴۔]

امام بخاری نے عبد الرحمن بن عبد القاری سے روایت کیا ہے کہ میں رمضان کی ایک رات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد گیا۔ تو دیکھا لوگ ادھر ادھر منتشر تھے۔ کچھ لوگ انفرادی طور پر نماز میں مشغول تھے۔ چند آدمی نماز باجماعت ادا کر رہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میرا خیال ہے کہ میں ایک قاری کو مقرر کردوں ، جس کی اقتداء میں سب لوگ مل کر نماز ادا کیا کریں تو یہ بہتر ہوگا۔ چنانچہ آپ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو اس خدمت پر مامور فرمایا۔ پھر میں ان کے ساتھ دوسری رات نکلا تو لوگ قاری کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا: ’’یہ بڑی اچھی بدعت ہے، جس نماز سے تم سو رہتے ہو وہ اس سے بہتر ہے جو تم ادا کرتے ہو، آپ کا مطلب یہ تھا کہ رات کے آخری حصہ میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ [صحیح بخاری ، حوالہ سابق(حدیث:۲۰۱۰)۔ ]

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجتماعی قیام رمضان کو بدعت قرار دیا؛اس لیے کہ یہ اجتماع اس سے پہلے اس طرح سے نہیں ہواکرتا تھا۔کیونکہ جو کام شروع میں کیا جائے لغت کے اعتبار سے اسے بدعت کہتے ہیں ۔ یہ شرعی بدعت نہیں ہے ۔ اس لیے کہ شرعی بدعت جو کہ گمراہی ہے ؛ وہ بدعت ہے جس کی کوئی شرعی دلیل موجود نہ ہو۔جیسا کہ کسی ایسی چیز کو مستحب قراردیا جائے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہ کرتے ہوں ۔اورایسی چیز کو واجب کہناجو اللہ تعالیٰ نے واجب نہ کی ہو۔ اور ایسی چیز کو حرام قراردیناجسے اللہ تعالیٰ نے حرام نہ ٹھہرایا ہو ۔اس لیے کہ ان افعال کے بجالانے کے لیے خلاف شریعت اعتقادکا ہونا لازمی ہے۔ ورنہ اگر کوئی انسان کوئی حرام کام کررہا ہو اور اس کے حرام ہونے کا اعتقاد بھی رکھتا ہو تو اس کے اس فعل کو بدعت نہیں کہا جاسکتا۔

چوتھا جواب:....اگر قیام رمضان باجماعت کوئی مذموم اورقبیح فعل ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ جب امیر المؤمنین بن گئے تھے ؛ اور کوفہ آپ کا دار الخلافہ تھا تو کم از کم آپ کوفہ میں اسے بند کردیتے۔جب کوفہ میں بھی یہ فعل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی طرح ہی جاری رہاتویہ اس کے مستحب ہونے کی دلیل ہے۔بلکہ یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:’’اللہ تعالیٰ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبر کوایسے منور کرے جیسے آپ نے ہماری مسجدوں کو روشن کردیا۔‘‘[اسد الغابۃ(۴؍۱۸۳)۔ ]

ابو عبد الرحمن السلمی سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں قاریوں کو بلا کر ان میں سے ایک قاری کو حکم دیا کہ وہ انھیں بیس رکعات پڑھائے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انھیں و تر پڑھایا کرتے تھے۔[سنن کبریٰ بیہقی(۲؍۴۹۶)، وسندہ ضعیف۔ اس کی سند میں حماد بن شعیب راوی ضعیف و منکر الحدیث ہے۔ دیکھئے: لسان المیزان (۲؍۳۴۸)۔ ]

عرفجہ ثقفی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قیام رمضان کا حکم دیا کرتے تھے، ایک امام آدمیوں کے لیے مقرر کرتے اور ایک عورتوں کے لیے، میں عورتوں کا امام ہوا کرتا تھا۔[سنن کبری بیہقی (۲؍۴۹۴)، مصنف عبد الرزاق (۵۱۲۵)۔]امام بیہقی نے یہ دونوں روایتیں سنن میں نقل کی ہیں ۔

قیام رمضان کے متعلق علماء کرام میں اختلاف ہے؛ کیا یہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ہے؟ یہ اس کا گھر میں پڑھنا افضل ہے؟ اس میں دو قول مشہور ہیں ۔امام شافعی اورامام احمد رحمہما اللہ سے بھی یہی دو قول منقول ہیں ۔ایک گروہ مسجد میں باجماعت تراویح پڑھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ان میں امام لیث رحمہ اللہ بھی ہیں ۔ امام مالک رحمہ اللہ اور فقہاء کا ایک گروہ گھر میں یہ نماز پڑھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک ہے:

’’ فرائض کے علاوہ مردکی افضل ترین نمازوہ ہے جوگھر پر ادا کی جائے۔ ‘‘[البخاری کتاب الأذان ‘ باب صلاۃ اللیل۔ صحیح مسلم: کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا؛ باب: استحباب صلاۃ النافلۃ في بیتہ و جوازہا في المسجد۔]

امام احمداور دیگر علماء کرام رحمہم اللہ کی دلیل حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جس نے فارغ ہونے تک امام کیساتھ قیام کیا تو اس کا یہ قیام رات بھر کے قیام کے برابر [موجب اجر و ثواب] ہے۔‘‘

پہلی حدیث:....’’ فرائض کے علاوہ مردکی افضل ترین نمازوہ ہے جوگھر پر ادا کی جائے ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک اس نماز کے لیے جماعت مشروع نہ ہو‘ مگر جب جماعت مشروع ہوجائے جیسے : نماز کسوف‘وغیرہ۔ توپھر اس نماز کا مسجد میں ادا کرنا افضل ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔

نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس خوف کے تحت جمع نہ کیا تھا کہ کہیں یہ نماز باجماعت ادا کرنا فرض نہ ہوجائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب اس قسم کا کوئی احتمال باقی نہ رہا ۔ تو اب یہ بھی ایسے ہی ہے جیسے قرآن کا جمع کرنا وغیرہ [اس طرح کے دیگر امور] ۔

جب اس نماز میں جماعت اصل میں مشروعیت کا ثبوت رکھتی ہے تو پھر اسے باجماعت ادا کرنا ہی افضل ہے۔

صفحہ 3 از 4