فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ…

فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....[حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا]

[اعتراض]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:بارھواں سبب : ’’عمر نے کہا تھا کہ محمد فوت نہیں ہوئے، یہ بات ان کے قلیل العلم ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حاملہ عورت کو سنگ سار کرنے کا حکم دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، تب عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ اگر علی نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتا۔ان کے علاوہ دیگر کئی احکام و مسائل ہیں جن میں آپ نے غلطی کی اور کئی رنگ بدلے ۔‘‘ 

[جواب]:پہلی بات: صحیحین میں ثابت ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اُمَمِ سابقہ میں کچھ لوگ مُلہم ہوا کرتے تھے۔ میری امت میں اگر کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں ارشاد نہیں فرمائی۔ اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’حالت خواب میں مجھے دودھ کا ایک پیالہ پیش کیا گیا میں نے خوب سیر ہو کر پیا یہاں تک کہ سیری کا اثر میرے ناخنوں میں ظاہر ہونے لگا جو دودھ بچ گیا وہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ نے دریافت کیا: پھر آپ نے اس خواب کی کیا تعبیر فرمائی؟ فرمایا:’’ دودھ سے علم مراد ہے۔‘‘ [البخاری(۳۶۸۱) مسلم (۳۶۹۱)

[قبل ازیں بھی دلائل و براہین کی روشنی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علمی مقام واضح کر چکے ہیں کہ] حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد اَعلم الناس تھے۔ باقی رہا یہ کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ گمان کیا کہ آپ فوت نہیں ہوئے، تو یہ ایک لمحہ کے لیے تھا۔ فوری طور پر ان پر منکشف ہو گیا تھا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں ۔ایسے واقعات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی پیش آئے تھے کہ انھوں نے ایک رائے قائم کی اور وہ غلط نکلی؛ بلکہ آپ کے بہت سارے قصے ایسے ہیں جو خلاف واقعہ نکلے؛ اور آپ کا انتقال اسی حال میں ہوگیا۔ اس سے ان کی امامت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔مثال کے طور پر مفوضہ کے مہر کے مسئلہ میں آپ کا فتوی کہ اگر مفوضہ مر جائے اوراس کا مہر مقرر نہ ہوا ہو۔ اور اس طرح کے دیگر مسائل جو کہ اہل علم کے ہاں معروف ہیں ۔

جب کہ حامل کا مسئلہ بہت آسان ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ تھا کہ وہ عورت حاملہ ہے۔اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کوئی غلطی نہیں ،ہوسکتا ہے کہ جب آپ نے رجم کرنے کا حکم دیاہو تو آپ کو اس کے حامل ہونے کا علم نہ ہو؛ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے آگاہ کردیا ہو۔ توآپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو میں اس کو رجم کردیتا اوراس کا جنین بھی قتل ہوجاتا ۔ اس چیز کا آپ کو خوف محسوس ہوا۔

اگر یہ بات مان لی جائے کہ آپ حامل کو رجم کرنا جائز سمجھتے تھے؛ تو یہ ایسا حکم ہے جو مخفی بھی رہ سکتا ۔شریعت میں تو زانیہ کے قتل کرنے کا حکم ہے۔ حمل تو اس عورت کے تابع ہے۔جیسا کہ اگر کفار کا محاصرہ کرلیا جائے [تو پھر اس میں بچے بھی قتل ہو جاتے ہیں ] جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کرکے ان پر منجنیق سے پتھر برسائے تھے۔ جس میں عورتیں اور بچے بھی قتل ہوئے۔

صحیح حدیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : ’’ اگر کافروں کی بستی پر شبخون مارا جائے ‘ اوران کی عورتیں اور بچے قتل ہوجائیں تو ؟ آپ نے فرمایا: ’’ وہ انہی میں سے ہیں ۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔

یہ بات علماء کرام کی ایک جماعت پر مشتبہ ہوگئی ؛ اس لیے انہوں نے شبخون مارنے سے منع کردیا ؛ اس خوف سے کہ کہیں عورتیں اور بچے قتل نہ ہوجائیں ۔

ایسے ہی یہ بات بعض ان لوگوں پر بھی مشتبہ رہتی ہے جو اسے جائز سمجھتے ہیں ۔مثلاً وہ کہتے ہیں : رجم ایسی حد ہے جسے فوراً نافذ کرنا چاہیے ؛ اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں ۔ لیکن سنت نے ان دونوں چیزوں میں تفریق کی ہے ؛ جس میں تاخیر ممکن ہے جیسے حد ؛ اور جسے فوری طور پر کر گزرنا چاہیے جیسے محاصرہ اور شبخون وغیرہ ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ تو عام لوگوں کی طرف بھی رجوع کرلیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ مہر کے مسئلہ میں جب ایک عورت نے کہا: کیا ہم آپ کی بات سنیں یا اللہ تعالیٰ کی بات سنیں ؟آپ نے فرمایا نہیں : اللہ تعالیٰ کی بات سنو ؛ تو اس عورت نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰلہُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا ﴾ [النساء۲۰]

’’ اور ان میں کسی کو تم نے خزانے کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو ۔‘‘

تو آپ نے فرمایا: ’’ مرد سے خطأ ہوگئی اور عورت حق کو پہنچ گئی ۔‘‘

ایسے ہی آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بھی رجوع کیا کرتے تھے؛ حالانکہ آپ خود ان سب سے بڑے عالم تھے۔ سو جب کو ئی بڑا اور علم والا انسان اگر اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کی طرف کسی چیز میں رجوع کرے تو اس سے اس کی شان میں اور بڑا عالم ہونے میں قدح واقع نہیں ہوتی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر سے تین مسائل سیکھے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہدہد نے بلقیس کی خبر دی تھی۔

صحابہ میں کتنے ہی ایسے لوگ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سارے معاملات میں مشورہ دیا کرتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ صحابہ میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوعکیا کرتے تھے۔ یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ قرآن کریم کی متعدد آیات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تائید و موافقت میں نازل ہوئیں ؛ جیسے پردہ ‘ بدر کے قیدیوں کا مسئلہ ؛ اور مقام ابراہیم کو مصلی بنانے کا ارادہ ؛ او رعسی ربہ إن طلقکن اور اس طرح کے دیگر مسائل میں موافقت ۔

یہ مقام و شرف نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا اور نہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ۔

سنن ترمذی میں روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر میں تم لوگوں میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر مبعوث ہوتا ۔‘‘

صفحہ 1 از 4