قائد کے حقوق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

قائد کے حقوق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 7)

اس طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر اسلام کی قیادت ایک قائد کے حوالے کی اور اس کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تاکہ آراء مختلف نہ ہوں اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اس کی تاکید فرمائی، فرمایا: تم شام میں ہمارے امراء میں سے ہو لیکن اگر جنگ ہو تو تمہارے امیر ابوعبیدہ بن جراح ہوں گے۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 48)

سیدنا ابوبکرؓ کی یہی رائے فتح عراق کے قائدین سے متعلق بھی تھی چنانچہ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں سر زمین عراق میں تمہارے پاس خالد بن ولید کو بھیج رہا ہوں، جب تک وہ تمہارے ساتھ وہاں رہیں وہ امیر ہوں گے، اگر وہ وہاں سے چلے جائیں تو پھر تم امیر ہو۔ والسلام علیک! 

(الوثائق السیاسۃ: حمید اللہ صفحہ 371)

اس کی فرمانبرداری میں سبقت

حروب ارتداد میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کذاب کے سلسلہ میں لکھا اور انہیں اس کے مقابلہ میں جانے کا حکم فرمایا۔ خط ملتے ہی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع فرمایا اور خلیفہ کا خط ان کو پڑھ کر سنایا اور ان کی رائے معلوم کی۔ لوگوں نے یک زبان ہو کر یہ کہا: رائے آپ کی رائے ہے ہم میں سے کوئی آپؓ کے احکام کی مخالفت نہیں کرے گا۔

( الفتوح: ابن اعثم: جلد 1 صفحہ 29)

اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو عراق میں اقامت کے دوران میں خط تحریر فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی آدھی فوج کو لے کر شام روانہ ہو جائیں اور آدھی فوج کو مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے لیے چھوڑ دیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی مکمل پابندی کی اور فوج کو دو مساوی حصوں میں تقسیم کر دیا۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: سلیمان آل کمال: جلد 1 صفحہ 112)

اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کیا کہ وہ قضاعہ کے علاقہ سے نکل کر یرموک پہنچ جائیں، انہوں نے ایسا ہی کیا۔ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح اور یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو شام روانہ کیا اور انہیں حکم فرمایا کہ وہ حملہ آور ہوں لیکن شام کے اندر نہ گھسیں تاکہ ان کے پیچھے سے دشمن گھیراؤ نہ کر سکے۔ تمام قائدین اور لشکر نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعلیمات اور اوامر کی مکمل پابندی کی۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 113)

مال غنیمت کی تقسیم میں اس سے اختلاف نہ کیا جائے

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مال غنیمت کی تقسیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کو اختیار کیا چنانچہ معرکہ یمامہ کے اختتام کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکرؓ کو فتح اور مال غنیمت کی خوشخبری بھیجی تو سیدنا ابوبکرؓ نے ان کو لکھا

’’مال غنیمت اور جنگی قیدیوں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بنو حنیفہ کا مال عطا کیا ہے وہ سب جمع کرو اور اس میں سے خمس نکال کر میرے پاس بھیج دو تاکہ اسے یہاں ہمارے پاس موجود مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا جائے اور باقی تمام حق داروں کے درمیان ان کے حق کے مطابق تقسیم کر دو۔ والسلام‘‘

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے تمام قائدین مال غنیمت کی تقسیم میں ایسا ہی کرتے تھے۔ تقسیم کے سلسلہ میں فوج نے کبھی کسی

طرح کا اختلاف نہ کیا۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 120)


صفحہ 2 از 2