فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ…

فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

نیز سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہوتے۔‘‘[سنن ترمذی، کتاب المناقب، باب (۱۷؍۵۲)،(ح:۳۶۸۶)۔ ]

[شہادت پانے کے بعد جب عمر رضی اللہ عنہ کو چار پائی پر رکھا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی تعریف فرمائی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اے کاش! آخری وقت میں مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اعمال کیساتھ بارگاہ ربانی میں پیش کیا جائے۔‘‘] [بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ (ح:۳۶۸۵) ،صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۹)۔]

شیعہ کے نزدیک نماز تراویح بدعت ہے:

[اعتراض]: شیعہ مصنف لکھتا ہے:تیرھواں سبب: ’’عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کی بدعت جاری کی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، لوگو! رمضان کی راتوں میں نفل نماز باجماعت بدعت ہے۔ چاشت کی نماز بھی بدعت ہے۔سنت میں سے بہت تھوڑی سی چیز بہت بڑی بدعت سے بہت بہتر ہے۔آگاہ ہوجاؤ! ہر بدعت گمراہی ہے اورہر گمراہی کا راستہ جہنم کو جاتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ رمضان میں رات کو نکلے تو مساجد میں چراغ جلتے دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہم نفلی نماز کے لیے جمع ہوئے ہیں ، فرمایا :یہ ہے تو بدعت مگر بہت اچھی بدعت ہے۔آپ نے اس کے بدعت ہونے کا اعتراف کیا ۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں : تمام گمراہ اور بدعتی فرقوں میں شیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کذب بیانی اور افتراء پردازی کرتے ہوئے نہیں جھجکتے اورانتہائی جرأت کے ساتھ شرم و حیاء کے جذبات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ۔اور ایسی ایسی باتیں گھڑ لاتے ہیں جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادنہیں فرمائیں ۔ اور انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں ۔اگر چہ ان میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ان روایات کے جھوٹ ہونے کا علم ہوتاہے۔ اورجس کو اتنا بھی علم نہ ہو ‘ وہ انتہائی پرلے درجہ کا جاہل ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہا گیاہے : 

((إن کنت لا تدری فتلک مصیبۃ و إن کنت تدری فالمصیبۃ أعظم۔))

’’اگر آپ نہیں جانتے تو یہ بھی ایک مصیبت ہے۔ اور اگر جانتے ہیں تو پھر مصیبت اس سے بھی بڑی ہے ۔‘‘

اس اعتراض کا جواب کئی زاویوں سے دیا جاسکتا ہے:

پہلا جواب: ....ہم اس روایت کی صحیح سند پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے؟ اس کی سند کہاں ہے ؟ اور مسلمانوں کی کتابوں میں سے کس کتاب میں اس کو روایت کیاگیا ہے؟ اور اہل علم میں سے کس نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے؟

دوسرا جواب :....تمام اہل علم محدثین کا اتفاق ہے ‘ اوروہ علم ضروری کے طور پر جانتے ہیں کہ یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر من گھڑت جھوٹ ہے۔ جس انسان کو حدیث کا ادنیٰ سا بھی علم ہو وہ اس حدیث کے جھوٹ ہونے کو جانتا ہے۔ مسلمانوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنی کسی ایک کتاب میں بھی اس روایت کو نقل نہیں کیا ۔ نہ ہی صحاح میں ؛ نہ ہی سنن میں ؛ نہ ہی مسانید اور معجمات میں اور نہ ہی اجزاء میں ۔اور نہ ہی اس کی کوئی سند معروف ہے۔نہ ہی ضعیف سند نہ ہی صحیح۔ بلکہ یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔

تیسرا جواب:....احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ عہد رسالت میں لوگ رمضان کی راتوں میں نماز تراویح ادا کیا کرتے تھے ۔ [معرفۃ السنن والآثار للبیہقی (۲؍۳۰۳،ح:۱۳۶۳)۔] احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے دو یا تین راتوں میں لوگوں کو باجماعت تراویح کی نماز پڑھائی تھی۔ صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: 

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان کی)ایک رات آدھے حصہ میں نکلے۔ آپ نے مسجد میں نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ صبح کو لوگوں نے اس کا ایک دوسرے پر چرچا کیا۔ دوسرے دن اس سے زیادہ لوگ جمع ہوئے۔ اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر صبح ہوئی تو اس کو لوگوں نے ایک دوسرے سے بیان کیا۔ تیسری رات میں اس سے زیادہ آدمی جمع ہوئے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ نے نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔جب چوتھی رات آئی تو مسجد میں لوگوں کا اس میں سمانا دشوار ہو گیا لیکن آپ صبح کی نماز کے لیے نکلے جب صبح کی نماز ادا کی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:’’امابعد! مجھ سے تم لوگوں کی موجودگی پوشیدہ نہیں تھی، لیکن مجھے خوف ہوا کہ کہیں تم پر فرض نہ ہو جائے، اور تم اس کے ادا کرنے سے عاجز آجا ؤ۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حالت یہی رہی۔‘‘[البخاری، کتاب صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان(ح:۲۰۱۲)، صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین، باب الترغیب فی قیام رمضان (ح:۷۶۱)۔]

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :

’’ہم نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان بھر روزے رکھے۔ آپ ہمارے ساتھ ایک بھی تراویح میں کھڑے نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ رمضان کی سات راتیں باقی رہ گئیں ۔ ساتوں شب کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ رات کا تہائی گزر گیا۔ اس کے بعد چھٹی رات قیام نہ فرمایا۔ پھر اسکے بعد پانچویں شب آدھی رات تک قیام کیا ۔ میں نے کہا: یارسول اللہ ! اگر آپ ہمارے ساتھ نفل پڑھیں (تو کیا خوب ہو)۔

آپ نے فرمایا: ’’ جس نے فارغ ہونے تک امام کیساتھ قیام کیا تو اس کا یہ قیام رات بھر کے قیام کے برابر (موجب اجر و ثواب) ہے۔ پھر اسکے بعد چوتھی قیام نہ فرمایا پھر اسکے بعد والی یعنی شب کو آپ نے ازواج اور گھر والوں کو جمع فرمایا اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا یہاں تک کہ ہمیں فلاح فوت ہو جانے کا اندیشہ ہونے لگا۔ عرض کیا فلاح کیا چیز ہے ؟ فرمایا:’’ سحری کا کھانا۔ فرماتے ہیں پھر آپ نے باقی مہینہ ایک رات بھی قیام نہ فرمایا۔‘‘ [سنن أبی داؤد ۲؍۶۸۔ کتاب تفریع أبواب شہر رمضان‘ باب في قیام في شہر رمضان۔ سنن الترمذي ۲؍۱۵۰؛ کتاب الصوم ‘ باب: ماجاء في قیام شہر رمضان۔ وقال الترمذي : حسن صحیح ۔ سنن النسائی ۳؍۲۰۲؛ کتاب قیام اللیل‘ باب : قیام شہر رمضان۔[سنن ابن ماجہ: ح1327]

صفحہ 2 از 4