قائد کے حقوق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

قائد کے حقوق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر و رعایا پر قائدین و امراء کے حقوق بیان کیے۔ ان کی اطاعت کو لازم پکڑنا، ان کے حکم کی بجا آوری میں جلدی کرنا، مال غنیمت کی تقسیم وغیرہ میں ہرگز اختلاف نہ کرنا۔

اس کی اطاعت کا التزام

جس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو خطاب خلافت میں سب سے پہلی چیز جس سے مسلمانوں کو آگاہ فرمایا وہ یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل پیرا ہوں گے اور سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں اطاعت کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا: جان لو، جو اعمال تم اللہ کے لیے بھیجتے ہو وہ تمہاری اطاعت شعاری ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 44)

اور اپنے قائدین پر ایک دوسرے کی اطاعت کو لازم قرار دیا چنانچہ مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ کو لکھا: میں نے تمہاری طرف سرزمین عراق میں خالد بن ولید کو بھیجا کیا ہے، تم اپنی قوم کے لوگوں کے ساتھ ان کا استقبال کرو اور ان کا بھرپور ساتھ دو اور تعاون کرو، ان کے کسی حکم کو نہ ٹالنا اور ان کی کسی رائے کی مخالفت نہ کرنا کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی صفت اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کرتے ہوئے فرمایا:

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ (سورۃ الفتح آیت 29)

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 60، 61)

ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام کی فتح پر روانہ ہونے والی افواج کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ سے تم پر انعام فرمایا اور جہاد کے ذریعہ تمہیں عزت بخشی اور اس دین کے ذریعہ تمام ادیان پر تمہیں فضیلت بخشی۔ لہٰذا اللہ کے بندو! شام میں رومیوں سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ میں تم پر امراء مقرر کروں گا اور پرچم متعین کروں گا لہٰذا تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور اپنے امراء کی مخالفت مت کرو۔ تم اپنی نیتوں کو خالص کرو اور تمہارا کھانا پینا حلال ہو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو نیکو کار ہیں۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 5)

ان لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ کا جواب ان الفاظ میں دیا: آپؓ ہمارے امیر ہیں اور ہم آپؓ کی رعایا ہیں۔ حکم دینا سیدنا ابوبکرؓ کا حکم اور اطاعت کرنا ہمارا کام۔ ہم سیدنا ابوبکرؓ کے حکم کے مطیع وفرمانبردار ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ جدھر بھیجیں ہم ادھر کے لیے تیار ہیں۔

(الفتوح لابن اعثم: جلد 1 صفحہ 82)

جس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شامی فوج کی امارت خالد رضی اللہ عنہ کو سونپی تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی بات سنیں اور ان کی اطاعت کریں کیونکہ وہ زیرک اور جنگی امور کے ماہر ہیں اور جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شام پہنچے تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر پرچم کے حامل کو حکم دیں کہ وہ ان کی اطاعت کریں۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن قیس کو حکم دیا، وہ لوگوں میں گھوم گھوم کر نئے سالار اعظم خالد رضی اللہ عنہ کی اطاعت کا اعلان کرتے تھے۔ لوگوں نے ان کی سمع و اطاعت کو اختیار کیا۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 189)

اپنے آپ کو اس کی رائے کے تابع کر دیں:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے 

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ (سورۃ النساء آیت 83)

ترجمہ: اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے۔ اور (مسلمانو) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔

یہاں پر اللہ تعالیٰ نے رعایا کا اپنے امور و مسائل کو ذمہ دار کے سپرد کرنے کو حصول علم اور رائے کی درستی کا ذریعہ بتلایا ہے اور اگر ذمہ دار پر کوئی چیز مخفی رہ جائے جس کی صحت رعایا کے سامنے واضح ہو جائے تو وہ اس کو اس سے بیان کریں اور اس کو مشورہ دیں۔ اسی لیے مشورہ کا حکم دیا تاکہ صحیح بات کو اختیار کیا جا سکے۔

(الاحکام السلطانیۃ للماوردی: صفحہ 48)

خلافت صدیقی میں ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کے امراء وقائدین کو شام کی طرف روانہ فرمایا اور فوج کا معاملہ ان کے حوالے کیا اور ان سے فرمایا: اے ابوعبیدہ، معاذ، شرحبیل، یزید! تم اس دین کے محافظ ہو۔ میں نے اس لشکر کا معاملہ تمہارے حوالے کیا ہے تم اس سلسلہ میں کوشش کرو اور ثابت قدم رہو اور اپنے دشمن کے مقابلہ میں ایک ہو جاؤ۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 7)

پھر سیدنا ابوبکرؓ نے قائدین کو لشکر کے حالات کا خیال رکھنے اور ان کے ساتھ اخلاص کا برتاؤ کرنے اور اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کا حکم فرمایا تاکہ ان کی آراء مختلف نہ ہوں۔

(الفتوح ابن اعثم: جلد 1 صفحہ 84)

اور مزید فرمایا: جب تم شام پہنچ جاؤ اور دشمن سے سامنا ہو اور ان سے قتال پر تمہارا اتفاق ہو جائے تو تمہارے امیر ابوعبیدہ ہوں گے اور اگر ابوعبیدہ تم تک نہ پہنچ سکیں اور دشمن سے قتال ناگزیر ہو جائے تو تمہارے امیر یزید بن ابی سفیان ہوں گے۔

صفحہ 1 از 2